جنرل مشرف پر بنیادی تنقید اسکی امریکہ کے ساتھ تعلقات اور پالیسی پر کی جاتی ہے

0
516

میرے پرانے مضمون کا کچھ حصہ شائد آج آپ اس میں موجود کچھ باتوں کو تسلیم کر سکیں!

“جنرل مشرف پر بنیادی تنقید اسکی امریکہ کے ساتھ تعلقات اور پالیسی پر کی جاتی ہے کہ اس نے امریکہ کو پاکستان پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذرا اس کا جائزہ لیتے ہیں کچھ چیزیں بلکل ویسی نہیں تھیں جیسی سمجھی اور بتائی جاتی ہیں۔

جب امریکہ نے پاکستان کو حملے کی دھمکی دی کہ یا راستہ دو یا جنگ کرو اس وقت پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی ڈیولپ نہیں تھی اور نیوکلیر ہتھیاروں کے لیے کوئی ڈیلوری سسٹم نہیں تھا۔ کم از کم امریکہ کی حد تک بلکل نہیں تھا۔ جدید دور میں جہازوں کے ذریعے ایٹمی حملہ خام خیالی ہے۔ طاقت کا توازن بری طرح سے پاکستان کے خلاف تھا۔ اگر صرف ائر فورس کی بات کی جائے تو پاکستان کے پاس 700 یا 800 جنگی جہاز تھے جبکہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے پاس 30،000 کے لگ بھگ ۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف چین اور روس کی تو گویا لاٹری نکل آئی تھی۔ انکی شدید خواہش تھی کہ امریکہ کو افغانستان کے دلدل میں گھسیڑا جائے اسلئے اپنی تاریخ میں پہلی بار چین پاکستان سے اس معاملے میں پیچھے ہٹ گیا تھا۔ انڈیا اور اسرائیل امریکہ کو مسلسل پہلے پاکستان پر حملہ کرنے کی دعوت دے رہے تھے اور انڈیا اس حملے میں اڈوں کی فراہمی سمیت اپنے مکمل تعاون کا یقین دلا رہا تھا بے شک اسلام آباد پر گھبراہٹ طاری تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
پاکستان پر ایک ایسی جنگ مسلط ہونی تھی جس میں کروڑوں اموات یقینی تھیں۔۔۔۔۔

یہاں آپ کوئی بھی نعرہ مستانہ لگا سکتے ہیں اور فوراً کہہ دیں گے کہ افغانستان جیسے بے سروسامان ملک نے مزاحمت کر لی تو ہم کیوں نہیں ؟؟

تو یہاں دو باتیں سمجھنے کی ہیں۔

پہلی بات یہ کہ آج جب یہ بات ثابت ہو رہی کہ افغان طالبان کے پیچھے بھی پاک فوج ہی ہے اور آج بھی افغان طالبان کے سرکردہ لیڈران پاکستان کی پناہ میں ہیں تب یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان نہ ہوتا تو آج افغانستان میں کوئی جہاد نہ ہو رہا ہوتا۔

دوسری بات یہ کہ افغانستان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ پورے افغانستان میں آٹے کی ایک مل تک نہیں ہے۔ کل چھ جنگی ہیلی کاپٹر افغانستان کا کل اثاثہ تھے جن کو اڑانے کا موقع بھی نہیں ملا۔ دوسری طرف پاکستان ایک بہت بڑی آبادی والا اور ڈیولپ ملک جسکے پاس نیوکلیر ہتھیار ہیں۔ بہت سی صنعتیں ہیں اور ایک بہادر اور طاقتور فوج۔ لیکن اتنی بڑی طاقتوں سے بیک مقابلہ اور اس جدید جنگی دور میں میزائل ٹیکنالوجی نہ ہو تو دشمن کو آپکی سرزمین پر اترنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ انہوں نے صرف اپنے میزائلوں اور جنگی ہوائی جہازوں کے ذریعے آپکی اہم تنصیبات خاص کر نیوکلیر پلانٹس موٹر ویز ،صنعتون اور فوجی اڈوں کو تباہ کرنا تھا جبکہ آپکے پاس جواب دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ آپ زیادہ سے زیادہ انکے کچھ جنگی جہاز گرا لیتے بس۔ کوئی آپشنز نہیں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپکی فوج جتنی بھی بہادر ہو وہ زمین پر کچھ نہ کر پاتی۔ آپکے سب سے جدید جنگی جہاز ٖایف 16 تک امریکی حساب سے نہایت پرانے بلکہ متروکہ ہو چکے ہٰیں آپکا واسطہ زمین پر ہرگز کسی فوج سے پڑنے والا نہیں تھا۔ امریکہ نے اپنے اڈے پھر بھی افغانستان میں ہی بنانے تھے یہاں نہیں۔ کرنا صرف یہی تھا کہ آپکی فوجی طاقت کو تباہ کر کے آپکو انڈیا کے لیے تر نوالہ بنا لیا جاتا ۔۔۔۔!

