جاوید ھاشمی جیسے سیاستدان نے عین موقعے پر ڈسا حتی کہ دھرنے کے دوران اپنے کارکنوں تک نے چھوڑ دیا تھا

0
1066
انمول ہیرے ۔۔۔۔۔۔۔ !

ظالم، ضدی اور نہ تھکنے والے کپتان نے وہ کر دکھایا جس کی کسی کو امید نہیں تھی۔ 
پارلیمنٹ نے تعاؤن نہیں کیا
الیکشن کمیشن نے تعاؤن نہیں کیا
سپریم کورٹ نے ( افتخار چودھری کے دور میں) تعاؤن نہیں کیا
سپیکر نے تعاؤن نہیں کیا
سب سے بڑی مذبی سیاسی جماعت مخالف (فضل الرحمن)
جاوید ھاشمی جیسے سیاستدان نے عین موقعے پر ڈسا
حتی کہ دھرنے کے دوران اپنے کارکنوں تک نے چھوڑ دیا تھا
پاک فوج نے منتخب جمہوری حکومت کو ہٹآنے سے معذرت کی تاہم نواز شریف کی مظاہرین کے خلاف جاری ظالمانہ کاروائی کو روک دیا۔

لیکن یہ ڈٹا رہا اور اسی عدلیہ کے ذریعے ملک کے سب سے بڑے فرعوں کو ڈبو دیا جس عدلیہ سے انصاف سرزد ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا۔

سراج الحق اور شیخ رشید کا نام اس لحاظ سے یاد رکھا جائیگا کہ اس تاریخی مقدمے میں وہ شروع سے آخر تک حق پر ڈٹے رہے۔

آصف سعید خان کھوسہ، اعجاز افضل خان، گلزار احمد، عظمت سعید اوراعجازالحسن کو سلام ۔۔۔ کسی قاضی یا منصف کا ظالم حکمران کےخلاف فیصلہ ہم صرف اپنی تاریخ کے کتابوں میں پڑھا کرتے تھے ان ججز نے وہ تاریخ دوبارہ زندہ کر دی۔
انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ تاریخ رقم کرینگے اور انہوں نے کر دکھائی۔

(ایف آئی اے) ایڈیشنل ڈائریکٹرواجد ضیاء، (ایم آئی) بریگیڈیئر کامران خورشید، (آئی ایس آئی) کے بریگیڈیئر نعمان سعید، (نیب) گریڈ 20 کے افسرعرفان نعیم منگی، (ایس ای سی پی) بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز۔۔۔

ان ہیروز کو تحقیقات سونپی گئیں تو صرف 60 دن میں وہ کام کر ڈالا جس پر خود سپریم کورٹ، میڈیا اور شریف خاندان بھی ششدر رہ گیا۔

جے آئی ٹی کو خریدنے کے لیے مبینہ طور پر 100 ارب روپے مختص کیے گئے۔ اس سے بات نہیں بنی تو نہال ھاشمی کے ذریعے براہ راست ان کے عورتوں اور بچوں تک کو مارنے کی دھمکیاں دے ڈالیں۔
اس کے باؤجود انہوں نے تندہی سے ریکارڈ مدت میں اپنا کام مکمل کیا۔۔۔ انکوپوری قوم کا سلام۔ انکی قابلیت اور ایمانداری ثابت ہوچکی۔ ان کو انہی اداروں میں اہم ترین ذمہ داریاں سونپی جانی چاہئیں۔

شاہد مسعود ۔۔۔۔۔۔۔
ایک ایسے وقت میں جب “قلم” کا سودا کرنے والے صحافی دولت میں نہا رہے تھے۔ مجیب الرحمن شامی اور جاوید چودھری محض حکمرانوں کی چاپلوسی کر کے ارب پتی ہوگئے یہ شخص ” بدمعاشیہ ” کے خلاف ڈٹ گیا۔
روز ان کے ” دبھڑدوس” ہونے کی پیشن گوئی کرتا رہا روز ان کے پول کھولتا رہا اور روز قوم کو امید دلاتا رہا اور روز مذاق کا نشانہ بنتا رہا۔ لیکن آج اسکی ایک ایک بات سچ ثابت ہوئی۔ شاہد مسعود ہماری صحافت کا ہیرا ہے ۔۔۔۔۔ 

ہارون الرشید، صابر شاکر، عارف حمید بھٹی، سمیع ابراہیم، کاشف عباسی، روف کلاسرا اور ان جیسے تمام اینکرز کو بھی سلام۔ بلاشبہ انہوں نے میڈیا پر حق کا ساتھ دیا۔

اور سپیشل سلام سوشل میڈیا پر پاکستان کی نظریاتی جنگ لڑنے والے ان تمام مجاہدوں کو جو حقیقتاً اس وقت بہت سوں کے لیے درد سر بن چکے ہیں۔ ان کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ یہ فورتھ اور ففتھ جنریشن وار کے سلسلے میں پاکستان کے خلاف کی جانے والی کتنی بڑی سرمایہ کاری اور محنت کو ڈبو چکے ہیں۔ ۔۔ شاباش جوانو۔۔۔ 

اور آخر میں ہماری پیاری پاک فوج ۔۔۔۔۔۔۔ اگر موڈ بنا تو اس پر تفصیل سے لکھونگا کہ جنرل کیانی کے دور میں کیسے جمہوریت کو چھیڑے بغیر پاکستان کو درست کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی جس کو بتدریج آگے بڑھایا گیا ۔۔۔ 

پاک فوج عدلیہ، جے آئی ٹی اور ان سب کی پشت پر کسی سائبان کی طرح کھڑی رہی جنہوں یہ جنگ لڑی۔ یہ صرف اور صرف پاک فوج کا خوف تھا جس نے ان فرعونوں کو طاقت کے استعمال سے باز رکھا اور آج یہ چوہے کی طرح سر جھکا کر عدالتی فیصلے ماننے پر مجبور ہیں ۔۔۔

یہ سارے اس قوم کے انمول ہیرے ہیں۔ ان سب پر ہمیں فخر ہے۔

سراج الحق کہتا ہے کہ ” یہ صرف دیگ کا ایک چاول ہے” ۔۔۔۔۔

اس لیے پہلی فتح مبارک ہو لیکن جنگ ابھی جاری ہے ۔۔۔ !

تحریر شاہد خان

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here