تمھاری فیس بک تمھارے لیے گناہ و ثواب کا مستقل ذریعہ بن سکتی ہے۔

0
567

غور سے سنو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمھاری فیس بک تمھارے لیے گناہ و ثواب کا مستقل ذریعہ بن سکتی ہے۔

کچھ ایسا لکھو جو ۔۔۔۔۔۔۔۔

پشتون پنجابی کو جوڑدے،
یا
سندھی بلوچی کو جوڑدے،

تو جب تک پڑھا جائیگا اجر ملتا رہے گا۔

آخرت میں سے پیش کرنا کہ جب عصبیت کی آگ بھڑکائی جا رہی تھی تو میں اس پر پانی ڈالنے والوں میں سے تھا بے شک ایک قطرہ ہی کیوں نہ ہو۔

لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسی پوسٹ، جملہ یا لفظ جو ان کو ایک دوسرے سے دور کرے، جو پنجابی، بلوچی، سندھی اور پٹھان کو لڑا دے تو جب تک پڑھا جائیگا تمھاری گردن پر رہے گا۔

آخرت میں پیشی ہوگی تو کہا جائیگا کہ جب عصبیت کی آگ بڑھکائی گئی تو یہ اس پر تیل ڈال رہا تھا، پھر وہاں صفائی دینا کہ “جی میں تو حق بیان کر رہا تھا” ۔۔۔۔۔ !

خدا کی قسم وہ جھوٹ جو امت کو جوڑے اس سچ سے بہتر ہے جو ان کو توڑ دے۔

وہ بات چھپاؤ جو ان میں اختلاف پیدا کرے وہ بات پھیلاؤ جو ان میں محبت پیدا کرے۔

“اے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت (آدم وحوا) سے بنایا اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا (محض اس لئے کیا) تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو ” ۔۔۔۔۔۔۔ القرآن
پشتون، پنجابی، سندھی اور بلوچی محض پہچان کے لیے اس کی اور کوئی حیثیت نہیں۔

“جبیر بن مطعم (ر) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جو عصبیت کا داعی ہو اور عصبیت کی خاطر قتال وجنگ وجدل کررہا ہو اور جو تعصب کی خاطر قتال کرتا ہوا مرجائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ” ۔۔۔۔
یعنی جو صرف عصبیت ( قوم پرستی) کی دعوت دے وہ بھی امت میں سے نہیں

” ابن مسعود(ر) نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل فرماتے ہیں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی قوم کی ناحق مدد کرتا ہے وہ اس اونٹ کے مانند ہے جو کنویں میں گرگیا اوراس کی دم پکڑ کر اس کو نکالا جائے ” ۔۔۔

میں ہر قسم کی عصبیت سے اللہ کی مانگتا ہوں اور ان لوگوں سے بھی جو اسکی دعوت دے رہے ہیں اور ان علماء پر لعنت بھیجتا ہوں جو اللہ کے ان قطعی احکامات کو بھلا کر محض اپنی سیاست چمکانے کے لیے لوگوں کو اسکی طرف بلا رہے ہیں۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here