حضرت ابوبکر صدیق (ر) نے ساری شوری کی رائے رد کر کے فیصلے کیے تھے اور وہ فیصلے بہترین ثابت ہوئے ۔

0
676

مغربی طرز کی جمہوریت اور اسلام ۔۔۔۔۔۔

مغربی طرز کی اس جمہوریت کو اسلامی نظام حکومت سے مشابہ قرار دینا اسلام پر بدترین تہمت ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اس معاملے میں شدید غلطی کی گئی ہے ۔ آئیے ذرا دنوں نظاموں کا سرسری سا موازنہ کرتے ہیں ۔

حضورﷺ نے فرمایا ( مفہوم) ” ہم ایسے شخص کو حاکم نہیں بناتے جو خود اسکا طالب (امیدوار) ہو ” ۔۔۔۔۔۔۔۔!

اسکی حکمت سے کون واقف نہیں ہوگا ۔ حاکمیت ذمہ داری کے ساتھ بہت سا اختیار بھی عطا کرتی ہے جس کے لالچ میں ہی اکثر لوگ اس کی طلب کرتے ہیں ۔

جمہوریت اپنا آغاز ہی اسلام کا یہ پہلا اور بنیادی حکم توڑ کر کرتی ہے ۔ جمہوریت میں کچھ لوگ خود حاکمیت کے طلب گار بن کر سامنے آتے ہیں جن کو ہم ” امیدوار ” کہتے ہیں ۔ تب لوگ انکے حق میں ووٹ ڈالتے ہیں ۔

اسلامی مشورے کے جو اصول حضورﷺ نے سکھائے ہیں ان کے مطابق ” مشورے سے پہلے مشورہ نہیں ہوگا اور مشورے کے بعد اس پر تبصرہ نہیں ہوگا ” ۔۔۔ یعنی مشورے سے پہلے ہی کوئی دو یا زیادہ اشخاص ملکر یہ طے نہیں کرینگے کہ ہم مشورے میں یہ رائے دینی ہے ۔ اس طرح جب مشورے کے بعد ایک فیصلہ ہوجائے تو پھر اس پر تنقید یا تبصرہ جائز نہیں ۔

اس میں کافی حکمت ہے ۔ مشورے سے پہلے ہی اس پر ” مشورہ ” ہو جائے تو وہ فیصلہ ہائی جیک ہو جاتا ہے اور بعد میں اس پر تنقید یا تبصرے اس فیصلے کو کمزور کر دیتے ہیں ۔

جمہوریت میں اسلام کے اس حکم کی جس طرح دھجیاں اڑائیں جاتی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہٰے ۔ جمہوریت میں ” ووٹ ” کو ایک مشورے سے ہی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ لیکن یہاں انتخاب سے پہلے باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے اور لوگوں کو قائل کیا جاتا ہے کہ آپ فلاں کے حق میں رائے دیں (ووٹ ڈالیں ) اور اسکے کے لیے جھوٹ بولاجاتا ہے اور لالچ دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح پارلیمنٹ یا ایوان کے اندر ہونے والے فیصلوں کے لیے بھی ” لابنگ ” کی جاتی ہے ۔ نمائندگان کو ایک خاص معاملے میں رائے دینے کے لیے قائل کیا جاتا ہے ان کو لالچ دیا جاتا ہے بلکہ خریدا جاتا ہے ۔ اس سارے مکروہ عمل کو سیاست کہا جاتا ہے ۔ مشورے سے پہلے ہی مشورے ہو جاتا ہے !

