جنرل ضیاء الحق ہم پر اسلام نافذ نہ کر سکا شائد ہم اس قابل ہی نہ تھے

0
457

 5 مضمون نمبر

” میں نے نظام اسلام نافذ کرنے کا وعدہ کیا اور بار بار کیا اور اس کے لیے اپنی سی کوششیں بھی کیں اور میں اسکا اعتراف کرتا ہوں کہ میں اس میں ناکام رہا “۔۔۔۔۔۔

روس کے خلاف جہاد اور جنرل ضیاء کی شرائط

جنرل ضیاءالحق کا یہ اعتراف سابق امیر جماعت اسلامی میاں محمد طفیل نے ہفت روزہ ” سیاسی لوگ “میں شائع کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

اس اعتراف کے باوجود جنرل ضیاءالحق نے اکیلے اپنے دور میں باوجود تمام تر مشکلات اور اختلافات کے نفاذ اسلام کے لیے جتنا کام کیا اسکا دسواں حصہ بھی اس سے پہلے اور بعد کی آنی والی سیاسی و غیر سیاسی حکومتیں اور مذہبی جماعتیں ملکر بھی نہ کر سکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

مضمون نمبر 1

اسکے کیے گئے کام کی مختصر مختصر تفصیل پیش خدمت ہے ۔۔۔۔۔!

مضمون نمبر 2

۔ 1۔ حد قذف کے قانون کا نفاذ
۔ 2۔ حد زنا کے قانون کا نفاذ
۔ 3۔ حرابہ ( حد ڈاکہ ) کے قانون کا نفاذ
۔ 4۔ حد سرقہ کے قانون کا نفاذ
۔ 5۔ اسلامی قانون شریعت کا نفاذ

بھٹو اور ضیاء میں کردار کا فرق
۔ 6۔ نظام صلواۃ کی ترویج اور دفاتر میں اسکے قیام کی کوشش جسکی وجہ سے سرکاری دفاتر ، ایوان صدر اور مسلح افواج کے میس کہلانے والے اداروں میں باقاعدہ نماز باجماعت ادا کی جانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ 7۔ زکواۃ اور عشر کے سرکاری تحصیل و تقسیم کے نظام کا قیام
8۔شریعت کورٹ کا قیام
۔ 9۔ اسلام اباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا قیام
۔ 10۔ دینی مدارس کی سندات کو ملک کی عام یونیورسٹی، کالجوں کی سندات کے ہم پلہ قرار دینا اور انکے لیے سرکاری ملازمت کے دروازے کھولنا
۔ 11۔ گورنمنٹ ھاؤسوں اور سرکاری تقاریب اور میسوں کو شراب نوشی اور فواحش سے پاک کرنا

یہ 80 کی دہائی کا درمیان عرصہ تھا
۔ 12۔ ہوائی جہازوں کو اپنی پروازیں مسنونہ دعا سے شروع کرنے کا پابند بنانا اور پی آئی اے کی غیر ملکی پروازوں میں بھی شراب نوشی سے مہمان نوازی بند کروا دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ 13۔ سرکاری سطح پر سیرت کمیٹیوں کا قیام اور انکے تحت بین الاقوامی سطح پر سیرت کانفرنسوں کا انعقاد
۔ 14۔سیرت نبوی (ص) پر ملک کی مختلف زبانوں میں لکھی جانے والی بہترین کتب پر صدارتی ایوارڈ دینا
۔ 15۔ قومی زبان اور لباس کو اندرون اور بیرون ملک میں اس کا اصل مقام دینا جب بڑھتے ہوئے پینٹ شرٹ کی جگہ سرکاری دفاتر

جنرل ضیاء الحق اور الطاف بھائی

اور تقاریب میں قومی لباس اور زبان کو دوبارہ عام کیا گیا یہاں تک کہ غیر ملکی مہمانوں کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیوں وغیرہ میں بھی صدر مملکت کی تقاریر قومی زبان میں کی جانے لگیں جیسا کہ ہر غیرمند قوم کا طریقہ ہے۔۔۔۔۔۔
۔ 16۔ سرکاری ذرائع ابلاغ ( ٹی وی ، ریڈیو اور پریس ٹرسٹ ) کو صریحاً لاقانونیت اور خلاف اسلام باتوں سے روک کر اسلامی اور پاکستانی نظریاتی حدود کا پابند بنانے کی کوشش کرنا ۔۔۔۔۔۔

