جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ اؤل

0
799

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ اؤل

بھارت اسرائیل اور امریکہ کے علاوہ مغربی استعمار کی خفیہ ایجنسیاں بھی پاکستانی ایٹم بم کو تردد کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں ۔ان کی یہی سعی تھی کہ ایک اسلامی ملک ایٹمی طاقت نہ بننے پائے۔ آئی ایس آئی کے جوان اس سارے پس منظر سے بخوبی واقف ہیں ۔ سو انہوں نے دفاعِ وطن سے متعلق حساس ترین مقام پر دو غیر ملکیوں کو منڈلاتے دیکھا تو اس دن سے چوکنا ہو گئے۔انہوں نے موقع پاتے ہی انہیں جا پکڑا اور پوچھ گچھ کرنے لگے ۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ دوم

جوانوں کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ایک غیر ملکی ،لیو گورریریس فرانس کا سفیر تھا۔ دوسرا فرانسیسی سفارت خانے کا فرسٹ آفیسرنکلا۔ بعدازاں تفتیش سے انکشاف ہوا کہ دونوں فرانسیسی امریکی خفیہ ایجنسی ، سی آئی اے کے ایجنٹ تھے۔ سی آئی اے نے ان کی خدمات اس لیے حاصل کی تھیں تاکہ کہوٹہ لیبارٹریز کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تصویری معلومات حاصل کرسکے۔

 

یوں آئی ایس آئی کے جوانوں نے حاضر دماغی اور دلیری سے کام لیتے ہوئے دشمن کا منصوبہ خاک میں ملا دیا۔

انگریز کا نظام ِجاسوسی انیسویں صدی میں جب انگریزوں نے اسلامی ہندوستان میں قدم جمائے تو وہ تعداد میں بہت کم تھے۔ اسی لیے انہیں اپنے انٹیلی جنس یونٹوں میں مقامی باشندے بھرتی کرنے پڑے۔ انگریز استعمار نے البتہ یہ جدت اپنائی کہ اس کے ہندو اور مسلم ایجنٹ عموماً اپنے اپنے مذہبی گروہوں ہی میں جاسوسی کرتے ۔ ہندوستان میں اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے لیے انگریزوں نے بڑا جامع انٹیلی جنس نیٹ ورک تشکیل دیا۔ اسی باعث ملک میں آزادی کے کئی منصوبے مثلاً تحریک ریشمی رومال کامیاب نہیں ہو سکے۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ سوئم

بیسویں صدی تک ’’آئی بی‘‘ (آل انڈیا انٹیلی جنس بیورو) برطانوی ہند حکومت کی بنیادی خفیہ ایجنسی بن گئی۔ اس کا انتظام پولیس افسروں کے ہاتھوں میں تھا۔ اس ایجنسی کے سویلین مخبر و جاسوس قصبات اور دیہات تک پھیلے ہوئے تھے۔ آئی بی کی ذمے داری تھی کہ وہ حریت پسندوں پر نظر رکھے تاکہ وہ انگریز استعمار کے خلاف منصوبے نہ بنا سکیں۔

 

برطانوی ہند حکومت نے ’’ایم آئی‘‘ (ملٹری انٹیلی جنس) بھی بنا رکھی تھی مگر اس خفیہ ایجنسی کا دائرہ کار صرف فوج تک محدود تھا۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ چہارم

دوسری جنگ عظیم کے دوران ہندوستان میں انٹیلی جنس سرگرمیاں بہت بڑھ گئیں۔ جرمن اور جاپانی خفیہ ایجنسیوں کی چالوں کا مقابلہ کرنے کی خاطر انگریزوں نے مزید خفیہ ادارے قائم کیے جن میں’’ ایس او ای‘‘ (سپیشل آپریشن ایگزیکٹو) نمایاں ہے۔ اسی خفیہ ایجنسی کے ہندوستانی و برطانوی ایجنٹوں نے برما میں جاپانیوں کے خلاف ٹھوس کارروائیاں کیں اور انھیں وہاں مستحکم نہیں ہونے دیا۔

بھارت کی انگلیاں گھی میں اگست 1947ء میں ہندوستان دو مملکتوں

بھارت اور پاکستان میں تقسیم ہو گیا۔ تب برطانوی ہند حکومت کی ملکیت ہر شے کا بھی بٹوارہ ہوا۔ بھارتی فوج یوں فائدے میں رہی کہ اسے دہلی میں افواج ِ برطانوی ہند کا جما جمایا ہیڈ کوارٹر مل گیا۔ وہیں ایم آئی سمیت دیگر خفیہ ایجنسیوں کا انفراسٹرکچر بھی مربوط حالت میں تھا۔ یوں نو زائیدہ بھارتی حکومت کو اپنا انٹیلی جنس نظام کھڑا کرنے کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑی۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی آخری حصہ

دوسری طرف حکومت پاکستان کو نئے سرے سے اپنا انٹیلی جنس شعبہ تعمیر کرنا پڑا۔تب ملکی وسائل ہی کم نہ تھے، بلکہ تجربے کار ماہرین جاسوسی کا بھی فقدان تھا۔ بہرحال حکومت برطانوی ہند کی آئی بی میں شامل جو مسلمان افسرو ماہرین پاکستان آئے،انہی پر مشتمل پاکستانی ’’آئی بی‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ وطن عزیز کی پہلی انٹیلی جنس ایجنسی تھی 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here