جب امریکہ نے اس جنگ میں کودنے کا فیصلہ کیا تب جنرل ضیاء نے اسکو اس جنگ میں اپنی شرائط پر شامل کیا

0
224
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مضمون نمبر 3

باوجود اسکے کہ روس کے خلاف یہ پاکستان کی اپنی جنگ تھی اور چار سال تک یعنی 79 سے 83 تک پاکستان اکیلے لڑتا رہا لیکن جب امریکہ نے اس جنگ میں کودنے کا فیصلہ کیا تب جنرل ضیاء نے اسکو اس جنگ میں اپنی شرائط پر شامل کیا ۔۔۔۔۔ !!

روس کے خلاف جہاد اور جنرل ضیاء کی شرائط

حالانکہ اس وقت پاکستان کو اسکی شدید ضرورت تھی اور مجاہدین روسی ہیلی کاپٹروں کی وجہ سے شکست کے قریب تھے لیکن بدترین حالات میں بہترین بات چیت جنرل ضیاء کی نمایاں خوبیوں میں سے ایک تھی اور امریکہ سے اس جنگ میں شمولیت کے لیے اپنی مرضی کی شرائط منوائی گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

مضمون نمبر 1

شروع میں جنرل ضیاء کو امریکہ نے 400 ملین ڈالر کی امداد کی آفر کی جسکو جنرل نے پاؤں کی ٹھوکر سے اڑا دیا کہ “ہمیں یہ مونگ پھلی کے دانے نہیں چاہئیں” یہ اس وقت کے لحاظ سے بہت بڑی رقم تھی جس پر کسی بھی جمہوری لیڈر کی رال بہہ جاتی ۔۔۔۔۔۔ لیکن جنرل کے پیش نظر کچھ اور معاملات تھےاور وہ مستقبل کی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

مضمون نمبر 2

امریکہ نے پوچھا کہ تم کیا چاہتے ہو تب جنرل نے ان شرائط پر معاملات طے کیے ۔۔۔!!

پہلی شرط یہ تھی کہ یہ امریکہ نہیں بلکہ پاکستان طے کرے گا کہ اسکو کیا چاہئے اور امریکہ پابند ہوگا کہ اس ضرورت کو پورا کرے ۔۔۔۔۔۔۔ امریکہ نے یہ شرط مان لی ۔۔۔۔۔۔!!

کیا واقعی جنرل ضیاءالحق نے ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کروایا تھا؟

دوسری شرط یہ تھی کہ امریکہ کبھی خود اس جنگ کے نزدیک نہیں آئے گا اور پاکستان جیسے اپنی مرضی سے اس جنگ کو کنٹرول کر رہا ہے اسی طرح کرتا رہے گا اور اسلحے کی مجاہدین میں تقسیم بھی پاکستان خود کرے گا ۔۔ جنرل نے امریکہ کو اس بات پر قائل کر لیا تھا کہ “اگر تم مجاہدین میں اسلحہ تقسیم کرو گے تو انکو آپس میں لڑوا دو گے جیسا تم نے ویت نام میں کیا تھا “۔۔۔

بھٹو اور ضیاء میں کردار کا فرق
جنرل کا یہ اندیشہ بعد میں بلکل درست ثابت ہوا جب جنرل کی وفات کے بعد جمہوری بالشتیوں نے یہ کنٹرول امریکہ کے ہاتھ میں دے دیا اور امریکی ایلچی مسٹر ٹامسن نے اسلحے کی غیر مساوی تقسیم کے ذریعے مجاہدین میں آپس میں خانہ جنگی کروا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
امریکہ کو جنرل ضیاء کی اس دلیل سے سخت نفرت تھی لیکن اسکے باوجود وہ مان گئے جس پر کئی انڈین دانشوروں نے لکھا کہ ” یہ بہت کڑوی گولی تھی جو جنرل ضیاء کے ہاتھوں امریکی انتظامیہ اور سی آئی اے نے نگلی “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

