حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے خلاف اعلان جہاد کرنے والے جن گروہوں کو اسلام سے خارج یا خوارج قرار دیا گیا تھا ان کے کچھ بنیادی نظریات یا عقیدے یہ تھے ۔۔۔

مان لیتے ہیں کہ خوارج کے متعلق جو احادیث ہیں وہ ضعیف ہونگی اور ان گروہوں کے ساتھ انکی مطابقت محض اتفاقیہ ہوگی۔ لیکن خوارج کے ساتھ انکی اس مماثلت کو آپ کیا کہیں گے ؟؟ کیا یہ بھی محض اتفاق ہے ؟؟؟؟

0
575

 کہتے ہیں کہ دور جدید میں جن گروہوں نے مسلمان ممالک کے خلاف اعلان جہاد کر رکھا ہے انکو خوارج یا باطنی فرقے قرار دینا غلط ہے ۔۔۔ واللہ اعلم ۔۔۔!
Image may contain: 3 people, beard
لیکن کچھ باتیں خاصی دلچسپ اور قابل غور ہیں۔

حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے خلاف اعلان جہاد کرنے والے جن گروہوں کو اسلام سے خارج یا خوارج قرار دیا گیا تھا ان کے کچھ بنیادی نظریات یا عقیدے یہ تھے ۔۔۔

1 ۔۔۔۔ تمام مسائل کی جڑ یہ ہے کہ خلافت یا حکومت کرنے والے حکمران صحیح نہیں ہیں اس لیے موجودہ تمام خلفاء یا حکمرانوں کے خلاف جہاد فرض ہے ۔

2 ۔۔۔۔ ان حکومتوں کے ہاتھ پر بعیت کرنے والی عوام بھی ان کے ساتھ ہیں اور ان کا قتل کرنا جائز ہے ۔

3 ۔۔۔ جب تک مسلمان ریاستوں کو ٹھیک نہ کر لیں تب تک کفار کے خلاف جہاد کی ضرورت نہیں ( خوارج کفار کے خلاف جہاد نہیں کرتے تھے )

4 ۔۔۔۔۔ گناہ کبیرہ کرنے والے لوگ مسلمان نہیں رہتے لیکن کافر بھی نہیں ہوتے بیچ کی حالت میں رہتے ہیں۔

انکے علاوہ حسن بن صبا جس کو مٖغرب آج تک ہیرو کہتی ہے کے فرقے کو پورا عالم اسلام باطنی اور غیر مسلم فرقہ کہتا ہے ۔ اسکے پیروکاروں کو فدائین کہا جاتا تھا جو مسلمانوں پر فدائی حملے کرتے تھے ۔ انکو نشے ، عورتوں کی رغبت ، جنت کے مصنوعی نظارے اور ہپناٹزم کی تیکنیکس سے فدائی حملوں پر تیار کیا جاتا تھا۔

ان خوارج اور باطنی فرقوں نے عالم اسلام کو بے پناہ نقصان پہنچایا تھا اور ہمیشہ کے لیے عالم اسلام کی بنیادیں ہلا دی تھیں ۔

جدید دور میں بھی کچھ گروہوں نے مسلمان ممالک کے خلاف اعلان جہاد کر رکھا ہے انکے کچھ بنیادی نظریات یا عقائد یہ ہیں۔

1 ۔۔۔ تمام مسائل کی جڑ حکمرانوں کا صحیح نہ ہونا ہے اسلئے موجودہ تمام حکمرانوں کے خلاف جہاد فرض ہے ۔

2 ۔۔۔۔ ان حکمرانوں کو ووٹ دینے والی عوام بھی انہی کی طرح منافق ہے اور انکا قتل کرنا جائز ہے ۔

3 ۔۔۔ کفار کے خلاف جہاد کرنے سے پہلے اسلامی ملکوں کو درست کرنا ضروری ہے یعنی اسلامی ملکوں کے خلاف جہاد پہلے کیا جائے ۔
( ٹی ٹی پی اور اسکے حامی کشمیر کے جہاد کو سرکاری جہاد کہتے ہیں اور جائز نہیں سمجھتے ۔ افغان مجاہدین کے خلاف باقاعدہ لڑتے ہیں اور افغانستان میں جہاد سے پہلے پاکستان کے جہاد کو ضروری قرار دیتے ہیں اسی طرح داعش اسرائیل کے خلاف جہاد کو درست نہیں سمجھتی ابو بکر بغدادی نے اعلان کر رکھا ہے کہ ” اللہ نے ہمیں اسرائیل کے خلاف لڑنے کا حکم نہیں دیا ” اسی طرح داعش حماس کے اسرائیل کے خلاف جہاد کو غلط کہتی ہے )

4 ۔۔۔ موجودہ مسلمان ممالک کو اسلامی ممالک نہیں کہہ سکتے لیکن انکو کافر ممالک بھی نہیں کہینگے بس بیچ کی حالت میں ہیں ۔

یہ بھی اپنے جنگجوؤں کو فدائین کہتے ہیں اور اپنے حملوں کو فدائی حملے ۔ بہت سی رپورٹوں اور پکڑے جانے والے ان فدائین کے انٹرویوز دستیاب ہیں جنکے مطابق ان کو فدائی حملوں پر تیار کرنے کے لیے نشہ ، عورتوں کی رغبت ، جنت کے مصنوعی نظارے اور ہپناٹزم کی تیکنیکس استعمال کی جاتی ہیں ۔
( ہپناٹزم یا مائند کنٹرول پر مغرب میں جو کام ہو رہا ہے وہ ہوش اڑا دینے والا ہے ۔ کبھی اس پر تحقیق کیجیے گا )

ان گروہوں نے اسلامی ممالک کے اندر جو اودھم مچا رکھا ہے اس سے پورا عالم اسلام ایک زلزلے کی سی کیفیت میں ہے ۔ انہوں نے ” دعوت ” جیسے کام کی بھی کمر توڑ دی ہے جس کو آج تک کوئی نقصان نہیں پہنچا سکا تھا ۔۔

ایک بڑے تبلیغی امیر میرے بہت اچھے دوست ہیں اس نے بتایا کہ ۔ ۔۔ ” بیرون ملک سے ہم جو وصولیاں (غیر مسلموں کو مسلمان کرنا) کرتے تھے ان میں اتنی کمی آگئی ہے کہ حوصلہ شکن ہے ۔ پہلے کفار ہمارے حلیے دیکھ کر اور قرآن سن کر ہی مسلمان ہو جایا کرتے تھے ۔ اب ہم جاتے ہیں تو ہمارے حلیے دیکھ کر اور قرآن سن کر کہتے ہیں کہ ہاں تمھاری ویڈیوز دیکھی ہیں۔ تمھارے جیسے حلیے والے یہی قرآن پڑھتے ہوئے ذبح کرتے ہیں اور یہ کہہ کر نفرت سے دور چلے جاتے ہیں “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مان لیتے ہیں کہ خوارج کے متعلق جو احادیث ہیں وہ ضعیف ہونگی اور ان گروہوں کے ساتھ انکی مطابقت محض اتفاقیہ ہوگی۔ لیکن خوارج کے ساتھ انکی اس مماثلت کو آپ کیا کہیں گے ؟؟ کیا یہ بھی محض اتفاق ہے ؟؟؟؟

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here