جہاد پر اعتراض کے جوابات

0
338

جہاد پر اعتراض کے جوابات

از سعید ملت علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ

مرتب ابو تراب محمد فرحان انصاری

یہودی اور عیسائی مستشرقین معترضین کو سب سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ کفار کے خلاف جنگ و جہاد کرنے میں اسلام تنہا و منفرد نہیں ہے ، بلکہ موجودہ تورات میں بھی اپنے مخالف کفار کے خلاف جنگ کرنے کی تلقین و ترغیب دی گئی ہے ، اور موجودہ انجیل میں تصریح ہے کہ تورات کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہے ، اب آپ تورات کے اس اقتباس کا مطالعہ فرمائیں

” جب تو کسی شہر سے جنگ کرنے کو اس کے نزدیک پہنچے تو پہلے اسے صلح کا پیغام دینا 0 اور اگر وہ تجھ کو صلح کا جواب دے اور اپنے پھاٹک تیرے لیے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باج گزار بن کرتیری خدمت کریں 0 اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کریں بلکہ تجھ سے لڑنا چاہے تو اس کا محاصرہ کر 0 اور جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضے میں کر دے تو وہاں کے ہر مرد کو تلوار سے قتل کر ڈالنا 0 لیکن عورتوں اور بال بچوں اور چوپایوں اور اس شہر کے سب مال اور لوٹ کو اپنے لیے رکھ لینا اور تو اپنے دشمن کی اس لوٹ کوجو خدواند تیرے خدا نے تجھ کو دی ہو کھانا 0 ان سب شہروں کا یہی حال کرنا جو تجھ سے دور ہیں اور ان قوموں کے شہر نہیں ہیں 0 پر ان قوموں کے شہروں میں جن کو خداوند تیرا میراث کے طور پر تجھ کو دیا ہے ، کسی ذی نفس کو جیتا نہ بچا رکھنا 0 بلکہ ان کو یعنی حتی اور موری اور کنعانی اور فرزی اور جوی اور اور یبوسی قوموں کو جیسا خداوند تیرے خدا نے تجھ کو حکم ہے بالکل نیست کر دینا 0 تاکہ وہ تم کو اپنے سے مکروہ کام کرنا نہ سکھائیں جو انہوں نے اپنے دیوتاؤں کے لیے کیے ہیں اور یوں تم خداوند اپنے خدا کے خلاف گناہ کرنے لگو 0
(استثناء باب 20 آیت 10- 18 ) ( عہد نامہ قدیم 186)

 

واضح رہے کہ عیسائیوں کے نزدیک بھی کفار کے خلاف جہاد کا حکم باقی ہے کیونکہ سیدنا عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا

یہ نہ سمجھو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں 0 کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک سوشہ توریت سے ہر گز نہ ٹلے گا جب تک یہ سب کچھ پورا نہ ہو جائے .
متی باب آیت 17- 18 ) ( نیا عہد نامہ 8 )

جو غیر مسلم مستشرقین اسلام کے نظریہ جہاد پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں تورات اور انجیل کے اقتباسات کو بغور پڑھنا چاہیےاب جہاد کے متعلق اسلام کا نظریہ ملاحظہ فرمائیں

جہاد کی دو صورتیں ہیں

ایک یہ ہے کہ مسلمانوں کے شہر پہ حملہ کیا جائے اور مسلمان مدافعانہ جنگ کریں یہ جہاد فرض عین ہے ، اس کی مثال غزوہ بدر ، غزو احد اور غزوہ خندق ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یہ لا اکراہ فی الدین کے خلاف نہیں اور نہ کوئی ہوش مند اس پہ اعتراض کر سکتا ہے

اور جہاد کی دوسری صورت یہ ہے کہ تبلیغ اسلام کے لیے جہاد کیا جائے اور بہ شرط استطاعت از خود اور کافروں کے ملک پہ حملہ کیا جائے یہ جہاد فرض کفایہ ہے ، فتح مکہ ، فتح طائف اور فتح خیبر وغیرہ اس کی مثالیں ہیں اور بعد میں مسلمانوں نے مصر، شام ،عراق، ایران اور بہت سے علاقوں میں تبلیغ اسلام کے لیے جہاد کیا اور دنیا کے تین بر اعظموں مسلمانوں کی حکومت پہنچ گئی اور اس میں یہ تفصیل ہے کہ جب مشرکین سے جہاد کیا جائے تو تلوار یا اسلام، اور اہل کتاب کے ساتھ جنگ ہو تو پھر تین صورتیں ہیں  وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ دیں یا پھر جنگ کریں
اہل کتاب کے ساتھ جزیہ کی رعایت اس لیے رکھی ہے کہ وہ الوہیت اور رسالت کے کسی نہ کسی طور پر قائل ہیں ،

آخرت پہ ایمان رکھتے ہیں جزا سزا حرام حلام کے اصولی طور پر معترف ہیں اور جب یہ جزیہ دے کر مسلمانوں کے باج گزار ہو جائیں گےاور ان کا مسلمانوں کے ساتھ میل جول ہوگا تو مسلمانوں میں ان میں تبلیغ اسلام کے مواقع میسر ہوں گے اور انہیں بھی اسلام کی تعلیمات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا اور وہ جلدی یا بہ دیر اسلام کو قبول کر لیں گے اور ان کا اسلام قبول کرنا بہ رضا و رغبت ہوگا، اس میں جبر کا کوئی دخل نہیں ہے جہاد کی اس شکل پہ بھی کوئی اعتراض نہیں ہے

