جمہوریت ایک بار پھر ریاست توڑنے کے درپے ہے ۔۔۔۔۔۔ 

0
1209

جمہوریت ایک بار پھر ریاست توڑنے کے درپے ہے ۔۔۔۔۔۔ 

میں نے کچھ دن پہلے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کے دورہ مالدیپ کے نتائج پاکستان کےحق اچھے نہیں ہونگے۔ 

نواز شریف کی نااہلی کے فوراً بعد مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان کے وزیراعلی اور مسلم لیگ ن کے ہی وزیراعظم آزاد کشمیر سے پاکستان کے خلاف باغیانہ بیانات دلوائے گئے۔ اب جو مرضی کہیں لیکن انہوں نےجو کہنا تھا کہہ چکے!

اس معاملے کو وزیراعظم کا حامی “جنگ گروپ” خوب اچھال رہا ہے۔

آج سے جنگ گروپ کے ہی جیو چینل پر ” ذرا سوچئے” نامی پروگرام کے ذریعے قبائل میں بغاوت پیدا کرنے کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ جس میں اس قسم کا زہریلا پراپیگینڈا شروع کر دیا گیا ہے کہ ۔۔۔
” قبائیلیوں کو آپ کب پاکستانی سمجھیں گے؟” ۔۔
“قبائیلیوں کو ان کےحقوق کب دئیے جائینگے” ۔۔ وغیرہ وغیرہ

پاک فوج نے بڑی کوشش کر کے فاٹا ریفارمز کے نام سے ایک شق ” نیشل ایکشن پلان ” میں شامل کروائی تھی۔ اسی شق کے تحت فاٹا کو صوبہ کے پی کے میں شامل کیا جانا تھا جس کو مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف کے ساتھ ملکر ناکام بنا دیا۔

اب انہی قبائیلی حقوق کے نام پر اسی مولانا کو اس باغیانہ مہم کے لیے استعمال کیا جائیگا اور مولانا کو آپ پاکستان کے خلاف مزید زہریلی پچکاریاں مارتے دیکھیں گے۔

کچھ عرصہ پہلے خواجہ آصف نے فرمایا تھا کہ ” 71ء میں بھی اکثریت کو نظر انداز کیا گیا تو ملک ٹوٹ گیا آج پھر بڑے صوبے کے مینڈیٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے” ۔۔ ناقابل یقین لگتا ہے کہ یہ ملک کا وزیر دفاع بول رہا ہے۔

ان شاءاللہ پاکستان کی حفاظت اللہ فرمائے گا اس سلسلے میں کسی کو فکر مند ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔ 

لیکن ان کو اپنی عقلوں کو ہاتھ مارنا چاہئے۔ یہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ان کی ساری کی ساری قوت میڈیا کے چند لبرل اینکرز، چند سیکولر سوشل میڈیا پیجز اور آئین نامی ایک ایسی کتاب تک محدود ہے جو انہوں نے خود لکھی ہے اور جو صرف انہی کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے۔

ان میں کچھ بھی پاکستان کے وجود پر فوقیت نہیں رکھتا۔

اگر مملکت خداد کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو یاد رکھیں ۔۔۔۔ یہ سب کچھ ایک دوسرے کے اوپر نیچے رکھ کر ایک ہی قبر میں دفن کر دیا جائیگا ان شاءاللہ ۔۔۔ تب نہ انکی مدد کو امریکہ آئیگا نہ انڈیا ۔۔۔۔ !!

 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here