جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ سوئم

پاکستانی سپوتوں کی قربانیاں صد افسوس کہ کم از کم دنیائے انٹرنیٹ پہ ان نامور پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کے قیام کا سہرا ایک غیر ملکی فوجی افسر، والٹر کائوتھورن کے سر باندھ دیا گیا۔ سچ یہ ہے کہ آئی بی، ایم آئی اور ایس آئی ایس…ان تینوں خفیہ اداروں کے نوزائیدہ پودے پاکستانی افسروں و جوانوں نے ہی محنت و مشقت سے پروان چڑھائے اور اپنا لہو دے کر انھیں توانا و مضبوط درخت بنایا۔ یہ کہنا کہ کسی غیر ملکی فوجی افسر نے قومی انٹیلی جنس اداروں کی بنیادیں رکھیں، درحقیقت اولیّں پاکستانی سپوتوں کی قربانیاں اور محنت رائیگاں کرنے کے مترادف ہے۔

 

یہ عین ممکن ہے کہ آئی ایس آئی کے قیام کی تجویز بانی پاکستان، قائداعظم محمد علی جناح کے ذہن ِرسا کی تخلیق ہو۔ قائد دفاعِ وطن کو جتنی زیادہ اہمیت دیتے تھے، وہ ان کی تقاریر کے اقتباسات سے عیاں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی روشن لمحے انھیں خیال آیا، ایسا ادارہ قائم کیا جائے جو تینوں مسلح افواج (برّی،فضائی اور بحری) کے انٹیلی جنس معاملات کو باہم مربوط و منضبط کر دے۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ اؤل

بہرحال 1948ء میں پاک فوج کے کمانڈر،جنرل ڈگلس گریسی اور وزیر دفاع، اسکندر مرزا نے والٹر کائوتھورن کو ہدایت دی کہ وہ آئی ایس آئی قائم کرنے کی خاطر مطلوبہ اقدامات کر لیں۔ والٹر کائوتھورن (1896ء۔1970ء ) برطانوی نہیں آسٹریلوی شہری تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے وقت برطانوی فوج میں شامل ہوئے۔ بعد ازاں برطانوی ہند فوج کی16 پنجاب رجمنٹ میں چلے آئے۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ دوم

دوسری جنگ عظیم کے دوران مقامی ایم آئی کے چیف رہے۔ جیمز بانڈ کے خالق برطانوی ادیب، آئن فلیمنگ کا بھائی، پیٹر فلیمنگ ان کے ماتحت کام کرتا رہا۔ وہ ایک ماہر جاسوس تھا۔ ہندوستان کا بٹوارا ہوا تو کائوتھورن نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ دراصل ان کے بیشتر دوست مسلم فوجی افسر تھے۔ جب وہ پاکستان چلے گئے، تو انھوں نے بھی اس نوزائیدہ مملکت کو اپنا نیا وطن بنا لیا۔1948ء میں آپ کو ڈپٹی چیف آف سٹاف مقرر کیا گیا۔ اسی عہدے کی مناسبت سے کائوتھورن کو یہ ذمے داری سونپی گئی کہ آئی ایس آئی قائم کرنے کی خاطر وہ تمام مطلوبہ کارروائی کر لیں ۔ وہ بعد ازاں دسمبر 1951 ء میں آسٹریلیا چلے گئے تاکہ وہاں کے انٹیلی جنس اداروں سے منسلک ہو سکیں۔

مگر عملی طور پہ آئی ایس آئی کو بطور ادارہ کھڑا کرنے کی ذمے داری کرنل شاہد حامد کو سونپی گئی۔ تب کرنل صاحب پاکستان نیشنل گارڈز کے کمانڈر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ انھیں نئی ذمے داری ملی، تو فوراً نئے محاذ پہ جت گئے۔ کریٹ کی بنی میز کرسیاں کراچی میں عبداللہ ہارون روڈ اور غلام حسین ہدایت اللہ روڈ کے سنگم پہ، زینب مارکیٹ کے سامنے ایک پرانی، چھوٹی سے یک منزلہ عمارت واقع تھی۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ چہارم

اسی عمارت میں آئی ایس آئی کا پہلا ہیڈکوارٹر قائم ہو۔ 14 جولائی 1948ء کو عمارت میں انٹیلی جنس کا متعلقہ کام باقاعدہ طور پہ شروع ہوا۔ وطن عزیز کے اس اہم ادارہ ِجاسوسی کا آغاز جن نامساعد حالات میں ہوا، ان کا تذکرہ عیاں کرتا ہے کہ تب انسانی جوش و ولولے اور جذبہ حب الوطنی کی بدولت عجب کرشمے ظہور پذیر ہوئے۔ وسائل اور عملے کی شدید کمی تھی، مگر کرنل شاہد اور ان کے مٹھی بھر ساتھی دل برداشتہ نہیں ہوئے۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی آخری حصہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here