جو پشتون ایک بار پنجاب میں آباد ہوجائے وہ واپس کے پی کے جانا پسند نہیں کرتا۔

0
542

پشتون کے دوست اور دشمن ۔۔ !

لسانی بنیادوں پر جو قوم پاکستان میں سب سے زیادہ پھیلی ہوئی ہے وہ پشتون ہیں۔ پاکستان میں پشتونوں کی کل ابادی تقریباً ساڑھے چھ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اس میں بتدریج اضافہ ھو رھا ھے۔

دو کروڑ ساٹھ لاکھ پشتون صوبہ خبیر پختونخواہ میں آباد ہیں اور نوے لاکھ قبائلی علاقوں میں آباد ہیں جو وفاق کے زیر انتظام علاقہ ہے۔

ستر لاکھ سے زائد پشتون کراچی میں آباد ہیں۔ پاکستان کے معاشی گڑھ کراچی میں مہاجروں کے بعد سب سے بڑی تعداد پشتونوں کی ہے۔

تیس لاکھ کے قریب پشتون صوبہ سندھ میں آباد ہیں۔ جو وہاں کی زرخیز زمینوں سے پوری طرح فیضیاب ہو رہے ہیں۔

پنجاب میں پنجابیوں کے بعد سب سے زیادہ تعداد پشتنونوں کی ہے جو تقریباً نوے لاکھ کے قریب ہے۔ پنجاب میں پشتون بغیر کسی لسانی نفرت کے ہر طرح کا کاروبار کر رہے ہیں۔ وہاں ان کے اطمینان کا یہ عالم ہے کہ جو پشتون ایک بار پنجاب میں آباد ہوجائے وہ واپس کے پی کے جانا پسند نہیں کرتا۔

پینسٹھ لاکھ پشتون بلوچستان میں آباد ہیں۔ بلوچستان آنے والے دور میں پاکستان کا معاشی حب بن سکتا ہے اور پشتون اس سے پوری طرح مستفید ہوگا۔

پاکستان کے دارلخلافہ اسلام آباد پر پشتون چھائے ہوئے ہیں۔

اور تو اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی آباد پشتونوں کی تعداد دس لاکھ سے اوپر ہے۔

پنجاب کے نیازی پشتون ان کے علاوہ ہیں۔

پاکستان بھر میں گروتھ ریٹ 1.9 فیصد ہے۔ جس کے حساب سے پاکستان کی آبادی 35 سال میں دگنی ہوجاتی ہے۔ لیکن پشتونوں میں گروتھ ریٹ 3.2 فیصد ہے یعنی انکی آبادی 20 سال میں دگنی ہوتی ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ آنے والے سالوں میں پاکستان کے اکثر علاقوں میں پشتون اکثریت میں ہونگے۔

اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کی وہ واحد قوم جو پاکستان کے ہر صوبے کو دستیاب وسائل سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہی ہے صرف پشتون ہیں تو غلط نہ ہوگا۔

پشتون قوم پاکستان میں سیاست، میڈیا، عدلیہ، قومی کھیلوں، پاک فوج سمیت تمام اداروں میں پھیلی ہوئی ہے۔ او جی ڈی سی جیسے اداروں میں جو پاکستان میں سب سے زیادہ تنخواہیں دیتے ہیں میں سب سے زیادہ تعداد پشتونوں کی ہے۔

انڈین اور افغان انٹلی جنس نے پاکستان کے خلاف اپنی پراکسی جنگ کا آغاز پشتونوں کے علاقوں سے کیا کیونکہ وہ افغانستان کے بارڈر پر واقع ہیں اور وہاں پاک فوج موجود نہیں تھی۔ تب پشتونوں کی بقا کے لیے پاکستان نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ لڑی۔ پشتونوں پر مسلط افغان اور انڈین دہشت گردوں کو صاف کرنے کے لیے پاک فوج اپنے دس ہزار سے زائد جوان اور آفیسر شہید کروائے۔ پاک فوج کی یہ قربانیاں رائگاں نہیں گئیں اور دہشت گردی کے کینسر کو وہاں سے صاف کر دیا گیا۔

لیکن محمود اچکزئی، اسفندیارولی جیسے افغان لیڈر اور امریکہ براہ راست اپنے ریڈیو چینلز ( ڈیوا اور مشال وغیرہ) کی مدد سے پشتونوں کو مسلسل یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ درحقیقت پاکستان پشتونوں کا دشمن ملک ہے۔

ان کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ پاک فوج کی وہ جنگ جو پشتونوں کو دہشت گردوں سے چھڑانے کے لیےلڑی گئی اس کو ہی یہ پشتونوں کے خلاف جنگ قرار دے رہے ہیں۔

انکی منافقت کا یہ عالم ہے کہ پشتنوں کو متحد کرنے کا نعرہ لگانے والے آج قبائیل کو کے پی کے میں ضم کرنے سے روک رہے ہیں۔ جبکہ قبائیلی پشتون خود اسکا مطالبہ کر رہےہیں۔

یہ پشتونوں کو یہ احمقانہ تعلیم دے رہے ہیں کہ پشتونوں کی بقا ریاست پاکستان کے خلاف جنگ اور بغاوت میں ہے اور پشتونوں کی حقیقی جنت افغانستان ہے ۔۔۔ 🙂

یہ لوگ پاکستان کے ساڑے چھ کروڑ پشتونوں کو ڈیڑھ کروڑ افغانیوں کے حوالے کرنے پر بضد ہیں۔

ویسے کیا آپ جانتے ہیں کہ افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں جانے کے لیے پشتونوں کو اپنی جانوں کی ضمانت لینی پڑتی ہے؟؟ ۔۔۔ 🙂

پاکستان کو تو چھوڑیں خود افغان پشتونوں کی حالت افغانستان میں تباہ ہے۔ افغانی پشتون تعداد میں ڈیڑھ کروڑ ہونے کے باؤجود فارسی بان اقلیت کے محکوم ہیں۔ اور مزے دار بات یہ ہے کہ اس فارسی بان اقلیت کو پاکستان میں مقیم نام نہاد پشتون لیڈر سپورٹ کرتے ہیں۔ وہاں وہ پشتونوں کے حقوق کی بات نہیں کرتے ۔ 🙂

افغانستان کی افغانی ملیشیاء جو تقریباً شمالی اتحاد ( فارسی بانوں ) پر مشتمل ہے افغان پشتونوں کی عزتیں اور مال دونوں لوٹ رہی ہے۔

جب پشتونوں کو دہشت گردی کے عذاب سے نجات دلانے کے لیے پاک فوج کا پہلا دستہ دیر میں موجود خوراج کے گڑھ لال قلعے کی طرف بڑھا تو اس کی قیادت کرنے والے پنجابی میجر غلام رسول نے اپنے سر میں گولی کھائی اور اس کے 7 جوانوں کو ذبح کر دیا گیا۔

اس وقت پشتونوں کا چیمپئن اسفند یار ولی سویڈن میں بیٹھا تھا کہ ” پاکستان میں خطرہ ہے “

وقت بڑا ظالم ہے اور بالاآخر سچ کو جھوٹ سے الگ کر دے گا۔ آج وقت دکھا رہا ہے کہ پشتونوں کا دوست کون ہے اور دشمن کون۔ پشتونوں کی بقا کہاں ہے اور تباہی کہاں۔ ان کو مزید بہکانا ممکن نہیں۔

امریکہ اور انڈیا کوشش کر کے دیکھ لیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here