جنوری 10 کو ایک اور فیصلے کی گھڑی ہوگی جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پرائیویٹ سکولز کی فیسوں کے معملے پر غالباً اپنا حتمی فیصلہ سنانے جارہے ہیں

0
186

چیف جسٹس کا آخری امتحان ۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے چیف جسٹس دسمبر 13 کو اپنے عبوری فیصلے میں کہہ چکے ہیں کہ تمام سکولز جو Rs 5000 سے زیادہ فیس لیتے ہیں وہ اپنی فیس میں 20 فیصد کمی کریں اور 2018 کی جون اور جولائی کی فیسسوں میں سے 50 فیصد رقم واپس کریںگے

پہلی بات تو یہ کہ یہ عبوری فیصلہ ایک مبہم اور گول مول فیصلہ تھا جس کا فائدہ پرائیویٹ سکولز کے سیٹھوں نے خوب اٹھایا

شروع میں تو اس بات کا تعين ہی نہ ہوسکا کہ یہ فیصلہ کب سے لاگو ہوگا. کسی کے پاس اس کا جواب نہیں تھا اور نہ ابتک ہے کہ اگر فیسیں 20 فیصد کم ہونگی تو کس مہینے سے

مگر بیکن ہاؤس اسکول نےایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ پرائیویٹ اسکول مافیا کا سردار ہے. اسکول کے مالک قاسم قصوری نے شروع میں تو کہا کہ اسکول کو عدالت کے حکم کی کاپی ہی نہیں ملی. پھر بعد میں 20 فیصد کمی تو کردی گئی مگر اس رقم پر جو اگست اور ستمبر میں مانگی تھی یعنی اس فیس پر جو اسکول کے مطابق آٹھ فیصد اضافے کے ساتھ مانگی گئی تھی

حیرت کی بات یہ ہے کہ عبوری فیصلہ اگر دسمبر میں آیا تو 20 فیصد کمی اگست اور ستمبر کی فیس کی رقم پر کیوں کی گی، اور نومبر کے مہینے کی فیس پر کیوں نہیں کی گی جو پانچ فیصد اضافے کے ساتھ مانگی گئی تھی؟

مقصد صاف ظاہر ہے کہ قصوری خاندان ان حالت میں بھی زیادہ سے زیادہ منافع کمانا چاہتا ہے. یا یوں کہا جاۓ کہ کم سے کم رقم کھونا چاہتا ہے

اور پھر جون اور جولائی کی آدھی رقم کی واپسی کا کچھ پتا ہی نہیں اب تک

اور یہ سب چیف جسٹس صاحب کی مہربانی سے ہوا. فیصلہ اگر مبہم نہ ہوتا تو ان چالاکیوں کی گنجایش ہی نہیں تھی

دوسری بات یہ کہ چیف جسٹس نے ایک اور کارنامہ انجام دیا یہ کہہ کر کہ پرائیویٹ سکولز کی فیس کے سلسلے میں ان کا حکم باقی تمام عدالتی احکامات سے بالا ہوگا. یعنی دسمبر 13 کو سندھ ہائی کورٹ (SHC) نے جو ایک اچھا فیصلہ دیا تھا کیا وہ ختم تصوّر کیا جاۓ؟ دوسری طرف SHC میں جنوری 14 کو اسی سلسلے میں ایک توہین عدالت سماعت ہوگی جو چار پرائیویٹ سکولز جن میں بیکن ہاؤس شامل ہے کے خلاف ہورہی ہے

ایک عجیب مبہم سی کیفیت ہے. ایک کھچڑی پکّی ہوئی ہے اور یہ سب ہمارے فرسودہ عدالتی نظام اور ججز کی مہربانی ہے

چیف جسٹس صاحب فرما چکے ہیں کہ وہ اپنے تمام کیسز اپنے ریٹائر ہونے سے پہلے طے کر کے جاینگے. وہ جنوری 19 کو ریٹائر ہو رہے ہیں. جو کارنامہ وہ کئی مہینے میں نہ کر سکے تو اب 10 دن میں کیسے کرلینگے؟ اب جبکے وہ SHC کے اچھے خاصے فیصلے کے اوپر خود نوٹس لیتے ہوۓ بیچ میں آگے تو اب ان پر لازم ہے کے پرائیویٹ اسکول کی فیسوں کا مسلہ حل کروا کر جایئں. سارا کیس واضع ہے. پرائیویٹ سکولز ایک مافیا ہے اور والدین پسا ہوا طبقہ. سکولز کی لوٹ مار سامنے ہے. فیصلہ کوئی مشکل نہیں

مگر اب تک جوچیف جسٹس صاحب کی کارکردگی رہی ہے مجھے اندیشہ ہے کے وہ پرائیویٹ سکولز کے حق میں فیصلہ کر کے جاینگے. اگر ایسا ہوا تو ظاہر ہے والدین کی بد دعا سے بچنا مشکل ہوگا. مکافات عمل سے نہ آج تک کوئی بچ سکا ہے اور نہ بچ سکے گا. سپریم کورٹ سے بھی سپریم ایک عدالت ہے جس کا جج الله تعالہ ہے

(عبدل متین)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here