ووٹ کو عزت دو

یعنی نواز شریف کو کچھ نہ کہو۔

آئین پاکستان کے مطابق بے ایمان اور جھوٹا شخص رکن پارلیمنٹ نہیں بن سکتا۔
نواز شریف اس قانون کی زد میں تب آیا جب اس کے بیٹے نے لندن میں اپنے کئی ملین ڈالرز کے اثاثوں اور آف شور کمپنیوں کی ملکیت کا اعتراف کیا۔

معاملہ پارلیمنٹ سے ہوتا ہوا عدالت گیا۔
نواز شریف عدالت میں اربوں روپوں کی اس جائداد سے متعلق کاغذات جمع کروانے میں ناکام رہا۔
البتہ قطری شہزادے کا ایک مزاحیہ خط ضرور پیش کیا۔

سپریم کورٹ نے مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنائی۔

جے آئی ٹی میں نواز شریف کے پیش کردہ کاغذات جعلی ہونے کا انکشاف ہوا۔
بیانات میں زبردست تضادات سامنے آئے۔
ساتھ ہی یہ بھی کہ وزیراعظم پاکستان صاحب دبئی کی ایک کمپنی میں بھی ملازمت کر رہے ہیں اور وہ کمپنی بھی ان کے بیٹے کی ہے۔

قانون یہ بھی ہے کہ رکن پارلیمنٹ خاص طور پر وزیراعظم کہیں اور ملازمت نہیں کر سکتا جب تک اپنے عہدے پر براجمان ہے۔ نیز دبئی ملازمت کی تنخواہ نواز شریف نے اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کی یوں اثاثہ چھپایا۔

نواز شریف نے اعلان کیا کہ نوکری محض دکھاوا تھی اور میں نے اپنے بیٹے سے کوئی تنخواہ نہیں لی اور نعرہ لگایا کہ ۔۔۔۔

” مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی سزا دی جا رہی ہے “

تاہم کچھ ہی عرصے بعد ثابت ہوگیا کہ بیٹے سے تنخواہ لیتا رہا ہے۔ تب دوبارہ نعرہ لگایا کہ ۔۔۔۔۔۔۔

” اگر بیٹے سے تنخواہ لی ہے تو کیا ہوا “

حالت اس وقت یہ ہے کہ چور کوتوال کو نہ صرف ڈانٹ رہا ہے بلکہ الٹا اس کو نشان عبرت بنانے کے بھی اعلانات فرما رہا ہے۔

اس کی تازہ مثال کل دیکھنے میں آئی جب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے چئیرمین نیب کا محاسبہ کرنے کا اعلان کیا اور نواز شریف نے چیرمین نیب سے استعفی طلب کر لیا۔

چیرمین نیب کا قصور یہ ہے کہ اس نے نواز شریف حکومت میں 4.9 ارب ڈالر انڈیا بھیجنے کی تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب خورشید شاہ نے رکن پارلیمنٹ کے لیے سچا اور ایماندار ہونے کی شرط کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ نواز شریف معاملہ پارلیمنٹ میں رکھتے تو انہیں کچھ نہ ہوتا ۔۔۔ 🙂

اب نواز شریف اس نعرے کے ساتھ الیکشن میں جا رہے ہیں کہ یہ فیصلہ عوام کرے گی کہ میں جھوٹا اور بے ایمان ہوں نہ نہیں۔ اس کو ” ووٹ کو عزت دو” کا عنوان دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ وہی عوام ہے جس کے سامنے نواز شریف نے نعرہ لگایا کہ ” مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی سزا دی جا رہی ہے” تو سب نے زور و شور تالیاں بجائیں اور نعرے لگائے، لیکن چند دن بعد جب اسی نواز شریف نے نعرہ لگایا کہ ” اگر بیٹے سے تںخواہ لے لی ہے تو کیا ہوا” تو دوبارہ سب نے زور و شور سے تالیاں بجائیں اور نعرے لگائے!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here