ان سب عوامل کو دیکھتے ہوئے امریکہ کو راستہ دینے کا فیصلہ ہوا اور ساتھ ہی نہایت پراسرار انداز میں طالبان کے تمام سرکردہ لیڈران غائب ہوگئے (جن میں سے کئی بعد میں پاک آرمی ہی کی گود سے برآمد ہوئے) امریکہ نے افغانستان کے پہاڑوں سے خوب سر ٹکرایا لیکن کچھ ہی عرصے بعد انکے خلاف طالبان کی مزاحمت شروع ہوئی جو چند سالوں میں اتنی شدید ہوگئی کہ امریکہ کی چیخیں نکل گئیں۔ اسکے جنگی اخراجات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ اب اس کی معشیت بیٹھنے لگی ہے۔ نتیجے میں امریکہ نے اپنے عوام سے بہت سی سہولیات واپس لے لیں۔ جسکی وجہ سے اسکی کم از کم 26 ریاستیں اس سے الگ ہونے کی باتیں کر رہی ہیں۔ امریکہ کا انجام روس جیسا ہوگا انشاءاللہ ۔۔۔

کچھ ہی عرصے بعد افغانستان مزاحمت یا افغان طالبان کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ڈھونڈ لیا گیا۔ لیکن اب دیر ہوچکی تھی۔ امریکہ اپنی تاریخ کی سب سے بھیانک غلطی کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افغان مزاحمت کو نہ تو چین سپورٹ کر سکتا ہے نہ تاجکستان اور ازبکستان جو کہ شمالی اتحاد کے ہمدرد دوسرے لفظوں میں امریکہ کے ساتھ ہیں اور ایران بھی شمالی اتحاد ہی کا ہمدرد رہا ہے مسلکی بنیاد پر۔۔۔۔۔۔۔!!

امریکہ حملے کے صرف چند دن بعد ہی جلال الدین حقانی صاحب اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کواٹر تشریف لائے اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل محمود سے ملاقات کی۔ جنرل صاحب نے سوال کیا کہ ” کیا پلان ہے ؟” ۔۔۔ حقانی صاحب نے فرمایا کہ ” جب تک امریکہ ہوا میں ہے جو مرضی کرتا رہے۔ لیکن جب زمین پر اترآئیگا تو ہم اس کو دیکھ لینگے ” ۔۔ اس ملاقات کی خبر لیک ہوئی جس کےبعد امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کو بھی کلعدم قرار دے دیا۔ اس معاملے کو بڑی مشکل سے دبایا گیا ( جنرل محمود صاحب آجکل تبلیغی جماعت میں چلے لگا رہے ہیں )

مجاہدین کی ٹریننگ، ہتھیاروں کی فراہمی اور ٹھکانے کسی بھی مزاحمتی تحریک کی بنیادی ضروریات ہوتی ہیں اب اندازہ لگانا مشکل نہٰیں کہ کم از کم پندرہ سال تک یہ سب پاکستان اکیلے کرتا رہا جس میں مشرف کے 9 سال بھی شامل ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اب اس نقطے کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ اگر پاکستان احمقانہ انداز میں اپنی جنگی طاقت ایک جذباتی فیصلے کی نظر کر دیتا تو افغانستان میں کوئی جہاد نہ ہوپاتا نہ ہی پاکستان اس قابل رہتا کہ انڈیا سے ہی خود کو سنبھال سکے سب کچھ مٹی کا ڈھیر ہو جاتا۔۔۔۔۔۔!!

ہمارے بزرگوں نے بھی مشکل حالات میں ایسے معاہدے کیے جو اس وقت دشمن کی شرائط کے مطابق ہوتے تھے لیکن بعد میں انکا نتیجہ فتوحات کی صورت میں برآمد ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! اسکا فیصلہ جلد ہی ہوجائے گا کہ وہ مشرف کا صحیح فیصلہ تھا یا ٖغلط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

میں نے اوپر لکھا کہ “اب دیر ہوچکی تھی امریکہ کے لیے”۔۔۔۔ دیر کیسے ؟؟ جب پاک فوج کی افغان جہاد کو کنٹرول کرنے کی ڈاکومنٹریز تک آگئیں تب امریکہ نے دوبارہ پاکستان پر حملہ کیوں نہیں کیا ؟؟؟

امریکہ کو راستہ دینے کے ساتھ ہی پرویزمشرف نے پاکستان بلکہ شائد دنیا کی تاریخ کی تیز ترین میزائل ڈیویلپمنٹ شروع کی۔ ذرا یاد کریں وہ دن جب امریکہ کے حملے کے فوراً بعد پاکستان ہر دوسرے تیسرے دن ایک نئے میزائل کا تجربہ کر رہا تھا۔ یہانتک کہ ایک دن پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ” ہم انڈیا کے علاوہ بھی بہت سے ملکوں کو ہٹ کر سکتے ہیں” ۔۔۔۔ جس پر امریکہ مٰیں بڑی لے دے ہوئی کہ انڈیا کے علاوہ پاکستان کن ملکوں کو ہٹ کرنے کی بات کر رہا ہے۔۔۔۔!!!

