جنرل ضیاء ایک غریب اور مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور فوج میں کمیشن لے کر رفتہ رفتہ چیف آف آرمی سٹاف بن گئے

0
416

مضمون نمبر 6 

عظیم لیڈر ، دلیر سپاہ سالار ،بہت بڑا مدبر ، نہایت ذہین سیاست دان بہترین سفارت کار، تعلقات عامہ کا بہت بڑا ماہر اور ایک سچا اور کھرا مسلمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے پاس زیادہ بہتر الفاظ نہیں ہیں جو میں جنرل ضیاء الحق کے لیے کہہ سکوں ۔۔۔۔۔ آج ان کا یوم شہادت ہے میں جانتا ہوں کہ اسکی مدح سرائی پر مجھے کچھ نہیں مل سکتا سوائے تنقید اور طنز کے ۔۔۔۔ لیکن یہ میرے دل سے نکلے ہوئے الفاظ ہیں اور مجھے اس معاملے میں سوائے اللہ کے اور کسی کا ڈر نہیں اور میں حق ضرور کہوںگا ۔۔۔۔۔۔۔

روس کے خلاف جہاد اور جنرل ضیاء کی شرائط

آج اس مضمون میں جنرل ضیاء کی زندگی کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں جو بہت مشکل ہے لیکن کوشش کرتے ہیں کہ اہم ترین معاملات پر مختصر مختصر لکھ لیا جائے ۔!!

جنرل ضیاء ایک غریب اور مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور فوج میں کمیشن لے کر رفتہ رفتہ چیف آف آرمی سٹاف بن گئے اور بعد میں پاکستان کے سربراہ۔!!

مضمون نمبر 2

جنرل ضیاء کا تعلق مذہب کی طرف بچپن سے ہی تھا فوج میں کمیشن لینے پر ایک انگریز افسر نے انکی اس مذھب پسندی پر سرزنش کی تھی جس پر وہ اس افسر کے سامنے اکڑ گئے تھے ۔۔۔۔ بریگیڈیر بن گئے تب انکے نیچے کام کرنے والی بریگیڈ سے شراب نوشی کا خاتمہ کر دیا گیا گو اس وقت پاک آرمی کے میسوں اور حکومت کے اعلی طبقاب میں شراب نوشی عام تھی اور انکے دیکھا دیکھی اور انکی ترغیب پر اسکی بریگیڈ کے اکثر لوگ نمازی بن گئے ۔۔۔۔۔۔۔ !!

بھٹو اور ضیاء میں کردار کا فرق

سربراہ مملکت بننے کے بعد بھی انکی یہی روش رہی اور ریاستی طور پر جو کچھ نفاذ اسلام کے لیے کیا جا سکتا ہے جنرل ضیاء نے وہ سب کچھ کیا اور جتنا کام اسنے کیا اس سے پہلے اور بعد کے حکمران اس کا دسواں حصہ بھی نہ کر سکے ۔۔!!

جنرل ضیاء نے ایک جمہوری حکومت کا تختہ کیوں الٹا اسکا مختصر جواب قائداعظم کے رفقائے کار میں سے ایک مشہور دانشور و صحافی جناب زیڈ اے سلہری صاحب کے ان الفاظ میں ملتا ہے ۔۔۔۔”اگرچہ ضیاء پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فوجی آمریت کو دوام بخشا مگر اس بات کی اصلیت یہ ہے کہ بھٹو نے جمہوریت کا ایسا خرابہ کر کے رکھ دیا تھا کہ ملک کی سالمیت ہی خطرے میں پڑ گئی تھی “۔۔۔۔!!

کیا واقعی جنرل ضیاءالحق نے ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کروایا تھا؟

روس سے پاکستان نے اپنی بقا کی جنگ لڑی تھی ۔۔روس افغانستان میں کبھی نہ رکتا ۔۔۔۔۔۔اور چونکہ امریکہ بھی روس کا دشمن تھا لہذا چار سال بعد وہ بھی اس جنگ میں شریک ہوگیا وہ بھی ضیاء الحق کی شرائط پر ۔ اور جو شرائط امریکہ سے منوائیں گئیں وہ شائد سفارت کاری کی تاریخ کا ایک ناقابل یقین کارنامہ ہوگا جبکہ پاکستان سخت کمزوری کی حالت میں تھا ۔۔۔!!

