جنرل ضیاء پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ افغانیوں کو پاکستان لایا جن کے ساتھ ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر آیا ۔

افغانی پاکستان کیوں آئے تھے؟ روس کے افغانستان پر حملے کی وجہ سے۔ اور روس کو اس حملے کی دعوت کس نے دی تھی؟ یہ دعوت جنرل ضیاء نے نہیں بلکہ ان سرخوں نے دی تھی جو آج بھی افغانیوں کو واپس بھیجنے کے خلاف ہیں۔ انہی افغانیوں کے ساتھ پاکستان میں روسی کلاشنکوف اور ہیروئن آئی۔

0
1288

جنرل ضیاء پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ افغانیوں کو پاکستان لایا جن کے ساتھ ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر آیا ۔۔۔۔۔۔
کیا واقعی؟ ۔۔۔۔۔ آئیے آج اس پر بات کرتے ہیں۔ 
کچھ باتیں سمجھنے کی کوشش کریں۔

روس کے خلاف جہاد اور جنرل ضیاء کی شرائط

افغانی پاکستان کیوں آئے تھے؟
روس کے افغانستان پر حملے کی وجہ سے۔
اور روس کو اس حملے کی دعوت کس نے دی تھی؟
یہ دعوت جنرل ضیاء نے نہیں بلکہ ان سرخوں نے دی تھی جو آج بھی افغانیوں کو واپس بھیجنے کے خلاف ہیں۔
 انہی افغانیوں کے ساتھ پاکستان میں روسی کلاشنکوف اور ہیروئن آئی۔

مضمون نمبر 1

روسی حملے سے پہلے افغانستان میں ہیروئین کی پیدوار کو افغانستان کا حکمران خاندان کنٹرول کرتا تھا اور نسبتاً محدود تھی۔ لیکن روسی حملے کے بعد جب مرکزی حکومت ختم ہوئی تو تمام وارلارڈز نے افیون کی کاشت خود شروع کر دی جس کےنتیجے میں افغانستان دنیا میں سب سے زیادہ افیون پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔

ظاہر ہے اس افیون کی کھپت افغانسستان میں تو ممکن نہ تھی۔

بھٹو اور ضیاء میں کردار کا فرق

ایران میں فوری اور سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ دوسری طرف روس تھا جہاں سے حملہ جاری تھی۔ گو کہ اس کے باؤجود روس میں افیون کی بہت بڑی مقدار کھپائی گئی۔
تب ایک پاکستان ہی بچتا تھا جس کی افغانستان کے ساتھ سب سے لمبی اور پیچیدہ سرحد ہے جسکی اس وقت کوئی نگرانی موجود نہیں تھی۔

افغانیوں اور ہیروئن کو روکا کیوں نہیں گیا؟

کیا واقعی جنرل ضیاءالحق نے ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کروایا تھا؟

پاک افغان سرحد دنیا کی سب سے پیچیدہ اور مشکل سرحد ہے۔ اس کا ایک بہت بڑا حصہ ان قبائیلی علاقوں پر مشتمل جہاں بہت سے گاؤں ایسے ہیں جو آدھے افغانستان اور آدھے پاکستان میں ہیں۔
۔ 2005ء سے پہلے کبھی پاک فوج اس قبائیلی پٹی اور ان سرحدوں پر تعئنات ہی نہیں ہوئی تھی۔
اس لیے نہ وہاں سے افغانیوں کی نقل و حمل کو روکا جا سکتا تھا اور نہ ہی ان کے ساتھ آنے والی ہیروئین اور کلاشنکوف کو۔

جنرل ضیاء الحق اور الطاف بھائی

آج پاکستان کی کم از کم دو سے ڈھائی لاکھ فوج پاک افغان سرحد پر تعئنات ہے اس کے باؤجود اس 2200 کلومیٹر لمبی سرحد کی مکمل نگرانی نہیں ہو پارہی اس لیے مجبوراً پاک فوج اب اس سرحد پر باڑ لگا رہی ہے۔

اب تھوڑی کلچر کی بات کرتے ہیں۔

میں خود ایک قبائیلی ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ سب سے زیادہ ہیروئن کی سمگلنگ میں قبائیلی ملوث ہیں اور سب سے زیادہ اسلحہ بھی قبائل کے پاس ہے۔