پھر جب ایک بار فیصلہ ہو جائے تب ” جمہوریت ” آپ کو اجازت دیتی ہے کہ اس فیصلے کو ہر وقت ہر جگہ تنقید کا نشانہ بنائیں اور اس میں کیڑے نکالیں ۔ آپ اس فیصلے کے خلاف احتجاج ، دھرنے اور جلسے وغیرہ کا حق رکھتے ہیں ۔ پھر ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ” جمہوری قوتیں ” اس حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے تحفظات کے نام پر اس فیصلے کے خلاف وہ سب کچھ کر لیتی ہیں جو اس فیصلے کی اصل روح کو تباہ کر دیتا ہے ۔ یا اس میں ایسی تبدیلیاں کر دی جاتی ہیں کہ اس کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے یا اس پر عمل درآمد میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ اس فیصلے کی وقعت ہی باقی نہیں رہتی ۔

یہاں بھی اسلامی مشورے سسٹم کا ایک بنیادی اصول ” جمہوریت ” توڑ دیتی ہے ۔

اسلام میں صاحب رائے لوگوں سے مشورہ لینے کا حکم دیا گیا ہے ۔ “صاحب الرائۓ ” کی تعریف مختلف علماء مختلف انداز میں کرتے ہیں تاہم اگر ان سب کا نقطہ نظر دیکھا جائے تو آپ یہ نتیجہ اخذ کر لینگے کہ ” صاحب الرائے “بہت سوں میں سے تھوڑے سے ہی ہوتے ہیں ۔ اسلام ایک نیک ، سمجھدار اور صاحب علم شخص کی رائے کو ایک بدکرادر ، بے وقوف اور جاہل کے برابر نہیں سمجھتا ۔

جمہوریت میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے ۔ جمہوریت میں نیک ، صاحب علم اور سمجھدار آدمی کی رائے بدکردار ، بے وقوف اور جاہل کے برابر ہی سمجھی جاتی ہے ۔ جمہوریت میں فیصلہ گنتی کی بنیاد پر ہوتا ہے اور اس میں صرف بالغ ہونے کی شرط ہے ۔ کسی شخص کے اچھا یا برا ہونے سے ” جمہوریت کو کوئی غرض نہیں ۔ یہاں بھی جمہوریت اسلام کے ایک واضح حکم سے متصادم ہے ۔

بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ الیکشن کے ذریعے ” صاحب الرائے” لوگوں کو ہی منتخب کیا جاتا ہے جن کو “عوامی نمائندے ” کہا جاتا ہے ۔ تب سوال اٹھتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔

الیکشن میں “صاحب الرائے ” لوگوں کا انتخاب کیسے کیا گیا؟ اور کن لوگوں نے کیا ؟۔۔۔۔۔ کیا جن لوگوں نے کیا وہ خود رائے دینے کے اہل تھے ؟

ایسا نہیں ہے بلکہ نمائندوں کا انتخاب کرنے کے لیے سب ہی ووٹ ڈالتے ہیں جن میں سے اکثریت انکی ہوتی ہے جو اسلامی نقطہ نظر سے رائے دینے کے اہل نہیں ہوتے ۔ تب ان ” نا اہلوں ” کی رائے سے چنا ہوا شخص کیسے ” اہل ” ہو گیا ؟؟

اسلام میں امیر یا حاکم کو مشورہ لینے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اسکو ایک بہتر فیصلہ کرنے میں مدد ملے ” لیکن وہ شوری کی رائے ماننے کا پابند نہیں ہوتا “۔۔

اسکی صوابدید پر ہے کہ وہ فیصلہ اکثریت کی رائے پر کرے یا

کسی ایک شخص کی رائے پر کر لے یا

سب کی رائے رد کر کے اپنی مرضی سے فیصلہ کر لے

تب شوری اسکی پابند ہوتی ہے کہ وہ امیر یا حاکم کی رائے یا فیصلے کو قبول کرے جب تک وہ انکو اللہ کی اطاعت یا نماز سے نہ روک دے ۔ مثلاً

حضرت ابوبکر صدیق (ر) نے ساری شوری کی رائے رد کر کے فیصلے کیے تھے اور وہ فیصلے بہترین ثابت ہوئے ۔

لیکن جمہوریت یہاں بھی اسلام کی ضد ہے ۔ اس میں فیصلہ صرف اور صرف گنتی کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ جس “رائے ” کے حق میں گنتی زیادہ ہو اسی کو ماننا پڑتا ہے اور حاکم اکثریت کی رائے ماننے کا پابند ہوتا ہے نہ کر اکثریت حاکم یا امیر کی رائے ماننے کی پابند ۔۔۔۔۔۔۔!