یہ 80 کی دہائی کا درمیان عرصہ تھا

روس کو شکست دینا ضیاء الحق کا عظیم کارنامہ تھا جن کو اس جنگ پر اعتراض ہے وہ اس سوال کا جواب کبھی نہیں دے پاتے کہ ” اگر ضیاء روس کو افغانستان میں نہ روکتا تو کیا کرتا ؟ کیا روس کے پاکستان پر حملے کا انتظار کرتا رہتا ؟؟” اور اس جملے کے جواب میں کہ ” ضیاء امریکہ کا ایجنٹ تھا” ہم ایک ممتاز بھارتی صحافی اور دانشور جناب ایم جے اکبر صاحب کے سن 88 میں ” انڈیا ٹوڈے ” میں چھپنے والے ایک مضمون کا اقتباس پیش کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!

مضمون نمبر 5

“صدرضیاءالحق کسی نہ کسی طرح امریکہ کے ساتھ دوستی اپنی شرائط پر قائم رکھنے میں کامیاب ہو چکے ہیں ۔ صدر ضیاءالحق کا یہی امتیاز ہے کہ پاکستان کے تمام سول اور فوجی حکمرانوں میں واحد ہیں جنہوں نے پاکستان کے کسی موءقف میں ذرا بھی لچک پیدا کیے بغیر امریکہ سے اپنے معاملات کو درست رکھا”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ضیاء ہی تھا جس نے عراق اور ایران کی جنگ کو بزور طاقت روک دیا تھا ۔

ضیاء کے دور میں کشمیر کے معاملے پر انڈیا سفارتی لحاظ سے اور عملاً اپنی تاریخ کی کمزور ترین اور بدترین صورت حال سے دوچار ہو چکا تھا اور خالصتان نامی سکھوں کا علیحدہ ملک تقریباً بن گیا تھا جس سے ہمارا کم از کم آدھا بارڈر انڈیا سے محفوظ ہوجاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔!!

ﺟﺐ ضیاء الحق ﮐﯿﭙﭩﻦ ﺗﮭﮯ 

انڈیا کے لیے جنرل ضیاء الحق ایک بھیانک خواب بن چکے تھے یہ ضیاء الحق کا کمال تھا کہ انڈیا کو اپنی بہت بڑی جنگی مشین استعمال کرنے کا موقع دئیے بغیر وہاں تک لے گئے تھےکہ انڈین دانشور چیخنے لگے ” اگر ضیاء زیادہ دیر زندہ رہا تو بھارت ماتا کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔۔۔۔۔۔!!”

پاکستان کا پلوٹونیم بم

پھر جب انڈیا اپنی ساری فوج بارڈر پر لے آیا تو ضیاء کے محض چند جملوں نے انڈیا کی اس ساری ملٹری کیمپین کو بے معنی کر کے رکھ دیا۔
ضیاءالحق جب اقتدار میں آیا تو ایٹم بم محض کاغذوں تک محدود تھا یہ ضیاء ہی تھا جس نے بغیر کسی دباؤ میں آئے غیر معمولی برق رفتاری سے اسکی تکمیل کی اور ساتھ ہی اس وقت کے لحاظ سے پاکستان کے لیے جدید ترین جنگی جہاز ایف 16 حاصل کیے اور پاکستان کی دفاعی قوت میں غیر معمولی اضافہ کیا ۔!!

مضمون نمبر 3

پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر حملے کی سازش کےجواب میں ضیاء الحق نے نہایت جراءت سے فوری طور پر انڈین اور اسرائیلی ایٹمی پروگرامز پر بیک وقت حملہ کرنے کا پلان بنایا ۔ جسکی انکو خبر ہوگئی اور وہ حملہ کرنے کی جراءت نہ کر سکے ۔ (اسکی تفصیل آج لکھوں گا انشاءاللہ )

جب عرب مسلم لیڈروں کے اجتماع میں مصر نے شرکت سے انکار کیا تو اس کو منانے کے لیے جنرل ضیاء سے درخواست کی گئی ۔ پھر ضیاء کی محنت کا یہ اثر ہوا کہ وہی عرب جو ایک دوسرے سے بات کرنے پر تیار نہ تھے ” یا اخی ” کہہ کر روتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور مصر مان گیا ۔

جنرل ضیاء الحق اور الطاف بھائی

اقوام متحدہ میں جب مسلمانوں کا موقف پیش کرنے کی بات آئی تو پوری دنیا کے مسلمانوں نے ضیاء الحق کا نام چنا پاکستان عملاً مسلم دنیا کا لیڈر ملک بن چکا تھا۔۔۔۔۔۔!!