اب صرف اک شکل رہ جاتی ہے اور وہ ہے تبلیغ اسلام کے لیے مشرکین کے خلاف جہاد یا وہ اسلام قبول کرلیں یا ان کو قتل کر دیا جائے گا اور اس پر بادی النظر اعتراض ہوتا ہے کہ یہ جبر اور اکراہ ہے لیکن در حقیقت یہ بھی جبر نہیں ہے اگر کوئی کسی ملک کا باشندہ ہو، اس ملک کے بادشاہ کی مہیا کی گئی سہولتوں اور فائدوں سے بہرہ اندوز ہوتا ہے اور ا س ملک کی زمین میں اپنا گھر بنا کر رہتا ہے اور تمام نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہو وہ لیکن اس ملک کے بادشاہ یا حکمران کی حکومت کو نہ مانے ، اس کے قوانین پہ عمل نہ کرے ،اور اس کے برعکس اس حکومت کے مخالف اور دشمن ملک اور حکومت کا علی الاعلان دم بھرتا ہو اس کی وفا داری کا اعلان کرتا ہو تو کیا اس کو قابل گردن زدنی قرار نہیں دیا جائے گا اور اس کو غدار قرار دے کر قتل کر دیا جائے گا ، کیا آج دنیا کے مہذب ملکوں کا اس پر عمل نہیں اور اگر اس شخص کو کہا جائے گا کہ یا تو تم اس ملک کی وفاداری کا اعلان کرو ورنہ تم کو قتل کر دیا جائے گا تو یہ کیوں عدل و انصاف کے مطابق نہیں جب کہ آج کی نام نہاد مہذب دنیا میں ایسے شخص کو یہ موقع دیے بغیر کر دیا جاتا ہے ،

سو اسی طرح جو شخص اللہ کی بنائی ہوئی زمین میں رہتا ہے اور اس کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن وہ اللہ کو مانتا ہے نہ کسی اصول اور قانون کو ، اور دنیا میں آسمانی مذاھب کی جتنی شکلیں ہیں ان میں سے کسی کو بھی نہیں مانتا تو اس سے یہ کہنا بجا ہے اور عدل و انصاف کے مطابق ہے کہ تو اللہ کے دین کو قبول کرلو ورنہ مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ، نیز جس طرح حکومت میں ریاست کے غدار کی سزا موت ہے ، اسی طرح اسلام میں بھی یہ مرتد کی سزا یہ ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے ، اس کو تین دن موقع دیا جاتا ہے کہ وہ غور و فکر کرے اور اس کو اسلام کے خلاف کو شبہ ہے تو اس کو زائل کیا جائے لیکن اگر وہ اس ہٹ دھرمی پہ قائم رہتا ہے تو اس کی سزا یہ ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے جب کہ غدار وطن کے لیے یہ رعایت نہیں ہوتی

تمام مہذب دنیا میں جرائم پر سزاوں کا نظام جاری ہے ، اور جب کسی قاتل ، چور ، ڈاکو یا ریاست کے غدار کو سزا دی جائے تو یہ نہیں کہا جاتا کہ جبر ہے اور حریت فکر اور آزادی رائے کے خلاف ہے ، اسی طرح جب مشرک کو ایمان نہ لانے پر جہاد میں قتل کیا جائے یا مرتد کو توبہ نہ کرنے پہ قتل کیا جائے تو یہ بھی ان کے جرائم کی سزا ہے جبر نہیں ہے حریت فکر اور آزادی رائے کے خلاف نہیں ہے

دنیا کے نام نہاد مہذب ممالک نے ابھی تک دہشت گردی کی کوئی جامع تعریف نہیں کی کیونکہ وہ جانتے ہیں
کہ اگر انہوں نے قابض استعمار کے خلاف مسلح جدوجہد کو دہشت گردی کا نام دیا تو پھر امریکیوں نے برطانوی استعمار کے خلاف جد و جہد کی تھی اس کو بھی دہشت گردی کہا جائے گا اور امریکا بھی دہشت گرد قرار پائے گا
اس لیے آج تک دہشت گردی کی کوئی تعریف نہیں کی گئی جس سے امریکا کے باشندے تو دہشت گردی کی زد میں نہ آئیں، اور فلسطین و عراق کے باشندے دہشت گرد قرار پائیں


ہمارے نزدیک دہشت گردی بے قصور انسانوں کو اور بے گناہ مسلمانوں کو کو ہلاک کرنا ہے اور ان کی املاک کو تباہ کرنا ہے خودکش حملوں اور ریموٹ کنٹرول بموں سے مساجد ، امام بارگاہوں ، عمارتوں کو اور مختلف اشخاص کو ہلاک کرنا ہے اور فساد فی الارض کرنا ہے اور دہشت گردی کی مذمت اور اس کے جرم ہونے کی اصل قران میں موجود ہے
اور جب وہ پیٹھ موڑ کر جاتا ہے تو اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ زمین میں فساد برپا کرے اور کھیتوں کو (برباد) کرے اور جانوروں کو ہلاک کرے اور اللہ فساد کو پسند نہیں فرماتا ( البقرہ : 205)

ہماری اس تحریر سے جہاد اور دہشت گردی کا فرق بھی معلوم ہو گیا کہ اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے اللہ کے منکروں کو قتل کرنا جہاد ہے
اور زمین میں فساد پھیلانا اور بے قصور لوگوں کو قتل کرنا دہشت گردی ہے
ماخوذ از نعمۃ الباری جلد 5

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here