جمہوریت کے اس داعی نے ایک ڈکٹیٹر کا ساتھ کیوں دیا ؟؟؟ یہ آج بھی ایک سوال ہے

0
277
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذولفقار علی بھٹو تصویر کا دوسرا رخ ۔۔۔۔

جس وقت اسکندر مرزا صدر پاکستان تھے بھٹو نے ان کے نام ایک خط لکھا تھا جس میں اس نے اسکندر مرزا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ” جناب تاریخ آپ کو ایک عظیم شخص کے طور پر یاد رکھے گی اور آپ کا نام قائداعظم محمد علی جناح سے بھی اوپر لکھا جائیگا ” ۔۔۔

اسکندر مرزا جیسے شخص سے قائد اعظم کا موانہ ؟؟؟

اور پھر ان کو قائداعظم سے بھی بلند مقام پر فائز کرنا ؟؟

محض ایک وزارت کے لیے ؟؟؟

بھٹو کو سیاست میں متعارف کروانے والا اصل بندہ آئینی طریقے سے منتخب ہونے والا اسکندر مرزا تھا نہ کہ ایوب خان۔

۔ 1958 میں ایوب خان کے مارشل لاء کے خلاف بھٹو نے ایک لفظ تک نہٰیں کہا بلکہ اسکا حصہ بن گئے، وزیر خارجہ بنے اور انکا شمار ایوب خان کے قریب ترین ساتھیوں میں ہونے لگا۔

جمہوریت کے اس داعی نے ایک ڈکٹیٹر کا ساتھ کیوں دیا ؟ یہ آج بھی ایک سوال ہے

ذولفقار علی بھٹو نے مادر ملت فاطمہ جناح کو اتنخابات میں ہرانے کے لیے ان پر تہمت تک لگائی اور انکے خلاف تقریر کرتے ہوئے یہ معنی خیز جملہ کہا کہ ” اس نے شادی کیوں نہیں کی ہے؟ ” ۔۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو کا یہ شرمناک الزام سن کر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے کچھ غیر ملکی صحافی رو پڑے تھے کہ یہ کیسی قوم ہے جو اس خاتوں پر بہتان لگا رہی ہے جس کو یہ مادر ملت یعنی ” قوم کی ماں ” کہتے ہیں ۔ قائد ملت کی بہن پر یہ تہمت اس جمہوری چیمپئن کے چہرے پر وہ داغ ہے جو کبھی نہیں مٹ سکے گا!

۔ 65ء کی جنگ کے حوالے سے انتہائی لبرل اور فوج مخالف سمجھے جانے والے نجم سیٹھی کے مطابق یہ بھی بھٹو کی اقتدار ھوس کا ہی نتیجہ تھا ان کے الفاظ یہ ہیں ” طارق علی کافی مشہورسٹوڈنٹ لیڈر تھے۔ انہوں نے اس وقت بھٹو سے 65 کی جنگ کے بارے میں پوچھا جب وہ ایوب خان کو چھوڑ چکے تھے کہ یہ جنگ آپ نے کیوں کی تھی؟ اور آپ نے کی تھی یا انڈیا نے ؟ ۔۔۔۔ بھٹو نے جواب دیا کہ ہم نے کی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ اگر ہارتے ہیں تو ایوب خان گر جائیگا، ایوب خان گرے گا تو میرا راستہ کھل جائیگا۔ جیت گئے تو ہیرو بن جائنگے کیونکہ میں ہی وزیر خارجہ تھا۔ دونوں صورتوں میں میری جیت تھی”۔۔

محض اپنا راستہ صاف کرنے کے لیے ذولفقار علی بھٹو نے پورے پاکستان کو داؤ پر لگا دیا۔ اگر پاک فوج اپنی جانوں پر نہ کھیلتی تو شائد ہم لاہور ہار جاتے۔

شیخ مجیب جب اگرتلہ سازش میں پکڑا گیا اور ایوب خان اس کو غداری کے جرم میں سزا دینے لگا تو اس کو چھڑانے کے لیے بھٹو نے ملک گیر مہم چلائی اور بدترین حالات میں انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔ لیکن جب مجیب نے انتخابات میں کلین سویپ کیا اور بھٹو کے مقابلے میں دگنے ووٹ لے گیا تو بھٹو نے اقتدار اس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا اور اس کو غدار قرار دیا اور یہ مشہور نعرہ لگایا ” ادھر تم ادھر ہم ” ۔

