جمہوری اور آمرانہ اقدار ۔۔۔۔ !

0
1272
جمہوری اور آمرانہ اقدار ۔۔۔۔ !

نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی خواتین کی ننگی تصاویر جہازوں سے گرائیں، سمیع الحق پر ایک خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات کے الزمات لگائے اور اب عمران خان کے ساتھ گلا لئی والا ڈراما۔ شائد آنے والے دنوں میں ایسے کچھ اور ڈرامے بھی سامنے آئیں۔ 

ذولفقار علی بھٹو نے مادر ملت فاطمہ جناح کو اتنخابات میں ہرانے کے لیے ان پر تہمت لگا دی تھی اور انکے خلاف تقریر کرتے ہوئے یہ معنی خیز جملہ کہا کہ ” اس نے شادی کیوں نہیں کی ہے؟ ” ۔۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو کا یہ شرمناک الزام سن کر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے کچھ غیر ملکی صحافی رو پڑے تھے کہ یہ کیسی قوم ہے جو اس خاتوں پر بہتان لگا رہی ہے جس کو یہ مادر ملت یعنی ” قوم کی ماں ” کہتے ہیں ۔

ضیاء السلام انصاری اپنا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ میری جنرل ضیاء سے ایک ملاقات طے تھی ۔ ان دنوں بے نظیر بھٹو پاکستان سے باہر جا رہی تھی اور کچھ لوگ اس کے جانے کے حق میں نہ تھے ۔ انہی میں سے کسی نے میرے سامنے بے نظیر کے کسی سکینڈل کا ذکر کر دیا ۔ بات میرے ذہن میں رہ گئی جب جنرل ضیاء سے ملاقات ہوئی تو بے نظیر بھٹو کے باہر جانے کا ذکر آیا ۔ میرے منہ سے نکل گیا کہ ” لوگ کسی سکینڈل کا ذکر کر رہے ہیں ” ۔۔
یہ الفاظ منہ سے نکلتے ہی میں نے دیکھا کہ ضیاء الحق کا رنگ بدل گیا اور ناگوار لہجے میں انہوں نے کہا ” انصاری صاحب آپ بیٹیوں کے باپ ہیں ۔ ایسی باتیں سن کر دوسرے کان سے نکال دینی چاہئیں کجا یہ کہ آپ مجھ سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں ۔” ۔۔۔

کتنی حیران کن بات ہے ۔

ایک طرف پاکستان کے دو بڑے جمہوری لیڈروں کا کردار ۔۔۔۔
اور دوسری طرف جنرل ضیاء الحق بے نظیری بھٹو جیسی عورت کی اپنے قریبی دوست کے سامنے بھی پردہ پوشی کر رہے تھے جو اکسفورڈ یونیورسٹی میں ” پنکی ” کے نام سے مشہور تھی ۔ جس کےشرمناک کارناموں کا ذکر جب ٹیلی گراف اخبار میں آیا تو بے نظیرنے اس اخبار پر پاکستان میں پابندی لگا دی تھی ۔

اور اس سے پہلے کہ آپ نواز شریف کو جنرل ضیاء کی غلطی قرار دیں تو یاد رکھیں ” ضیاء نے نواز شریف کے معاملے میں ایک بار غلطی کی ہے جبکہ ہم بحثیت قوم چھ بار یہ غلطی کر چکے ہیں” ۔۔۔۔۔

تحریر شاہدخان

 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here