جون 2017 کی بات ہے پانامہ کیس کی سماعت عروج پر تھی جب جسٹس عظمت سعید شیخ صاحب کے ایک سوال پر عدالت میں خاموشی چھا گئی

0
562

نواز شریف اور مافیا میں مشترک حرکتیں. 
جون 2017 کی بات ہے پانامہ کیس کی سماعت عروج پر تھی جب جسٹس عظمت سعید شیخ صاحب کے ایک سوال پر عدالت میں خاموشی چھا گئی۔ سماعت کے دوران جج صاحب نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف سے اپنی گونج دار آواز میں سوال پوچھا۔ “کیا آپ جانتے ہیں ججوں اور ان کی فیملی کو کون دھمکاتے ہیں؟ سسلیئن مافیا والے۔ آپ کو مبارک ہو آپ کی حکومت بھی اب انہی میں شامل ہو گئی ہے”

شریف خاندان کو مافیا کہنے کی وجہ سمجھنے کےلیے ہمیں پہلے مافیا کو سمجھنا ہو گا. حیران کن طور پر سسلیئن مافیا اور شریف خاندان میں حیرت انگیز مماثلت ملتی ہے۔ سسلیئن مافیا اٹلی کے ایک گنمام جزیرے سسلی سے جنم لینے والی تنظیم کا نام ہے۔ مافیا کا ایک نام “کوسا نوسٹرا” بھی ہے جو اطالوی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی “ذاتی چیزیں” ہیں۔ لفظ مافیا کا حقیقی معنی آج تک کوئی نہیں جان سکا۔ اور نا ہی کوسا نوسٹرا کی تشریح۔ مگر کہا جاتا ہے کہ کوسا نوسٹرا سے مراد یہ ہے کہ جس چیز پر مافیا ایک دفعہ اپنا حق جتا دے یا جسے اپنا کہہ دے اس پر قبضہ کیے بغیر سکون سے نہیں بیٹھتی۔ مافیا کے اندر کی باتیں تو مافیا والے ہی جانتے ہیں خود سسلی اتنا پراسرار ہے کہ اس کے متعلق مصنف جین شنائیڈر نے کہا کہ سسلی کی روایات سسلی کے اندر والے ہی جانتے ہیں باہر والے انہیں کبھی نہیں جان سکیں گے ۔ جانچ پرکھ کرنے کےلیے ہمارے پاس مافیا کے وہ کارنامے ہیں جو منظرِ عام پر ہیں یا پھر مافیا کے طریقہ واردات جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آئے۔ 1980 سے پہلے 125 سال تک مافیا کے وجود سے انکار کیا جاتا رہا اس کی وجہ بھی خود مافیا ہی تھی۔ مافیا نہیں چاہتی تھی کہ اس کا وجود منظرِ عام پہ آئے اور اقتدار کا جو کھیل مافیا 125 سالوں سے کھیلتی آ رہی تھی وہ برقرار رہے۔ پھر اٹلی کے کچھ ایماندار ججوں نے اس بات کا عہد کر لیا کہ اٹلی کا وجود مجرموں سے پاک کریں گے۔ تاریخ میں اس کیس کو میکسی ٹرائل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اسے ٹرائل آف دی سینچری یعنی صدی کا سب سے بڑا ٹرائل بھی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ 1980 کی دہائی میں شروع ہوا اس میں دو جج مافیا نے قتل کیے اور قانون کے درجنوں اہلکار اور سہولت کار جو مافیا نے اس کیس کی وجہ سے قتل اور اغواء کیے وہ الگ ہیں۔ اس کیس کی سماعت کرنے والے جج انٹونیودی میتیو کو صدی کا سب سے بہادر جج کہا جاتا ہے اس کے باوجود اس کے ساتھ 20 سکیورٹی گارڈ چوبیس گھنٹے موجود رہتے ہیں۔ اور اس جج کا شمار اٹلی کی سب سے زیادہ خطرے میں گھری شخصیت کے طور پر ہوتا ہے۔ 
مافیا کا طریقہ واردات یہ تھا اور اب بھی مافیا اسی اصول پہ کام کرتی ہے کہ قانون کو مت چھیڑو بلکہ قانون کے لاگو کرنے والوں اور رکھوالوں کو اپنا فرمانبردار کر لو اس طرح قانون تمہارا فرمانبردار بن جائے گا۔ میکسی ٹرائل میں پونے پانچ سو کے نزدیک گینگسٹرز کے نام آئے تھے جن میں سے ساڑھے تین سو کے لگ بھگ گینگسٹرز کو سزا ہوئی۔ اپ کو جان کر حیرت ہو گی کہ سزا پانے والے گینگسٹرز عام مجرم نہیں تھے بلکہ ان میں پولیس آفیسرز، عدلیہ کے اہلکار، سرکاری محکموں کے افسران، تاجر تھے اور سب سے اہم بات یہ سب اٹلی کے سیاستدانوں کی ماتحتی میں کام کر رہے تھے یہ سیاستدان زیادہ بڑے گینگسٹرز تھے اور آگے مافیا کے گاڈ فادرز کو جواب دہ تھے۔ مافیا گاڈ فادر دراصل مافیا فیملی کا سربراہ ہوتا ہے۔ جو مافیا فیملی کی حفاظت اور خوشحالی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اور یہ مافیا میں سب سے اونچا عہدہ ہوتا ہے۔ مافیا کو کوئی ایک بندا کنٹورل نہیں کرتا بلکہ گاڈ فادرز ہی مافیا کو کنٹرول کرتے ہیں۔ مافیا کے خاندان آپس میں ایک دوسرے کا عزت و احترام کرتے ہیں۔ ایک گاڈ فادر کی حدود میں کوئی دوسرا گاڈ فادر دخل نہیں دیتا۔ مافیا سرکاری قوانین کو تسلیم نہیں کرتی بلکہ مافیا کے اپنے قوانین ہوتے ہیں ان پر مافیا کبھی سمجھوتہ نہیں کرتی ہاں جب بھی ضرورت پڑے ملک کے سرکاری قوانین مافیا اپنی آنکھ کے اشارے سے تبدیل کروا لیتی ہے۔ یہ تو تھا مافیا کا بیک گراؤنڈ۔
اب زرا موجودہ مسلم لیگ ن کا مافیا سے موازنہ کریں۔ پاکستان کی تاریخ میں سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والی واحد جماعت مسلم لیگ ن ہے۔ نواز شریف اس ملک کا واحد سیاست دان ہے جس پر حاضر سروس آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کو قتل کرنے کا الزام لگا۔ مافیا قانون کے اہلکار خریدتی ہے ن لیگ نے پاکستان کے ہر بڑے ادارے کے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کیا۔ پریزیڈنٹ نیشنل بینک، جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم، چیئرمین نیب قمر الزمان، اور دیگر وفاقی محکموں میں انٹلیجنس بیورو، فیڈرل انویسٹی گیشن اتھارٹی وغیرہ وغیرہ میں ہر اہم پوسٹ پر نواز شریف نے اپنی مرضی کے بندے لگائے میرٹ کی دھجیاں اڑا کر۔ مافیا بزنس کی آڑ میں جرائم کرتی ہے۔ شریف خاندان نے بھی پنجاب پولیس کی وردیوں کا ٹھیکہ میاں منشاء کو دلوایا۔ سرکاری تعمیرات کا ٹھیکہ ہمیشہ ان کمپنیوں کو ملتا ہے جن میں شریف خاندان کا حصہ ہوتا ہے۔ پنجاب کا سب سے بڑا پولٹری بزنس حمزہ شہباز کا ہے جو قیمتوں کے ھیر پھیر سے کروڑوں کماتا ہے، انہار دودھ بھی اس میں شامل ہے۔ چینی کی صنعت اور لوہے کی صنعت اس کےعلاوہ ہے، جن کے اثاثے ہمیشہ نواز شریف کے دورِ حکومت میں راکٹ کی رفتار سے بڑھ جاتے ہیں۔ مافیا اپنے خاندان والوں کو نوازتی ہے۔ نواز شریف نے مریم نواز کو یوتھ لون سکیم کا سربراہ بنا دیا جو کہ ملکی سطح کا منصوبہ تھا حالانکہ مریم نواز ایک گھر چلانے کی بھی اہلیت نہیں رکھتی۔ بینکنگ کے شعبہ میں شریف خاندان نے اربوں روپے کے قرضے اپنے اور اپنے رشتہ داروں کے معاف کروائے۔ اپنی پارٹی کے لوگوں کے مقدمات ختم کروائے۔ ایک مافیا فیملی کی حدود میں دوسری مافیا فیملی دخل نہیں دیتی۔ آپ پنجاب کی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کبھی ن لیگ کی حدود میں کسی دوسری پارٹی نے دخل نہیں دیا۔ بالکل اسی طرح جیسے سندھ میں پیپلز پارٹی کے معاملات کو ن لیگ نہیں چھیڑتی۔ یاد رہے پیپلز پارٹی بھی ایک مافیا فیملی ہی ہے مگر ن لیگ سے کم تر درجہ کی۔ ایک دیگر مثال ہے کہ ن لیگ دکھاوے کےلیے ہر وقت ایم کیو ایم کے خلاف بات کرتی رہی۔ مگر پارلیمنٹ سے اپنی مرضی کا بل پاس کروانے کےلیے ن لیگ کا ساتھ ایم کیو ایم نے دیا۔ یعنی اس موقع پر بھی ایک مافیا فیملی نے ن لیگی مافیا فیملی کی حدود میں مداخلت نہیں کی بلکہ احترام کیا۔ مافیا کے اپنے ذاتی قوانین ہوتے ہیں جن کی پاسداری کرتی ہے لیکن ملکی قوانین کو جب چاہے بدل سکتی ہے۔ اب زرا اس لحاظ سے بھی ن لیگ اور نواز شریف کا کردار پرکھ لیا جائے۔ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں نواز شریف نے آئین میں تیرھویں ترمیم کی اور صدر کے اختیارات ختم کر کے خود طاقت کا واحد مرکز بن گیا جس سے وزیرِ اعظم سے پوچھ گچھ کرنے کا صدارتی اختیار ختم ہو گیا۔ دو ہفتے کے اندر نواز شریف نے آئین میں چودھویں ترمیم کر دی جس کی رو سے پارٹی صدر (یعنی نواز شریف) کی پالیسی سے اختلاف کرنے والا پارلیمنٹیرئن مجرم قرار پاتا اور اس کے خلاف قانونی کاروائی ہوتی۔ جب سپریم کورٹ نے اس بادشاہت کی مخالفت کی تو نواز شریف نے سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا۔ جب اس وقت کے آرمی چیف نے نواز شریف کا ساتھ نہ دیا تو اسے نواز شریف نے فارغ کر دیا۔ پندرھویں ترمیم نواز شریف کرنا چاہتا تھا کہ اس کی حکومت چلی گئی۔ اپنے اس دورِ حکومت میں دیکھ لیں۔ اپنا اقتدار بچانے کےلیے نواز شریف نے پھر پارلیمنٹ سے ایک بل پاس کروایا جو کہ آئین سے براہِ راست ٹکراؤ میں آتا ہے۔ جس کی رو سے کوئی بھی مجرم پارٹی صدر بن سکتا ہے۔ نواز شریف نے یہاں بھی مافیا والی حرکت کی۔ 
عدلیہ کی مخالفت مافیا کی ایک نمایاں خوبی ہے۔ نواز شریف نے 1999 میں سپریم کورٹ پر حملہ کروایا یعنی مافیا والی حرکت۔ صحافی ایاز امیر بتاتے ہیں کہ جب نواز شریف وزیرِ اعلی تھا اس وقت یہ کہا کرتا تھا کہ بندے کو اچھا وکیل کرنے کی کیا ضرورت ہے بندے کو جج کرنا چاہیے۔ یہ بھی مافیا والے ہی کرتے ہیں۔ ایک بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ امریکہ کی کئی عدالتیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کو غیر قانونی کہہ کر رد کر چکی ہیں۔ عام سی ضلعی عدالتوں نے صدرِ امریکہ کے احکامات کو غیر قانونی کہہ کر ختم کر دیا اور ڈونلڈ ٹرمپ یا اس کے کسی وزیر کی جرات تک نہیں ہوئی کہ کسی جج کے خلاف بات کر سکے۔ دوسری طرف میاں نواز شریف ہے جو ایک طرف عدلیہ کے خلاف سڑکوں پر نکلا، دوسری طرف اپنے وزراء کی پوری نفری عدلیہ کے خلاف بولنے کےلیے میڈیا پہ بٹھا دی، تیسری طرف مریم نواز نے اپنے سوشل میڈیا سیل کو عدالتوں کے خلاف بکواس کرنے پر لگا دیا اور جب پھر بھی انتقام کا جذبہ ٹھنڈا نہ ہوا تو اپنے بندوں کو کالے کوٹ پہنا کر احتساب عدالت میں پولیس والوں کو تھپڑ مروا دیے۔ احاطہ عدالت کے اندر قانون کے رکھوالوں کے ساتھ یہ سلوک اب سے پہلے یا تو مافیا نے کیا یا پھر نواز شریف نے۔ ن لیگی مافیا کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اتنی بڑی کاروائی کرنے کے باوجود بھی ملک کا کوئی ادارہ ن لیگ کا بال بھی بیکا نہ کر سکا۔ الٹا نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے بیان جاری کر دیا کہ ہم وکلاء کے ساتھ ہیں۔ یاد رہے کہ جسٹس عظمت سعید شیخ صاحب جہاں دیدہ آدمی ہیں۔ ان کی زہانت کو ثابت کرنے کےلیے یہی کافی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے جسٹس ہیں۔ انہوں نے اسی وقت موجودہ صورتحال کو بھانپ لیا تھا جب ن لیگ نے نہال ہاشمی کے زریعے عدلیہ پر لفظی حملہ کروایا تھا۔ بعد کے حالات نے یہ ثابت کر دیا کہ ن لیگ حقیقی معنوں میں اس ملک کے اندر مافیا ہے۔ اور کوسا نوسٹرا (مافیا) کے حقیقی معنوں کی طرح اس ملک کو “اپنی چیز” سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جب چاہیں سپریم کورٹ پہ حملہ کر دیں، جب چاہیں احاطہ عدالت میں پولیس والوں کو تھپڑ مار لیں، اور جب چاہیں عدلیہ کی بدنامی کےلی منظم کاروائیاں شروع کرا دیں۔
تحریر. سنگین علی زادہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here