اسلام میں عورت اور مرد کی رائے برابر نہیں اور نہ ہی خواتین خلیفہ یا امیر کی شوری کا مستقل حصہ بنیں نہ ہی وہ خود کبھی امیر جماعت یا خلیفہ بنیں !

لیکن جمہوریت میں عورت اور مرد کی رائے برابر ہوتی ہے اور خواتین کو شوری ( ایوان یا پارلمینٹ) کا لازمی حصہ بنایا جاتا ہے اور وہ ملک کی سربراہ بھی بن سکتی ہیں ۔

یہ چند بہت ہی بڑے تضادات ہیں ” جمہوریت اور ” اسلامی نظام حکومت ” یا شوری سسٹم کے درمیان ۔ جمہوریت کی نسبت آمریت یا بادشاہت نسبتاً زیادہ قریب ہے اسلامی نظام کے اور قابل قبول بھی ہے ۔ چار خلفائے راشدین اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کو چھوڑ کر اسلام کی تاریخ میں سارے آمر (سپاہ سالار) یا بادشاہ ہی تھے اور ان میں سے بہت سے نہایت محترم تھے اور ہمارے ان بڑوں اور بزرگوں نے انکو حاکم مانا اور انکی اطاعت کی جن کے ہم پاؤں کی خاک بھی نہیں ہیں ۔ خلافت کے بعد آمریت یا بادشاہت ( جو بھی نام دے لیں ) بھی رحمت ہے ۔ اس کے لیے میں آپکو ایک حدیث پیش کرتا ہوں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا:

“اسلام کی ابتداء نبوت ورحمت ہے،پھر خلافت و رحمت ہے،پھر بادشاہت و رحمت ہے پھر امارت و رحمت ہے پھر اس(حکومت)کے لیے لوگ گدھوں کی طرح جھگڑیں گے اس وقت تم جہاد کو لازم پکڑو،اور اس وقت افضل جہاد رباط(یعنی اسلامی ممالک کی سرحدوں کی حفاظت)ہے اور اس میں بھی افضل عسقلان شہر کی سرحدوں کی حفاظت ہے۔(طبرانی:11138،السلسہ الصحیہ للبانی:3280)

خلافت کے بعد بادشاہت اور امارت کو بھی رحمت کہا گیا ہے ۔ پھر ایک تیسرے نظام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں لوگ گدھوں کی طرح جھگڑتے ہیں ۔ خلافت اور بادشاہت (آمریت ) کے بعد یہ تیسرا نظام ” جمہوریت ” کے علاوہ بھلا اور کون سا ہوسکتا ہے ؟ اور بلا شبہ اس میں سوائے اتنشار اور جھگڑوں کے اور کچھ نہیں !!!

( اس حدیث کے دوسرے حصے میں اسلامی ممالک کے دفاع کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ آج اسلامی ممالک کو تیزی سے توڑا جا رہا ہے اس حدیث کی رو سے اس وقت پاک فوج عظیم جہاد کر رہی ہے )

اب وقت آگیا ہے کہ ” جمہوریت ” نامی اس سراب اور دھوکے کو امت اچھی طرح پہچان لے اور اس کے بجائے اس نظام کو قبول کر نے کے لیے خود کو تیار کر لے جو ہمارا صدیوں کا آزمودہ ہے ۔ جس کو خلافت کے بعد رحمت قرار دیا گیا ہے ۔ تب تک کے لیے جب تک وہ خلیفہ آ نہ جائے جو پہچان لیا جائیگا !!!!

( یہ خاص کر فضل الرحمان اور سراج الحق صاحب سے سوال ہے جو ” جمہوریت ” کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں )

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here