جماعت اسلامی کے امیر نے اعلان فرمایا کہ ”میں طالبان کے خلاف کارروائی کرنے والے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو شہید نہیں مانتا۔

0
460

کون سی اسٹیبلشمنٹ اور کون سا پنجابی؟

سینٹ کی بدترین ہزمیت کے بعد قوم پرست (عصبیت کے داعی) تازہ بیانیہ یہ پیش کر رہے ہیں کہ پنجابی کو سپورٹ کر کے دراصل ہمارے بڑوں نے اسٹیبلشمنٹ کو شکست دی!

کون سی اسٹیبلشمنٹ؟

وہی “اسٹیبلشمنٹ” جس نے پشتونوں کی گردنیں اتارنے والوں سے جنگ کی اور اپنی جانیں دے کر ان پیچیدہ اور خطرناک وادیوں کو دہشت گردوں سے پاک کیا۔

تب قوم پرستوں کے نام نہاد “بڑے” کہاں تھے؟

جی وہ حضرت مولانا فضل الرحمن پشتونوں کے قاتلوں کے خلاف پاک فوج کی جنگ کو ناجائز قرار دے کر دہشت گردوں کی شہادت کے فتوے صادر فرما رہے تھے اور ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کر رہے تھے۔

جماعت اسلامی کے امیر نے اعلان فرمایا کہ ”میں طالبان کے خلاف کارروائی کرنے والے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو شہید نہیں مانتا۔ ہمیں جہاد و قِتال فی سبیل اللہ کے کلچر کو عام کرنا ہوگا۔“

عوامی نیشنل پارٹی کے عظیم لیڈر اسفند یار ولی صاحب بھاگ کر سویڈن پہنچے کہ پاکستان میں خطرہ ہے۔ جہاں بقول ان کے میزبانوں کے سالم ناشپاتی کو ایک نوالے میں کھانے کا مظاہرہ کر کے سب کو حیران کر رہے تھے جس پر ان کے میزبانون نے ان کو ” کٹر پلاس ” کا خطاب دیا۔ امید ہے ان کو یاد ہوگا ۔۔۔ 🙂

اور محمود خان اچکزئی افغان جنرل رزاق کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں فرما رہا تھا۔ یہ جنرل موصوف دہشت گردی کی شکل میں فاٹا، کے پی کے اور بلوچستان میں جاری افغان پراکسی جنگ کے ماسٹر مائنڈ مانے جاتے ہیں۔

تو یہ عظیم “بڑے” جس “پنجابی” کو سپورٹ کر رہے ہیں وہ کون ہے؟

جی یہ وہی “پنجابی” ہے جو پچھلے تیس سال سے پنجاب کا حکمران ہے۔

چنانچہ اگر ایک منٹ کے لیے یہ فرض کر لیا جائے کہ پنجاب نے واقعی کے پی کے یا بلوچستان کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے تو اسکا ذمہ دار یہی “پنجابی” ہوگا جس کے ہمارے یہ بڑے تلوے چاٹ رہے ہیں۔

اب یہ مت پوچھنا کہ اس ” پنجابی” میں ایسی کون سی خوبی ہے جو یہ اس کے تلوے چاٹنے پر مجبور ہیں ۔۔ 🙂

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here