ان سب معاملات کے ساتھ ساتھ ضیاء کا دور ارزانی او برکت کا دور تھا جب مسلسل گیارہ سال تک چیزوں کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔ عوام خوشحال تھے سوائے ان چند گنے چنے لوگوں کے جن کو نظریاتی اختلاف تھا یا جن کو جمہوریت نامی بیماری لاحق تھی ۔!!

بھٹو میڈیا میں جو فحاشی لایا تھا اس کو بند کر دیا گیا ۔

مضمون نمبر 1

ضیاء کو خراب اور کمزور جمہوریت ہی نے کیا جب اسنے جونیجو حکومت قائم کرکے جمہوریت کے لیے راہ بنائی اور جونیجو نے فوری طور پر ہر جمہوری حکومت کی طرح عوام کو چھوڑ کر ضیاءالحق اور پاک فوج کو ہی نشانہ بنانے پر اپنی توانائیاں صرف کرنی شروع کر دیں ۔۔۔!!

جنیوا کنونشن پر باوجود ضیاء کی مخالفت کے دستخظ کر دئیے گئے جبکہ جنرل ضیاء کا موقف تھا کہ اگر افغانستان میں مجاہدین کی حکومت تسلیم کروائے بغیر یہ دستخط کیے گئے تو افغانستان میں خانہ جنگی ہو جائیگی اور افغان مہاجرین پاکستان ہی میں رہ جائیںگے  اور بعد میں بلکل یہی ہوا۔۔۔۔۔

جنرل ضیاء پر ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر جیسے الزامات

دوسری سازش ضیاء کے خلاف اوجڑی کیمپ کی صورت میں کی گئی جس میں ان بالشتی جمہوریوں نے محض جنرل ضیاء کی مخالفت میں ملک کی سالمیت کو ہی داؤ پر لگا دیا اور ضیاء الحق کے پاس کوئی چارہ نہ رہا سوائے اسکے کہ جمہوری بساط کو لپیٹ دے ( اس پر اگلے کسی مضمون میں تفصیل سے لکھیں گے کہ وہ کیا کرنے والے تھے )

لیکن ان سب اندرونی سازشوں کے باوجود ضیاء الحق امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔ انکو قتل کرنے کئی کوششیں ہوئیں لیکن جب ضیاء الحق نے وہ جراءت کر لی جسکا آج تک ہم صرف خواب دیکھتے آئے ہیں تب اس پر فیصلہ کن وار کیا گیا اور اس وار میں نام نہاد جمہوری پارٹی کے ایک وارث شاہنواز بھٹو کی دہشت گرد تنظیم الذولفقار نے اہم کردار ادا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔!!

وہ جراءت کیا تھی ؟۔۔۔بہت کم لوگ یہ جانتے ہونگے کہ ضیاءالحق پاکستان ، افغانستان اور ایران کا ایک بلاک بنانے کے اتنے قریب آگئے تھے کہ روسی انخلاء کے صرف دو سال بعد اس معاہدے پر دستخط ہونے تھے جسکے تحت اس بلاک کا سربراہ پاکستان ہوتا اور ترکی سمیت کئی اور مسلم ممالک نے بھی اس میں اپنی بھر پور دلچسپی ظاہر کی تھی ۔۔!! یہی ضیاءالحق کا خطرناک ترین اقدام تھا جسکی طرف وہ تیزی سے بڑھ رہا تھا۔

” مسلمانوں کی ایک مشترکہ حکومت کا خواب”۔۔!!

