حکومت نے مزید 50 اہم گرفتاریوں کا ذکر کیا جس کے بعد چوروں نے اسٹاک ایکسچینج سے پیسہ نکالنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے

0
268

حکومت نے مزید 50 اہم گرفتاریوں کا ذکر کیا جس کے بعد چوروں نے اسٹاک ایکسچینج سے پیسہ نکالنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے۔

جب جنرل راحیل شریف آرمی چیف تھے تو انہوں نے حکومت کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت معاشی دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی، مگر حکومت کی طرف سے یہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے، وہ اس لیے کہ یہ معاشی دہشت گرد کھربوں روپے اسٹاک ایکسچینج سے نکال لیں گے، اور ڈالر مہنگے ہونے کی صورت میں عوام یہی سمجھیں گے کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایسا ہوا۔

اگر حکومت اس وقت یہ سخت اقدام اٹھا لیتی تو وقتی طور پر پاکستان کو مشکل وقت دیکھنا پڑتا مگر حکمرانوں نے اس وقت اپنی حکومت بچائی مگر آج کے وزیراعظم نے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ واضح طور پر بتایا تھا کہ اب جو ہم کرنے جارہے ہیں مشکل وقت آئیگا اور اس آزمائش میں ہر پاکستانی کو پورا اترنا ہوگا۔

50 بڑے کرپٹ ترین لوگوں کو پکڑنے کا عندیہ دیتے ہیں پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج میں مندی دیکھی گئی، جو کہ واضح ثبوت ہے کے بڑے مگرمچھ اپنا پیسہ نکال رہے ہیں۔ اور اس کا نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے۔

یہ پیسہ جو کرپشن کی نذر ہوا یہ واپس خزانے میں لانے کے لیے وقت درکار ہے کیونکہ عدالتی نظام کے تحت ان لوگوں کو سزائیں ہوگی اور پھر اس کے بعد یہ پیسہ ریکور کیا جائے گا۔ مگر اس وقت تک جو نقصان پاکستان کو ہو گا وہ پورا کرنے کے لئے حکومت پاکستان قرضہ لینے جا رہی ہے۔

میں حکومت کا وکیل تو نہیں مگر اپنی سوچ بچار سے کام لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پچھلے حکمرانوں کے قرضہ لینے اور موجودہ حکمرانوں کے قرضہ لینے میں بہت فرق ہے۔ اگر قرضہ لے کر غیر ضروری پروجیکٹس شروع کیے جائیں تو وہ قرضہ ملک اور قوم کو بہت نقصان دیتا ہے جبکہ قرضہ وقتی حل ہوتا ہے اور اسے کاروبار شروع کرنے کے لیے استعمال ہونا چاہیے تاکہ وہ کاروبار بعد میں پیسہ کما کر قرضہ واپس کرنے کے قابل ہو جائے۔ اور اب ایسا ہی ہونے جا رہا ہے۔ وقتی طور پر پاکستان بہت مشکل حالات دیکھنے والا ہے مگر اس کے بعد انشاءاللہ پاکستان اپنا پورا قرضہ اتارنے کے قابل ہو جائے گا اور پاکستان کے بند کاروبار چل پڑیں گے۔
تحریر: یاسر حسین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here