تھوڑی رقم پر فراڈ کے ذریعے زیادہ قرضے جاری کرنے کو فریکشنل ریزرو بینکنگ کہتے ہیں جو پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک کی بینکوں کی مشترکہ پالیسی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ 

0
604

بینکوں کا معاشروں پر کنٹرول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بینک کیسے کسی معاشرے کو کنٹرول کر لیتے ہیں؟ بہت بڑی بڑی برائوں میں سے آخر اللہ نے سود کے خلاف ہی کیوں اعلان جنگ کر رکھا ہے؟ کیا واقعی بینک جمع شدہ رقوم سے کاروبار کرتے ہیں؟ اسکی کچھ مختصر وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں گوکہ یہ ایک بے حد وسیع موضوع ہے اور تفصیل طلب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذرا ایک ایسے معاشرے کا تصور کریں جو پوری دنیا سے الگ تھلگ ہے وہاں ایک شخص ایک دکان کھول کر بیٹھ جاتا ہے کہ یہ بینک ہے یہ لوگوں کی رقم کی جمع کرتا ہے اور قرض بھی دیتا ہے رقم جمع کروانے پر سود بھی دیتا ہے ۔۔۔۔۔

اب ایک شخص آکر سو روپے جمع کراتا ہے تو بینک اسکا اکاونٹ کھول کر اسکے پیسے اپنے پاس رکھ لیتا ہے اس شخص کو چیک جاری کرتا ہے کہ اب آپ کی رقم ہمارے پاس محفوظ ہے اس پر ماہوار ایک روپیہ آپ کو سود بھی ملے گا اور ان چیکوں سے آپ اپنا لین دین بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ہر طرح سے آپ کو سہولت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ شخص جاتا ہے تو ایک اور شخص آتا ہے کہ میں نے رقم جمع نہیں کرانی بلکہ مجھے سو روپے قرض چاہئے ۔۔۔۔۔۔ بینک کہتا ہے کہ ٹھیک ہے ہمارے پاس اتنی رقم موجود ہے ہم آپ کو قرض دیتے ہیں اسکے بدلے میں آپ ہمیں کم از کم دو سو روپے کی ضمانت فراہم کریں جو زمین،گھر یا کسی اور اثاثے کی شکل میں ہو اور ہم آپ سے اس پر دو روپے ماہانہ سود لیں گے۔۔۔۔۔۔۔ وہ شخص راضی ہو جاتا ہے تب بینک اسکو قرض جاری کرتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ آفر کرتا ہے کہ بھائی اتنی بڑی رقم کیا آپ گھر میں رکھیں گے یا ساتھ لے کر پھریں گے؟؟ آپ کا ہم اکاونٹ کھلواتے ہیں اور آپکی رقم اپنے پاس جمع کرواتے ہیں آپ ہم سے چیک لے جائیں جو آپ کے لیے وہی کام کرے گی جو یہ رقم کر رہی ہے ۔۔ وہ راضی ہو جاتا ہے اور اس بینک میں ایک اور کھاتہ کھل جاتا ہے رقم بینک میں ہی رہتی ہے اور ایک شخص مقروض ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ شخص باہر جا کر بتاتا ہے کہ بینک قرض جاری کر رہا ہے تو اور بہت سے لوگ آجاتے ہیں جو انہی شرائط پر بینک سے قرض حاصل کر تے ہیں لیکن رقم کے بجائے اکاونٹ کھول کر چیک لینا پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔

اب اصل میں ہوا کیا ۔۔۔۔۔۔۔ اس کو ذرا سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔۔

بینک نے ایک شخص سے سو روپے حاصل کیے اور ان پر ایک روپیہ سود جاری کیا لیکن انہی سو روپے کے بھروسے پر آگے پندرہ یا بیس افراد کو قرض جاری کیا جن میں سے ہر ایک سے دو دو روپے کی شرح سے سود وصول کر رہا ہے جو ماہوار تیس یا چالیس روپے بنتے ہیں اور اس معاشرے کے سارے لوگ جو قرض لے چکے ہیں اپنا کچھ نہ کچھ گروی رکھوا چکے ہیں نتیجے میں اس معاشرے کے اکثر اثاثے بینک کے پاس گروی رکھے ہیں اور ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں بینک انکو ضبط کر لیتا ہے۔۔۔ معاشرے میں وسائل اتنے ہی ہیں لیکن بینک نے اپنے چیک جاری کرکے زر کی مقدار بڑھا دی جس سے پورے معاشرے میں ایک زبردست مہنگائی اور افراط زر نے جنم لیا۔۔۔۔۔۔ جو لوگ اس بینک کے قرضوں پر کاروبار کر رہے ہیں وہ بینک کے رحم کرم پر ہیں اور بینک ان مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان سے کچھ بھی منوا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ہے بینکوں کا خوفناک اور مکروہ چہرہ۔۔۔۔ یہ ایک نہایت سادہ لیکن جامع مثال ہے جس سے بینکنگ سسٹم کو سمجھا جا سکتا ہے تھوڑی رقم پر فراڈ کے ذریعے زیادہ قرضے جاری کرنے کو فریکشنل ریزرو بینکنگ کہتے ہیں جو پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک کی بینکوں کی مشترکہ پالیسی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

ان بینکوں کے آخری سرے پر صہیونی بینکار بیٹھے ہیں جنہوں نے اپنے اس شیطانی سسٹم کے ذریعے امریکہ سمیت دنیا کے تمام بڑے ممالک اور کاروباری اداروں کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اس یر غمالی کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔

دنیا میں برپا فساد، جنگیں،بیماریاں ،ماحولیاتی آلودگی ،موسموں کا خوفناک تغیر ،معاشروں میں بڑھتی فحاشی ،گلوبل وارمنگ،حتی کی سورج کی روشنی یا اوزون کی تہہ کو ڈیمیج کرنے کے پیچھے بھی یہ بینکار ہیں جو نہایت بے رحمی سے اپنی جنگی پالیسیوں پر دنیا بھر کی حکومتوں کو مجبور کرتے ہیں جنہوں نے اپنی فیکٹریوں میں ورکرز کی ضرورت کو پورا کرنےکے لیے مغرب میں عورت کو گھر سے نکالا اور فحاشی پھیلا کر فیملی سسٹم کو ڈیمج کر دیا اور بے شمار صنعتوں اور تعیشات کو فروغ دے کر ماحول کو آلودہ کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اس سارے نظام کا دارومدار سود پر ہے۔۔۔۔۔۔!!

یہاں سب کچھ لکھنا ممکن نہیں لیکن اس سادہ سی مثال سے آپ بہت کچھ سمجھ سکتے ہیں اور اب آپ جان گئے ہونگے کہ آخر اللہ تعالی نے چودہ سو سال پہلے سود ہی کے خلاف کیوں اعلان جنگ کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!

(نوٹ اس شیطانی نظام کا چونکہ ایک حصہ یہ بھی ہے کہ کم رقم پر زیادہ قرضے جاری کرنا اس لیے جب زیادہ لوگ رقم وصول کرنے آتے ہیں تو بینک دیوالیہ بھی ہو جاتا ہے کچھ عرصہ پہلے جو امریکن بینک مسلسل دیوالیہ ہو رہے تھے اسکی وجہ یہی تھی۔۔۔!)

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here