جب یحیی خان نے مجیب کو مستقبل کا وزیراعظم کہا تو بھٹو نے اس کا سخت برا منایا۔

ان سب کے باوجود شیخ مجیب نے قومی اسمبلی کا اجلاس ڈھاکہ میں طلب کیا تو بھٹو نے دھمکی دی کہ ” جو ڈھاکہ گیا میں اسکی ٹانگیں توڑ دونگا “

اس حوالے سے روئیداد خان اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ ” بھٹو نے مجھے رات کو دس بجے بلایا اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ جاگ رہے ہونگے۔ میں نے کہا کہ کتاب پرھ رہا ہوں ۔۔ کہنے لگا یہ ٰیحیی نے کیا کر دیا۔ اس نے مجھ سے پوچھے بغیر ڈھاکہ اجلاس کی تاریخ طے کر لی۔ یہ تاریخ غلط فکس کی گئی ہے۔ اس کو چینج کراؤ۔ میں نے کہا کیسے؟ بنگالی تو مان گئے ہیں۔۔ بھٹو نے کہا بہت آسان ہے۔ ڈھاکہ میں ایک لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کراؤ۔ ٹیر گیس ہوگی، لاٹھی چارج ہوگی، کچھ لوگ مرینگے۔ تاریخ تبدیل ہوجائیگی۔”
روئیداد خان کے مطابق بھٹو نہیں چاہتے تھے کہ ڈھاکہ میں اجلاس ہو۔

بھٹو سمجھ گئے تھے کہ جب تک مشرقی پاکستان، پاکستان کا حصہ ہے وہ کبھی وزیراعطم نہیں بن سکتے کیونکہ وہ کبھی مجیب سے نہیں جیت سکتے۔
اس لیے مارچ سے ستمبر تک بھٹو نے کچھ نہیں کیا جب پاک فوج ملک بچانے کے لیے دیوانہ وار لڑ رہی تھی۔ اگر اس وقت بھٹو سیاسی بھاگ دوڑ کرتے اور مجیب کو راضی کرلیتے تو شائد یہ سانحہ نہ ہوتا۔

پھر جب انڈیا نے حملہ کیا اور ملک ٹوٹنے کی نوبت آگئی تو اس کو اقوم متحدہ میں روکنے کے بجائے کاغذات پھاڑ کر، اجلاس چھوڑ کر آگئے۔ اس نے بنگالیوں کو ” سور کے بچو ” کہہ کر مخاطب کیا۔ اسکی وہ تقریر آج بھی سنی جا سکتی ہے۔

پاکستان ٹوٹ گیا۔ بھٹو نے جناح کے پاکستان کو قتل کر دیا۔ محض اس لیے کہ اسکو اقتدار مل سکے۔ بلاآخر بھٹو کو اقتدار مل گیا۔

بھٹو نے ایک متفقہ آئین منظور کیا اور اس کے چند گھنٹے بعد ہی ایمرجنسی نافذ کرکے ” بنیاد حقوق معطل ” کر کے پہلی آئین شکنی بھی خود کی۔

بھٹو کا دور ستم کیسا تھا۔ سیاسی مخالفین تو درکنار اس کے اپنے ساتھیوں میں سے بھی بہت سے دلائی کیمپ پہنچ گئے۔ ضیاء کے مارشل لاء تک سیاسی قیدیوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر چکی تھی

” بھٹو کے دور میں آزادی اظہار کی یہ حالت تھی کسی اخبار میں اپوزیشن کی دو کالمی خبر تک نہیں چھپ سکتی تھی”۔۔۔۔ ہارون رشید

افغانستان میں جنگجو بھیجنے کی پالیسی بھٹو نے ہی بنائی۔ افغان جہاد کے تمام بڑے لیڈروں کو بھٹو ہی کے حکم پر جہاد کی تربیت دے کر بھیجا گیا۔ 1973/74 سے یہ سلسلہ شروع ہوا تو ضیاء کا مارشل لاء آتے آتے ان تربیت یافتہ جنگجوؤں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی۔