پاکستان کا پلوٹونیم بم

لیکن شائد آپ یہ سن کر حیران ہوں کہ پاکستان میں سب سے کم ہیروئین پینے والے قبائیلی ہیں۔ بلکہ کم از کم مجھے آج تک ایک بھی قبائیلی ہیروئنچی نہیں ملا۔

کلاشنکوف تو کیا ان کے پاس گھروں میں راکٹ لانچر تک موجود ہیں۔ لیکن دہشت گردوں کی آمد سے پہلے غالباً پاکستان بھر میں قتل اور چوری کی سب سے کم وارداتیں قبائل میں ہوتی تھیں۔

کیوں؟

یہ 80 کی دہائی کا درمیان عرصہ تھا

سادہ سی بات ہے۔ وہاں جرگے کی مدد سے تیز رفتار انصاف کا نظام رائج ہے بس۔

کلاشنکوف کلچر سے اگر آپ کی مراد یہ ہے کہ ضیاء نے پاکستانیوں میں کلاشنکوف تقسیم کی جس کے بعد وہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے تو اس سے زیادہ بودی اور مضحکہ خیز بات کوئی اور نہ ہوگی۔

درحقیقت پاکستان میں انصاف ناپید ہے۔ جس کی وجہ سے بےخوف قتال و فساد عام ہے اور اس کے لیے انکو کسی کلاشنکوف کی بھی ضرورت نہیں۔ جو کچھ ان کے ہاتھ لگتا ہے یہ کر گزرتے ہیں۔

ایک اہم ترین بات اور ۔۔

 ﺟﺐ ضیاء الحق ﮐﯿﭙﭩﻦ ﺗﮭﮯ 

اگر پھر بھی ضیاء ہی ذمہ دار تھا تو اس کے بعد ان 27 سالوں میں افغانیوں، ہیروئین اور کلاشنکوف کو روکنے کے لیے کیا کیا گیا؟؟

بلکہ حالت یہ ہے کہ جو کیا جا رہا ہے اس کے راستے میں بھی روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔

پاک فوج افغانیوں کو واپس بھیجنا چاہتی ہے۔ جے یو آئی، اے این پی اور اچکزئی مخالف۔
پاک فوج سرحد پر باڑ لگانا چاہتی ہے۔ جے یو آئی، اے این پی اور اچکزئی مخالف۔

لیکن ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ صرف چند دن پہلے پاکستان میں سرخوں کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت اے این پی کے لیڈر غلام بلور نے ایک بار پھر تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ ” آمریت نے ہمیں ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر دیا ” ۔۔

یہ وہی سرخے ہیں جن کی دعوت پر روس نے افغانستان پر چڑھائی کی تھی اور جس کے نیتجے میں یہ سب کچھ ہوا۔

جن دنوں جونیجو جنرل ضیاء کی محنت کا کریڈٹ لینے کے چکر میں روس سے معاہدہ کرنے کو بے تاب تھا انہی دنوں جنرل موصوف نے کہا تھا کہ ” مجاہدین کی حکومت تسلیم کروائے بغیر روس سے یہ معاہدہ نہ کرو ورنہ افغانستان میں حکومت کے حصول کے لیے یہ سارے آپس میں لڑ پڑینگے نتیجے پاکستان میں پناہ لینے والے اٖفغانی یہیں رہ جائنگے” ۔۔

اس وقت کی جمہوری بالشتیوں نے ضیاء کی بات پر کان نہیں دھرے اور بعد میں بلکل وہی ہوا جسکا اندیشہ جنرل ضیاء نے ظاہر کیا تھا۔

اور ایک آخری بات۔ جتنے افغانی پاکستان آئے تھے اتنے ہی ایران بھی گئے تھے۔ دونوں ممالک نے انسانی ہمدردی کی بنا پر انکو پناہ دی تھی تاکہ انکی جانیں بچ سکیں۔

ایران نے آخر کیسے ان کو سنبھالا؟

حقائق جانے بغیر کچھ رٹے رٹائے جملے دہرا کر درحقیقت ہم جنرل ضیاء کے ساتھ تاریخی بے انصافی کر رہے ہیں۔

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔۔۔۔۔۔ پلے سٹور میں جاکر Related Pakistan نامی ایپ انسٹال کیجیے ۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here