جاتے ہوئے ممنون حسین بھی تیس ارب ڈالر کا نقصان پہنچا گئے

0
433

آخری تین ماہ میں ممنون حسین نے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا دیا!

آپ کو یقین نہیں آرہا؟ ابھی دلاتے ہیں آپ کو یقین۔

ن لیگ حکومت کے آخری تین ماہ میں صدر ممنون حسین صاحب نے ایک صدارتی آرڈینینس کے ذریعے ” ٹیکس ایمنسٹی سکیم” کا اجراء کیا۔ لب لباب جس کا یہ تھا کہ ۔۔۔

” آپ کے پاس پاکستان سمیت دنیا بھر میں کہیں بھی کالا دھن ( چوری کا مال ) پڑا ہے تو کل مال کا پچاسواں حصہ یا دو سے تین فیصد جرمانے کی شکل میں ادا کیجیے اور آپ کی دولت کو قانونی تسلیم کر لیا جائیگا “

مزید سادہ الفاظ میں یہ کہ اگر آپ نے 100 کروڑ روپے چوری کیا ہے تو 2 کروڑ ہمیں واپس کیجیے باقی آپکا۔ پاکستان کی کوئی بھی حکومت کبھی نہیں پوچھے گی کہ آپ کے پاس یہ 98 کروڑ روپے کہاں سے آئے؟

سکیم کے چند اہم نقاط حسب ذیل ہیں۔

1۔ ظاہر شدہ اثاثوں کی آمدن پر بارہ سے چوبیس لاکھ روپے پر 5 فیصد ، چوبیس سے اڑتالیس لاکھ روپے آمدن پر 10 فیصد ، اور اڑتالیس لاکھ سے زائد آمدن تک 15 فیصد ٹیکس ادا کرنا ھو گا( پہلے یہ حد 35 فیصد تک تھی ).

2۔ غیر ملکی زرمبادلہ واپسی پر 2 فیصد ٹیکس ادا کرنا ھو گا ، ملکی و غیر ملکی زرمبادلہ کے حامل افراد حکومت سے پانچ سالہ مدت کے لئے بانڈ خرید سکیں گے جس پر حکومت 3 فیصد سالانہ منافع بھی دے گی، یہ بانڈ کم سے کم ایک سال کی مدت سے پہلے کیش نہیں کروائے جاسکتے، یہ بانڈ جب کیش کروائے جائیں گے تو اس وقت انٹر بینک ریٹ کے مطابق پاکستانی روپے میں ادائیگی کی جائے گی۔

3۔ بیرون ملک چھپائی گئی دولت اور اثاثوں پر 3 فیصد جرمانہ ادا کریں تو وہ قانونی ہوجائنگے۔

4۔ ایک لاکھ ڈالر کے اثاثے سالانہ بنیاد پر بغیر کسی پوچھ گچھ پاکستان لائے جاسکیں گے۔

5۔ پاکستان میں تیس جون 2018 سے پہلے کا کالا دھن 5 فیصد جرمانہ ادا کر کے قانونی کیا جا سکتا ہے۔

6۔ پراپرٹی کے ایف بی آر ریٹ ختم ھو جائیں گے اور صوبوں کو بھی ڈی سی ریٹ ختم کرنے کی سفارش کی جائے گی۔

7۔ اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو نیب، ایف بی آر اور آیف آئی اے سمیت تمام تحقیقاتی اداروں سے مکمل تحفظ حاصل ہوگا۔

ایف بی آر نے ابھی آفیشلی اعلان نہیں کیا کہ اس سکیم کی مدد سے اب تک کتنی رقوم جمع کرائی جا چکیں ہیں تاہم چند بڑے اخباری رپورٹوں کے مطابق ایف بی آر کے اندر کے ذرائع بتا رہے ہیں کہ اس سکیم کی مدد سے اب تک 80 ارب روپے سے زائد کی رقوم جمع کرائی جا چکی ہیں۔

یہ 80 ارب روپے اصل رقم یا اثاثوں کا محض 2 سے 3 فیصد ہے۔ اگر سادہ حساب کریں تو صرف تین ماہ کے دوران کم از کم 3000 سے 4000 ارب روپے کا کالا دھن سفید کیا گیا ہے۔ امریکی ڈالرز میں کم از کم 30 ارب ڈالر کا لوٹا ہوا مال ہضم کیا گیا ہے۔

یہ ہے وہ ٹیکا جو بے ضرر نظر آنے والے ممنون حسین کے ذریعے ن لیگ نے پاکستان کو لگایا ۔ اگر یہ 30 ارب ڈالر کے اثاثے ظاہر ہوگئے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ 200 ارب ڈالر کے اثاثوں والی بات بلکل درست ہے جو پاکستان سے چوری کر کے باہر کے بینکوں میں رکھے گئے ہیں۔

اگر عمران خان سارے کام چھوڑ کر وہ 200 ارب ڈالر پاکستان واپس لے آئیں تو پاکستان کے تمام قرضے چکتا ہوجائنگے، کوئی پاکستانی بے روزگار نہیں رہے گا، تمام قومی ادارے فوراً خسارے سے نکل آئنگے اور تمام ڈیم فوری طور پر مکمل ہوجائنگے یعنی زیرو لوڈ شیڈنگ ہوجائیگی۔

یہ بات بھی نوٹ کی جانی چاہیے کہ یہ سکیم عین اس وقت جاری کی گئی جب عالمی سطح پر غیر قانونی اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے خلاف قوانین سخت ہونے لگے اور دنیا بھر میں موجود غیر قانونی اثاثے غیر محفوظ ہونے لگے۔

دنیا بھر میں ایمنسٹی سکیم جاری کی جاتی ہیں لیکن یہ صرف ان اثاثوں پر ہوتی ہیں جو جائز ہوں لیکن جن پر ٹیکس جمع نہ کیا گیا ہو۔ اور ان سکیمز میں کل اثاثو کا کم از کم آدھا یعنی 40 سے 50 فیصد وصول کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں جاری کی گئی ایمنسٹی سکیم میں ایک اور کمال بھی کیا گیا ہے۔ اس سکیم میں آپ کو اثاثے دکھانے کی بھی ضرورت نہیں.

یعنی صرف بتا دیں کہ ” ہاں میرے پاس اتنے اثاثے ہیں اور یہ لو اسکا 2 فیصد جرمانہ” اس کے بعد آپ آنے والے دنوں میں بھی کرپشن کر کے اثاثے بنائیں تو بتا سکتے ہیں کہ جناب میں اسکا جرمانہ بھر چکا ہوں یہ میرے ” حلال اثاثے” اسی وقت کے میرے پاس پڑے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here