حوثی باغیوں کا محاصرہ کر کے سعودی ملٹری الائنس نے عرب ایران تعلقات میں دراڑ پڑنے کی راہ روک رکھی ہے۔

0
392

سعودی ملٹری اتحاد کے چیف پاکستان کے سابق آرمی چیف ہیں اور وہ الائینس اس وقت یمن کا محاصرہ کیے ہوئے ہے۔ یعنی کہ حوثی باغیوں کو کسی بھی قسم کی ایسی کاروائی سے باز رکھے ہوئے ہے جو عرب ایران جنگ کا باعث بن سکے۔ واضح رہے کہ جب حوثی باغیوں کا ذکر ہوتا ہے تو فوری طور پر ہمارا زہن ایران کی طرف چلا جاتا ہے۔ جب جس طرح تحریک طالبان پاکستان ہمارے ملک میں بہ یک وقت بھارت اور امریکہ کے ہاتھوں استعمال ہو رہی تھی اسی طرح حوثی باغی بھی ایران کے علاوہ ان طاقتوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں جو عرب ایران کو نزدیک نہیں آنے دینا چاہتیں۔ لہٰذا حوثی باغیوں کا محاصرہ کر کے سعودی ملٹری الائنس نے عرب ایران تعلقات میں دراڑ پڑنے کی راہ روک رکھی ہے۔
دوسری طرف پاکستان کے موجودہ آرمی چیف ایران کے دورہ پر جا کر ایرانی صدر اور آرمی چیف کو بھی اعتماد میں لے چکے ہیں۔ اور اس بات کو واضح کیا ہے کہ پاکستان عرب اور ایران کے درمیان جنگ نہیں بلکہ صلح چاہتا ہے۔ لہٰذا ایران اس بات سے بالکل فکر مند نہ ہو کہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر پاکستان ایران کے خلاف کسی کاروائی کی حصہ بنے گا۔ یہ بات امریکہ اور خاص طور پر اسرائیل کےلیے سخت تکلیف دہ ہے۔ اس لیے کہ اگر سعودی عرب امریکہ کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے تو امریکہ اور اسرائیل دونوں کو ایران کے خلاف آدھی مسلم دنیا کی حمایت مل جائے گی اور یوں مسلمانوں کے ہاتھ سے مسلمان کا گلہ کٹوانے کا کھیل ایک دفعہ پھر شروع ہو جائے گا۔ اس کے برعکس سعودیہ اور ایران اگر اکھٹے ہو جاتے ہیں تو امریکا مسلم دنیا میں تنہا رہ جائے گا۔ اسی طرح اگر وہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو پھر مسلم دنیا میں سے کوئی اس کا ساتھ نہیں دے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ عرب ایران اتحاد ہوتا ہے تو شام و عراق میں امن ہو جائے گا۔ اور امریکہ جو اربوں روپے کا اسلحہ سعودیہ کو فروخت کرتا ہے وہ بکنا بھی بند ہو جائے۔ پھر ہو گا یہ پاکستان، سعودیہ ایران ترکی چین اور روس یہ چھ ممالک ایک بلاک میں آ جائیں گے۔ جب کہ دوسرے بلاک میں امریکہ اسرائیل اور یورپی طاقتیں ہوں گی۔ اس کے علاوہ تیل کی وہ سپلائی چین بھی ٹوٹ جائے گی جو عرب ریاستوں سے شروع ہو کر امریکہ تک جاتی ہے اور امریکہ کی اقتصادی اور معاشی طاقت میں سب سے مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔
اس منظر نامے میں امریکہ کو اپنا بھیانک مستقبل صاف دکھائی دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ ہنگامی بنیادوں پر ایسے اقدامات کا خواہش مند ہے کہ سعودیہ ہر صورت میں امریکی کیمپ جوائن کرے۔ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی بہتری بھی اسی سازش کا نتیجہ ہیں۔ اور سعودی عرب میں سے امریکہ مخالف لوگوں کی گرفتاریاں بھی اسی پلان کا حصہ ہیں۔ پاکستان اپنے طور پر سعودیہ اور ایران کو نزدیک لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہو گئی تو کم سے کم امت میں سے فرقہ ورانہ جنگ کا خاتمہ ضرور ہو جائے گا۔ دعا ہے اللہ ہم مسلمانوں کو امن سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here