مضمون نمبر 3

۔ 17۔ ضیاء ہی پاکستان کے پہلے اور واحد لیڈر ہیں جس نے سود کے خاتمے کی پہلی عملی کوشش کی اور پاکستانی بینکوں میں بلاسود کھاتوں کا آغاز ہوا اس سلسلے میں سکالرز اور دانشورں کو دعوت دی گئی کہ ایک متبادل اسلامی معاشی نظام کا خاکہ تیار کریں جس پر اس وقت ایسے ایسے تحقیقی مقالے لکھے گئےجن کو دنیا بھر میں شہرت ملی ۔۔۔
۔ 18۔ پچھلے چند سو سال کی اسلامی تاریخ میں جنرل ضیاء الحق پہلے مسلمان سپاہ سالار ہیں جس نے جہاد اور فلسفہ جہاد کو دوبارہ زندہ کرتے ہوئے دنیا کی ایک بڑی اور ظالم حملہ آور قوت کو شکست دی بعض سکالرز کے نزدیک یہ عالم اسلام کی قریباً 800 سال بعد پہلی بڑی فتح تھی جس میں کم از کم پندرہ سولہ اسلامی ممالک کو آزادی ملی اور اسی جہادی روح کی بدولت آج امریکہ شکست کے دھانے پر ہے امریکہ نے جنرل ضیاء کو تو مار دیا تھا لیکن اسکی روح آج بھی انکے خلاف سرگرم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ 19۔ پاکستان جب سے بنا ہے تب سے آج تک پاکستان میں فحاشی بتدریج بڑھتی رہی خاص کر پیپلز پارٹی کے ہر دور حکومت

پاکستان کا پلوٹونیم بم

میں اسکو کبھی کسی بھی لیڈر نے روکنے کی کوشش نہیں کی ۔ جنرل ضیاء الحق پاکستان کے واحد لیڈر تھے جس نے نہ صرف اسکو پوری قوت سے روک دیا تھا بلکہ اسکو ریورس گیئر لگا دی تھی جس پر احمق اور نام نہاد قسم کے دانشوروں نے تبصرہ کیا کہ ” ضیاء نے پائل کی جھنکار کا گلہ گھونٹ دیا ضیاء ظالم اور سفا ک ہے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ 20۔ پاک فوج کا نعرہ ایمان ، تقوی اور جہاد فی سبیل اللہ ضیاء ہی کا دیا ہوا ہے ۔۔۔
۔ 21۔ سرکاری تقاریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت سے حتی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی جنرل ضیاء نے اپنی تقریر کا آغاز تلاوت قرآن سے کیا جسکی آواز پوری دنیا میں گونج اٹھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا واقعی جنرل ضیاءالحق نے ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کروایا تھا؟

جنرل ضیاء کا نفاذ اسلام کے لیے کام بتدریج جاری تھا کسی تیل سے چلنی والی مشین کی طرح جو یکساں رفتار سے مسلسل چلتی رہتی ہے لیکن اسکو مہلت نہیں ملی 

مضمون نمبر 6

جنرل ضیاء الحق ہم پر اسلام نافذ نہ کر سکا شائد ہم اس قابل ہی نہ تھے ۔۔۔ لیکن اسنے کہا تھا کہ “میں اگر اسلامی نظام نافذ نہ بھی کر سکا تب بھی اتنا ضرور کر جاؤنگا کہ اسکے بعد کسی کے لیے وہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی” اور اس نے کر دکھایا ۔۔۔۔۔۔۔!

وہ ایسا کیوں نہ کرسکا یہ بھی ہماری تاریخ کا ایک عجیب اور افسوسناک باب ہے اگلی پوسٹ اسی کے بارے میں ہوگی انشاءاللہ 

ﺟﺐ ضیاء الحق ﮐﯿﭙﭩﻦ ﺗﮭﮯ 

جنرل ضیاء پر ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر جیسے الزامات

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here