جب سپریم کورٹ سے طبی بنیادوں پر ڈاکٹر عاصم کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت طلب کی گئی

0
1201
ریمارکس ۔۔۔۔۔ !!

جب سپریم کورٹ سے طبی بنیادوں پر ڈاکٹر عاصم کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت طلب کی گئی تو معزز ججز نے مندرجہ ذیل ریمارکس دئیے تھے۔ 

“اس بیماری کے نام پر جو بھی باہر جائے واپس نہیں آتا” ۔۔۔ جسٹس دوست محمد

“باہر جا کر ایک مریض ہر ٹی وی چینلز کو انٹرویو بھی دے رہا ہے”۔۔۔۔۔۔ جسٹس دوست محمد

“گرفتاری سے پہلے ڈاکٹر عاصم بالکل ٹھیک تھے۔ نیب جس کو پکڑتا ہے وہ شدید بیمار پڑ جاتا ہے۔ گناہ یہ لوگ کرتے ہیں مصیبت میں ہم پڑ جاتے ہیں” ۔۔۔۔ جسٹس دوست محمد

“ڈاکٹر عاصم کو میڈیکل کی بنیاد پر ضمانت ملی لیکن میڈیکل ہسٹری بتاتی ہے ڈاکٹر عاصم نے اسپرین کی گولی نہیں کھائی” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جسٹس دوست محمد

“جب ڈاکٹر عاصم وزیر تھے تو چھٹی کرکے علاج کے لیے کیوں نہیں گئے؟” ۔۔۔۔۔۔
جسٹس دوست محمد

اس کے بعد سپریم کورٹ نے 479 ارب روپے کی کرپشن کرنے والے ڈاکٹر عاصم کی ضمانت محض 60 لاکھ روپے کے عوض منظور کر لی۔

ڈاکٹر عاصم کی اپیل کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے انہیں بیرونِ ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کو ڈاکٹر عاصم کا پاسپورٹ واپس کرنے کا بھی حکم دے دیا۔

معززعدالت نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وطن واپسی پر ڈاکٹر عاصم کا نام دوبارہ ای سی ایل میں شامل کردیا جائے۔۔۔۔۔ 

کیا واقعی عدالت کو یقین ہے کہ ڈاکٹر عاصم واپس آجائیگا؟؟

کیا واقعی سپریم کورٹ کے خدشات دور ہوگئے تھے؟؟

یا زرداری کو سپریم کورٹ سے ایک اور این آر او مل گیا ہے؟؟

خیال رہے کہ ڈاکٹر عاصم پر صرف کرپشن کے الزمات نہیں ہیں بلکہ انہوں نے دہشت گردوں کی معاؤنت بھی کی تھی۔

تحریر شاہدخان

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here