ضیاء کو امریکہ وغیرہ کا ایجنٹ کہنے والے۔۔۔۔۔ سابقہ امریکن سفیر برائے انڈیا مسٹر گنٹر ڈین کا یہ بیان پڑھ لیں کہ “ضیاء الحق کو را، موساد اور سی آئی اے نے ملکر قتل کیا ہے کیونکہ ضیاء پوری دنیا کا نقشہ تبدیل کرنے پر تلا ہوا تھا ۔ امریکہ کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ضیاء ایسا کر سکتا ہے ” ۔۔۔۔۔!! اس سفیر کو امریکہ نے پاگل قرار دے کر بند کر دیا تھا وہ آج بھی زندہ ہے اور اپنا کیس امریکی حکومت کے خلاف لڑ رہا ہے ۔!!

ضیاء پر ایم کیو ایم اور مہاجرین کا الزام عائد کیا جاتا ہے اس پر بھی تفصیل سے بات کرنے کی ضرورت ہے یہاں مختصرا یہ کہیں گے کہ اس وقت کے لحاظ سے دونوں فیصلے درست تھے ۔۔!!

کلاشنکوف کلچر اور ہیروئن کلچر نامی الزامات بھی محض فلسفے اور پرتعصب نعرے ہیں جنکو اتنی مرتبہ دہرایا گیا ہے کہ لوگوں کی زبان پر چڑھ گئے ہیں ۔ اصلیت یہ ہے کہ کلاشنکوف افغانستان میں روس لایا اور افیون جنگ کی وجہ سے افغانستان میں کاشت کی گئی ۔ پاکستان اور افغانستان کی غیر معمولی لمبی اور پیچیدہ سرحد پر انکی پاکستان سمگلنگ آسان تھی ۔ جو لوگ ضیاء پر الزام لگاتے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اس سمگلنگ کو نہیں روک سکا ہے ۔ ہاں ضیاء کے بعد یہ سمگلنگ بڑھ ضرور گئی کم نہیں ہوئی ۔

نیز جن جہادیوں کی بات کی جاتی ہے تو یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ وہ ضیاء الحق نے نہیں بلکہ بھٹو نے سردار داؤود کے خلاف تیار کیے تھے جن کو جنرل نے صرف روس کے خلاف استعمال کیا ۔ اور ضٰیاء کے مجاہدین آج بھی پاکستان کے خلاف نہیں ہیں نہ انکا پاکستان کے خلاف لڑنے والوں سے کوئی تعلق ہے ۔۔۔۔!!

ہاں امریکہ کا جو حشر آج افغانستان میں ہو رہا ہے اسکے لیے ہم امریکی دانشوروں میں سے ایک ضیاء مخالف دانشور سلیگ ہیرسن کی واشنگٹن پوسٹ میں لکھے ایک آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہیں اسنے لکھا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ضیاء کے مر جانے کے بعد بھی جنرل کی روح پاکستان اور امریکہ کی افغان پالیسی پر چھائی ہوئی ہے مرحوم نے جو طاقتور ملٹری اینٹلیجنس تنظیم (آئی ایس آئی) قائم کی تھی آج بھی وہی افغان معاملات کو کنٹرول کر رہی ہے”

بالاآخر امریکہ ضیاءالحق کے ہاتھوں افغانستان میں شکست سے دوچار ہے ۔۔۔!!

ضیاء الحق کے بارے میں میں مختصراً یہ کہونگا کہ ہم پاکستان اور اسلام کے معاملے میں میں دن رات جو لفاظی اور یاوہ گوئی کرتے رہتے ہیں اور عملاً باتوں کے علاوہ کبھی کچھ نہیں کر پاتے جنرل ضیاء واحد مسلم لیڈر تھے جو اس جدید دور میں ان سب باتوں کو عملی جامہ پہنانے پر تلے ہوئے تھے اور عملاً وہاں تک گئے تھے کہ اگر کچھ عرصہ اور زندہ رہتے تو شائد دنیا کا نقشہ

ہی کچھ اور ہوتا ۔۔۔۔۔!!!

اس کو غاصب اور ڈکٹیٹر کہنے والے اس پر کیا کہیں گے کہ جب یہ” غاصب اور ڈکٹیٹر” فوت ہوا تو دس لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی اسکے جنازے میں شریک ہوئے اور پورے پاکستان میں لوگ روئے ۔۔۔۔۔

یہ ضیاء کا ایسا ریفرنڈم تھا جو تا قیامت اسکو امر کر گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

تحریرشاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here