جمہوریت کی حقیقت پرکھنے کے ایک کروڑ طریقے ہیں مثلاً

0
432

جمہوریت کی حقیقت پرکھنے کے ایک کروڑ طریقے ہیں مثلاً ۔۔۔۔۔

“جمہوریت پر کالاباغ ڈیم کو اپلائی کریں “

سنا ہے جمہوریت میں اکثریت کی رائے کو تسلیم کیا جاتا ہے اور فیصلے کرنے کا اختیار اسکو مل جاتا ہے جو ووٹ لیتا ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔

کالاباغ ڈیم کے معاملے میں یہ جمہوریت اور اکثریت کہیں منہ چھپائے نظر آتی ہے اور جمہوریت کی عبادت کرنے والے بھی اس ڈیم کے معاملے میں جمہوریت کو ٹھوکر مار کر اڑا دیتے ہیں ۔ حالانکہ حالت یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔

نواز شریف کے پاس ایک تہائی اکثریت ہے جب چاہیں آئین تک میں ترمیم کر سکتے ہیں اور سابقہ زرداری حکومت ضرورت کے وقت ایک تہائی اکثریت حاصل لیتی تھی جب بھی کسی آئینی ترمیم کی ضرورت ہوتی اور اپنی اس اکثریت کے بل پر ان دونوں نے بدترین فیصلے کیے اور کر رہے ہیں ۔ اس معاملے میں انکو عوام کی اکثریت کی رائے کی کوئی پرواہ نہیں ۔

مثلاً ڈرونز ، نیٹو سپلائی اور امریکہ سے قرضے لینے کے معاملے میں یہ عوام کی اکثریت کی رائے کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں لیکن ۔۔۔۔۔

جب معاملہ کالاباغ ڈیم کا ہو تو۔۔۔۔ ” بھئی باوجود ایک تہائی اکثریت کے ہم نہیں بنا سکتے کیونکہ کچھ لوگ اس ڈیم کے مخالف ہیں اور ہمیں اس معاملے میں نشنل کنسینسز کی ضرورت ہے ” ۔۔۔۔

آپ نے نوٹ کیا جمہوریت نامی کٹھ پتلی کی اصلیت کو ؟ جس کو زر کے بل پر آنے والے اپنی مرضی سے نچاتے رہتے ہیں اور نہایت مغرور انداز میں عوام کو ذبح کرتے ہوئے انکو اپنے حاصل کردہ مینڈیٹ کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here