جنوبی کوریا کی ترقی کا راز

0
269

جنوبی کوریا کی ترقی کا راز
محمدعبدہ

دو سال پرانی بات ہے کوریا کی ایک کمپنی “لوتے Lotte گروپ” کے وائس چئیرمین نے خود کشی کرلی۔ خودکشی کی وجہ آخر میں بتاتا ہوں پہلے لوتے گروپ کے بارے جان لیں یہ کیا ہے۔
لوتے کمپنی کے کوریا میں بہت بڑے سپر مال ہیں۔ اس کے علاوہ لوتے کمپنی ہوٹل فاسٹ فوڈز مشروبات چاکلیٹ کینڈی الیکٹرانکس کیمیکل آئی ٹی تعمیرات پبلشنگ ادارے انجنئیرنگ کاسمیٹکس کریڈٹ کارڈ ڈیوٹی فری شاپ انشورنس سینما ہال ہسپتال تھیم پارک کھانے پینے کی ہر چیز سمیت 60 سے زیادہ کاروبار کررہی ہے۔ جس کا کاروبار دنیا کے 15 سے زیادہ ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ صرف کوریا کے اندر لوتے گروپ کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ ہے اس کے سرمائے کا حجم 106 ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور سالانہ کمائی 19 ارب ڈالر کے قریب ہے۔

یہ لوتے کمپنی کا مختصر سا تعارف ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنی بڑی کمپنی ہے اور اس کا کوریا کی معیشت میں کتنا عمل دخل ہے۔ چند ماہ پہلے لوتے کمپنی کے وائس چئیرمین “لی ان وان” پر کرپشن کا کیس بن گیا۔ محترم پر شک تھا کہ اس نے کمپنی کے کریڈٹ کارڈ پیسوں کے لین دین اور دوسرے معاملات میں کرپشن کی ہے۔ کرپشن کیس کی نوعیت مکمل طور پر کمپنی کی زاتی تھی۔ اس کا حکومت یا ملکی پیسے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تحقیقات شروع ہوئیں۔ جس سے شبہ تھا کہ وائس چیئرمین نے تقریبا 2 کروڑ 72 لاکھ ڈالر کی کرپشن کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپنی کے بانی مالک کی بیٹی نے لوتے مارٹ میں مختلف کمپنیوں کو ڈیوٹی فری سٹال لگا کر دینے پر تقریباً 3 لاکھ ڈالر کمیشن وصول کیا ہے۔ اور اپنی تین بیٹیوں کو غیرقانونی طور پر کمپنی کے گورننگ بورڈ میں بھرتی کروایا تاکہ تنخواہیں وصول کی جاسکیں۔

خیر تحقیقات شروع ہوئیں۔ وائس چئیرمین کے خلاف ابھی عدالتی فیصلہ نہیں آیا تھا مگر تمام ثبوت اس کے خلاف جارہے تھے۔ کچھ تحقیقات کے مطابق کرپشن اس نے نہیں اس کے مالکان نے کی تھی اور وہ انہیں بچانے کی کوشش کررہا تھا۔ اور ملزم کو پتہ تھا میں اپنے تمام اثر و رسوخ تعلقات سفارش پیسہ لگا کر بھی جج و عدالت نہیں خرید سکتا۔ اگر کرپشن ثابت بھی ہو جاتی تو اسے زیادہ سے زیادہ چند سال جیل اور جرمانہ ہوجاتا۔ مگر وائس چئیرمین نے عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے ہی گھر کے قریبی ایک پہاڑ پر درخت سے لٹک کر خودکشی کرلی۔
مالکان میں بانی کی بیٹی پر کیس چل رہا ہے وہ بھی عدالت کے حکم پر جیل کے اندر جائے گی یا خود ہی لٹک کر اوپر۔
اور یہ پہلا موقع نہیں ہے 2014 میں ایک بحری جہاز کے مالک پر کرپشن اور ٹیکس چوری کا کیس بنا تو اس نے سزا ملنے سے پہلے ہی خود کشی کرلی۔

کوریا میں دو چیزیں بہت واضح ہیں۔
ایک۔
عدالت سے سزا یافتہ ہائی پروفائل شخصیت کو نہایت زلیل اور گھٹیا انسان سمجھا جاتا ہے اور وہ خود بھی عوام کا سامنے کرنے کی بجائے مر جانا بہتر سمجھتا ہے۔
دو۔
عدالتیں امیر غریب کا لحاظ کیے بغیر انصاف کرتیں ہیں۔

جس کافر ملک میں انصاف ہو وہ مسلمان ملک سے لاکھ درجے بہتر ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here