پرویز مشرف نے فرانس کے ساتھ مل کر آگسٹا آبدوز پراجیکٹ شروع کیا اور اسکی تکمیل کی ۔۔۔۔ یہ پراجیکٹ پاکستان کو سیکنڈ سٹرائیک کیپیبلیٹی دیتا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ ان میں ایٹمی میزائل فٹ کیے جا سکتے ہیں جو زیر سمندر 400 میٹر نیچے سے کسی ملک پر ایٹمی حملہ کر سکتے ہٰیں یعنی اگر دشمن آپ پر ایٹمی حملہ کرنے مٰیں پہل کر لے اور خدانخواستہ آپکے ساری زمینی تنصیبات تباہ ہوجائیں تو آپ دشمن پر سمندر سے ایٹمی حملہ کر سکتے ہیں اگر آپکا ایک اس طرح کا آبدوز سمندر میں پھر رہا ہو تو دشمن آپ پر حملہ کرنے کی جراءت نہیں کر سکتا اللہ کے فضل سے اسوقت کم از کم ہمارے تین آگسٹا آبدوزٰیں سمندروں میں راج کر رہی ہیں ۔۔۔!!

پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا بلکہ آئی اے ای اے کی ڈاکٹر عبدالقدیر سے ملاقات کی اپیل بھی مسترد کردی جبکہ پوری دنیا کے سامنے ثابت ہوچکا تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے ایران،لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی معلومات اور سامان دیا ۔۔۔۔۔۔۔ امریکہ یا آئی اے ای اے نے ڈاکٹر خان کو سزا نہیں دینی تھی بلکہ وہ اس سے اہم نوعیت کی معلومات حاصل کرتے جس سے پاکستان سمیت ایران اور شمالی کوریا تک کا ایٹمی پروگرام خطرے میں پڑ جاتا ( جبکہ ہماری ایک جمہوری لیڈر بے نظیر بھٹو نے اعلان فرمایا تھا کہ وہ امریکہ کو رسائی دے دیں گی نتائج کی پرواہ کیے بغیر) بہرحال عوام کے سامنے ٹی وی پر معافی کا ایک ٹوپی ڈرامہ ہوا اور بس امریکہ کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔۔۔۔۔!!

مشرف نے لارے دینے کے باوجود اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جس وقت پاکستان زبردست دباؤ میں تھا مشرف نے یہ لارا دیا تھا جس پر اسرائیل بڑا خوش تھا کیونکہ اسرائیل کا اگر پاکستان میں اپنا سفارت خانہ بن گیا تو وہ تباہی مچا سکتا ہے۔ لیکن جیسے ہی حالات کچھ نرم ہوئے تو اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

پرویز مشرف نے گوادر پراجیکٹ پر کام کا آغاز کیا جو امریکہ کی موت ہے۔ اس پراجیکٹ کی وجہ سے چین کو خلیجی ریاستوں تک امریکی دست برد سے محفوظ ایک راستہ مل جائے گا اسکی کافی لمبی تفصیل ہے کہ اس سے امریکہ کو کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔ مشرف کے ہٹائے جانے کی ایک بڑی وجہ اسکا چین کے ساتھ ملکر گوادر پراجیکٹ پر کام کرنا بھی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔!!

مشرف دور میں پاکستان نے بہت عرصہ بعد پہلی بار باوجود امریکی مخالفت کے ایران سے اپنے تعلقات ٹھیک کیے اور اسکا نتیجہ پاک ایران انڈیا گیس پائپ لائن کی صورت میں برآمد ہوا جس پر انڈیا کو تقریباً قائل کیا جا چکا تھا۔ اس پائپ لائن کے نیتیجے میں انڈیا کی کم از کم چالیس فیصد گیس کی ضروریات پوری ہونی تھیں اسکا مطلب انڈیا کے ایک بہت بڑی کمزوری ہمارے ہاتھ میں ہوتی۔ جب بھی وہ ہمارا پانی روکتا ہم یہاں سے انکی گیس بند کر دیتے! لیکن بعد میں آنے والی جمہوری حکومت اپنے “جمہوری جھگڑوں” میں پڑ گئی اور وہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!

اور سب سے آخر میں جب پرویز مشرف نے یہ اعلان کیا کہ “طالبان آر ناٹ ٹرارسٹس دے شوڈ بی براٹ آن بورڈ” ۔۔۔۔۔ یعنی طالبان دہشت گرد نہیں ان سے بات ہونی چاہئے یا انکو قومی دھارے میں لانا چاہئے (اشارہ افغان طالبان کی طرف تھا۔ افغان طالبان کو قومی دھارے میں لانے کی پالیسی آج راحیل شریف چلا رہے ہین ) تب پرویز مشرف کو ہٹایا جانا ضروری ہوگیا اس جملے نے مشرف کو ہٹانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔!!

چاہے آپ پرویز مشرف کو امریکی ایجنٹ کہیں یا جو بھی ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے اور اسکو اعدادشمار سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” اگر امریکہ کو اسکی دو سو سالہ تاریخ میں عملی طور کسی ایک شخص نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے تو وہ پرویز مشرف ہی ہے”

وہ مشرف جس پر سب سے زیادہ لعن طعن اسکی امریکی کے ساتھ دوستی یا امریکا کے بارے میں پالیسیوں پر کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here