جمہوریت کے آغاز میں ہی بھٹو اور مجیب اقتدار کی لالچ میں کتوں کی طرح آپس میں لڑے اور بلاآخر ملک ہی توڑ دیا۔ 

پھر بچے ہوئے پاکستان پر بھٹو کی جنگ قومی اتحاد سے ہوئی جس میں بالآخر حالات اتنے خراب ہوئے کہ بھٹو نے اپنے مخالفین کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ حتی کہ لاہور میں پاک فوج کو مظاہرین پر گولیاں چلانے کا حکم دے دیا۔ 

0
1139

جمہوری جھگڑے اور حضورﷺ کی پیشن گوئی ۔۔۔ !

جمہوریت کے آغاز میں ہی بھٹو اور مجیب اقتدار کی لالچ میں کتوں کی طرح آپس میں لڑے اور بلاآخر ملک ہی توڑ دیا۔ 

پھر بچے ہوئے پاکستان پر بھٹو کی جنگ قومی اتحاد سے ہوئی جس میں بالآخر حالات اتنے خراب ہوئے کہ بھٹو نے اپنے مخالفین کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ حتی کہ لاہور میں پاک فوج کو مظاہرین پر گولیاں چلانے کا حکم دے دیا۔ 

پھر بے نظیر اور نواز شریف کا جمہوری دور آیا۔ اس میں بھی دنوں مسلسل آپس میں حالت جنگ میں رہے اور ایک دوسرے کی حکومت ڈھائی سال سے زیادہ نہ چلنے دی۔ حالت یہ تھی کہ بے نظیر نے اس جنگ میں اپنے ہی بھائی کا قتل بخوشی قبول کر لیا جس نے نواز شریف کے ساتھ اتحاد کر لیا تھا۔ ایک دوسرے پر شرمناک الزمات لگانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ نواز شریف نے خواتین کی ننگی تصاویر جہازوں سے گرائیں۔
اس لڑائی میں پاکستان انڈیا کے مقابلے میں وہ بہت کچھ ہار گیا جو ضیاء کے دور میں حاصل کیا گیا تھا بمع خالصتان تحریک کے!

پھر بلاآخر مک مکا والا وہ جمہوری دور آیا جب جمہوریت بالغ ہوئی اور مل بیٹھ کر کھانے پر اتفاق ہوا۔ نواز شریف اور آصف زرداری کے دور میں بظاہر دونوں معمول کے مطابق جھگڑتے نظر آئے لیکن لوگوں نے محسوس کر لیا کہ یہ صرف اپنے اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنے کے لیے ڈراما کر رہے ہیں اوراس باران میں معاملات طے ہو چکے ہیں۔
لیکن اس مک مکا میں جیسے ہی نواز شریف کی باری آئی اچانک عمران خان کی شکل میں ایک نیا جمہوری لیڈر سامنے آیا جس کے ساتھ کوئی مک مکا نہین تھا۔ نتیجے میں جعلی جمہوری لڑائی دوبارہ اصلی لڑائی میں تبدیل ہوگئی۔

دارلخلافہ میدان جنگ بن گیا۔ نواز شریف کے حکم پر مظاہرین پر 12 ہزار شیل فائر کیے گئے۔ ان سیاسی جھگڑوں کے نتیجے میں لاہور اور اسلام اباد میں 30 سے زائد لوگ مرے۔

جمہوریت اعلی سطح سے نچلی سطح پر منتقل ہوئی بلدیاتی انتخابات کی شکل میں ۔ اس کے ساتھ ہی ” جمہوری جھگڑے ” بھی نچلی سطح پر منتقل ہوئے اور جہاں جہاں بلدیاتی انتخابات ہوئے وہاں لوگ کتوں بلوں کی طرح آپس میں لڑتے رہے اور ان لڑائیوں میں درجنوں لوگ مارے گئے ۔۔۔۔۔۔!!!

اب ذرا یہ حدیث ملاحظہ کیجیے ۔۔۔۔۔۔!!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا:
“اسلام کی ابتداء نبوت ورحمت ہے،پھر خلافت و رحمت ہے،پھر بادشاہت و رحمت ہے پھر امارت (آمریت) و رحمت ہے پھر اس(حکومت)کے لیے لوگ گدھوں کی طرح جھگڑیں گے اس وقت تم جہاد کو لازم پکڑو،اور اس وقت افضل جہاد رباط (یعنی اسلامی ممالک کی سرحدوں کی حفاظت) ہے اور اس میں بھی افضل عسقلان شہر کی سرحدوں کی حفاظت ہے۔(طبرانی:11138،السلسہ الصحیہ للبانی:3280)

خلافت کے بعد بادشاہت اور امارت کو بھی رحمت کہا گیا ہے ۔ پھر ایک تیسرے نظام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں لوگ گدھوں کی طرح جھگڑتے ہیں ۔ خلافت اور بادشاہت (آمریت) کے بعد یہ تیسرا نظام ” جمہوریت ” کے علاوہ بھلا اور کون سا ہوسکتا ہے ؟ اور بلا شبہ اس میں سوائے اتنشار اور جھگڑوں کے اور کچھ نہیں!!

نوٹ ۔۔ اسی حدیث میں اسلامی ریاستوں کی سرحدوں کی حفاظت کو عظیم ترین جہاد قرار دیا گیا ہے جو اس وقت پاک فوج کر رہی ہے۔ ان حالات میں جب دنیا بھر میں اسلامی ممالک کو تیزی سے توڑا جا رہا ہے۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here