وہ سوشلزم جو روس میں ناکام ہو رہا تھا بھٹؤ اسکو پاکستان میں نافذ کرنے پر بضد تھا۔ اس کے نتیجے میں صنعتیں قومیا لیں۔ ایوب خان کے دور میں دنیا بھر میں پاکستان کو صنعتی لحاظ سے تیز ترین ترقی کرنے والا ملک قرار دیا جا رہا تھا۔ بھٹو نے صنعیتیں قومیا کر انکا بیڑا غرق کر دیا اور پاکستان کو معاشی لحاظ سے کئی عشرے پیچھے دھکیل دیا۔

ڈالر جو ایوب خان کے آمرانہ دور میں 4 روپے سے ہلا تک نہیں بھٹو کے آتے ہی جمپ لگا کر 11 روپے پر پہنچ گیا۔

پاکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی بار 3 ارب ڈالر قرضہ لیا اور پھر قرضہ لینے کا سلسلہ چلا تو آج تک نہیں رکا۔

اخراجات پورے کرنے کے لیے شاہ ایران کی ضمانت پر کئی سال کی چاول گروی رکھوا کر رقم حاصل کی گئی۔

چینی جو ایوب خان کے دور میں ایک آنہ مہنگی ہوئی تھی بھٹو کے دور میں نایاب ہوگئی اور لوگ قطاروں میں کھڑے ہوتے تھے چینی کے حصول کے لیے۔

عوام نے پہلی بار مہنگائی اور بے روزگاری کی شکل میں جمہوریت کا خوفناک عذاب چکھا۔

بھٹو نے روٹی ، کپڑا، مکان کا نعرہ لگایا لیکن جب اقتدار ملا تو مکان تو دور کی بات ایوب کے دور ارزانی میں عوام کو جو روٹی کپڑا میسر تھا وہ بھی چھن گیا۔

اتنخابات میں کھلی دھاندلی کی اور دھاندلی کا اقرار کیا اور پھر اس پر ڈٹ گیا حتی کہ ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت ہوگئی۔ فوج کو لاہور میں مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیا۔ جب مزاحمت بڑھی تو اس نے نعرہ لگایا کہ ” میرے ہاتھ میں علی کی تلوار ہے ” سمجھنے والے سمجھ گئے۔ اس نے پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ کے لیے فرقہ وارانہ رنگ بھر دیا۔ اس رنگ نے بعد میں فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کر لی جو آج تک قائم ہے۔ بحوالہ ضیاءالسلام انصاری ( جنرل ضیاء الحق کی شخصیت)

بلوچستان اور خیبر کی منتخب جمہوری حکومتوں کو خلاف آئین اور مروجہ طریقہ کار کے بغیر توڑ دیا گیا۔

سن 77 کے انتخابات میں کھلی دھاندلی پر پورا ملک سراپا احتجاج تھا اور بہت سی جانوں کے ضیاع اور فسادات کے بعد بھٹو کو پاکستان قومی اتحاد کے دوبارہ الیکشن کے مطالبے کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے لیکن جب دستخط کا موقع آیا تو بھٹو عین وقت پر مسلم ملکوں کے تین ماہ کے طویل دورے پر چل دئیے اور مخالفین بھٹو کی اس چال یا دھوکے کو سمجھ کر چیخ اٹھے یہانتک کہ ملک میں سول وار برپا ہونے کے لیے سٹیج بلکل تیار ہوگیا

پھر جب قید ہوئے تو اپنی بیوی کو اپنے حکم پر پارٹی سربراہ بنایا۔ کیا پارٹی میں کوئی اور اس لائق نہیں تھا ؟ یہ کیسی جمہوری پارٹی تھی ؟؟

اسکی موت کی آخری کہانی خاکسار نے لکھی کہ اسکو سٹریچر پر پھانسی گھاٹ لے جایا گیا۔

بھٹو پھانسی کیوں چڑھا ؟؟ اقتدار کی ھوس یا کچھ اور ؟؟

تحریر شاہدخان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here