جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدر پاکستان کو ایک اور خط لکھ دیا

0
201

جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدر پاکستان کو ایک اور خط لکھ دیا جس میں پراپرٹیز کی ملکیت کا اعتراف بھی کر لیا
واضح رہے کہ سابقہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جسٹس قاضی فائز عیسی کو ایک عام وکیل سے اٹھا کر سیدھا بلوچستان ھائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا تھا. جب انہیں چیف جسٹس بلوچستان ھائی کورٹ بنایا گیا تھا تو اس سے پہلے بطورِ جج ان کی ایک دن کی بھی خدمات یا تجربہ نہیں تھا

تعیناتی کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ مل کر بلوچستان ھائی کورٹ کے تمام ججز کو اڑا دیا تھا یہاں تک کہ کوئی ایک بھی جج ایسا نہیں تھا جو بچا ہو. کہا یہ گیا کہ یہ پی سی او ججز تھے (حالانکہ افتخار محمد چوہدری خود بھی ایک پی سی او جج ہی تھا). بعد میں بلوچستان ھائی کورٹ میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس فائز عیسی کے من پسند افراد کو بہ طور جج تعینات کیا گیا

جسٹس قاضی فائز عیسی کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کو بعد ازاں سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا تھا. مگر دو سال تک زیر التوا رکھنے کے بعد مقدمہ باقاعدہ سماعت کے بعد ختم کر دیا گیا. جس وکیل نے ان کی تعیناتی کو چیلنج کیا تھا، جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں اس وکیل کا سپریم کورٹ میں داخلہ بھی بند کر دیا گیا تھا

افتخار محمد چوہدری نے جسٹس شوکت صدیقی کو بھی تعینات کیا تھا جنہیں اب سپریم جوڈیشل کونسل برطرف کر چکی ہے. اس کے علاوہ جسٹس اطہر من اللہ افتخار محمد چوہدری کے ترجمان ہوا کرتے تھے جو اب اسلام آباد ھائی کورٹ کے جج ہیں، انہیں بھی افتخار محمد چوہدری نے جج بنا دیا تھا حالانکہ وہ پاکستان کسٹم سروسز کے افسر تھے. اور بھٹو کیس میں مشہور ہونے والے جسٹس سردار کے داماد بھی

خود افتخار محمد چوہدری صاحب کے والد سکھر میں اے ایس آئی تھے. جنہوں نے کوئی اتنا سنگین جرم کیا تھا کہ سزا کے طور پر صوبہ بدر کر کے انہیں بلوچستان بھیج دیا گیا اس طرح افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان کا ڈومیسائل بنوایا تھا اور بعد ازاں چیف جسٹس کے عہدے تک پہنچے

موجودہ طور پر جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھرانے کے افراد ایڈن بلڈرز کیس میں مفرور ہیں. ماضی میں ان کے بڑے بیٹے ارسلان افتخار چوہدری کی ملک ریاض کے ساتھ ساز باز کرنے کے حوالے سے خبریں سامنے آئیں

افتخار محمد چوہدری صاحب ن لیگ کی آنکھ کا تارا تھے. بعد میں ن لیگ کے خلاف حدیبیہ پیپر مل کیس سپریم کورٹ میں کھلا تو افتخار محمد چوہدری کے تعینات کردہ جج، جسٹس قاضی فائز عیسی نے کیس کا فیصلہ ن لیگ کے حق میں دیا. اسی کیس سے متعلق اور آمدن سے زائد گمنام پراپرٹی سے متعلق ریفرینس اب سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیا گیا ہے

ریفرنس دائر کیے جانے کے بعد ملک کی دو سب سے بڑی کرپٹ جماعتیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی جسٹس فائز عیسی کے ساتھ کھڑی ہو چکی ہیں، خدا جانے کیوں. اور جسٹس صاحب خود بھی دو مرتبہ خط لکھ چکے ہیں صدرِ پاکستان کو. بہرحال اب قوم سپریم جوڈیشل کونسل سے یہ امید رکھتی ہے کہ اس کیس کا فیصلہ سو فیصد میرٹ پر کیا جائے گا
سنگین علی زادہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here