مضمون نمبر5

جنرل نے تیسری شرط یہ پیش کی کہ چونکہ ہم روس کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں اور جس کے جواب میں روس کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ سکتا ہے لہذا اسکے مقابلے کے لیے ہمیں جدید ترین جنگی جہاز اور اسلحہ درکار ہے تب اس وقت کے لحاظ سے سب سے جدید جنگی جہاز ایف 16 پاکستان نے حاصل کیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اس وقت صرف امریکہ ، اسرائیل اور پاکستان کے پاس تھے ۔۔۔۔۔۔ جنرل کے بعد آنے والے تمام لیڈر مزید کوئی جہاز حاصل نہ کر سکے سوائے ایک دو جہازوں کے جو آئی ایس آئی کی بعض “پھرتیوں” کی وجہ سے کچھ عرصہ پہلے ملے ۔۔۔۔۔۔!!

پاکستان کا پلوٹونیم بم
( آج جب کہ امریکہ خود پھنسا ہوا ہے ان جمہوری لیڈروں کی ڈرون کی ٹیکنالوجی کے لیے شرمناک منتیں ترلے ملاحظہ کیجیے جن کو امریکہ نے مسترد کرچکا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جنرل کتنا ماہر سفارت کار تھا )

مضمون نمبر 6

چوتھی اور سب سے اہم شرط جنرل نے امریکہ سے یہ منوائی کہ پاکستان ایٹمی پروگرام جاری رکھے گا لیکن امریکہ ہر سال اقوام متحدہ سے پاکستان کو یہ سرٹیفیکٹ دلوائے گا کہ پاکستان ایٹم بم نہیں بنا رہا ۔۔۔۔۔۔ یہ ایک ایسی شرط تھی جس پر انڈیا اور اسرائیل میں آگ لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ کہ جب بچہ بچہ جانتا ہے کہ کہوٹہ ” بم والی فیکٹری ہے ” ۔۔ تب اقوام متحدہ اور امریکہ کیوں پاکستان کو یہ سرٹیفیکیٹ دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اپنی اس کامیابی کی بدولت پاکستان نے نہایت برق رفتاری سے اسی دور میں ایٹم بم بنانے میں کامیابی حاصل کر لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

ﺟﺐ ضیاء الحق ﮐﯿﭙﭩﻦ ﺗﮭﮯ 

اس جملے کے جواب میں کہ ” ضیاء امریکہ کا ایجنٹ تھا” ہم ایک ممتاز بھارتی صحافی اور دانشور جناب ایم جے اکبر صاحب کے سن 88 میں ” انڈیا ٹوڈے ” میں چھپنے والے ایک مضمون کا اقتباس پیش کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!

یہ 80 کی دہائی کا درمیان عرصہ تھا

“صدرضیاءالحق کسی نہ کسی طرح امریکہ کے ساتھ دوستی اپنی شرائط پر قائم رکھنے میں کامیاب ہو چکے ہیں ۔ صدر ضیاءالحق کا یہی امتیاز ہے کہ پاکستان کے تمام سول اور فوجی حکمرانوں میں واحد ہیں جنہوں نے پاکستان کے کسی موءقف میں ذرا بھی لچک پیدا کیے بغیر امریکہ سے اپنے معاملات کو درست رکھا”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کا پلوٹونیم بم

سخت ضرورت کے باوجود جنرل ضیاء نے ان حالات میں امریکہ سے جو شرائط منوائیں سفارت کاری کی تاریخ میں وہ یقیناً ایک غیر معمولی کارنامہ تھا ۔۔۔۔۔ جب تعصب اور عجیب و غریب قسم کے جمہوری فلسفوں سے لوگوں کو آزادی ملی گی تب ضیاء کے ان کارناموں کو ضرور تسلیم کیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!

جنرل ضیاء الحق اور الطاف بھائی

تحریر شاہد خان

( یہ ضیاءالحق کے سلسلے کا چوتھا مضمون ہے یہ سلسلہ ابھی جاری رہے گا انشاءاللہ ضیاء پر ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر جیسے الزامات  

 


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here