تربیتی سیشن حصہ دوم
ایکچول سوشل ایکٹویزم
تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز

سب سے پہلے جن احباب نے حصہ اول ریڈ نہیں کیا ان کے لیئے حصہ اول کا لنک👇
goo.gl/9D8i8U

طریقہ کار
ترجیحات کے تعین اور ان پر فوکس کرنے کے بعد آتی ہے اپروچ کہ آپ کس اینگل سے اپروچ کرتے ہیں کام کو انجام دینے کا طریقہ کار کیا ہے یہ وہ چیز ہے جس کے لیئے خاص طور پر تربیت کی ضرورت ہے یہاں پر آ کر ہمارے زیادہ تر ساتھی سوشل ایکٹویزم کے تقاضے پورے نہیں کر پاتے یہاں پر میرے نزدیک جو اہم غلطیاں کی جاتی ہیں وہ ہیں۔۔۔
“بھیڑ چال اور تنقیدی کام(تنقید در تنقید)”۔ 
ان غلطیوں کو ختم کرنے کے لیئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ ہے
“،غیر جانبدارانہ آبزرویشن، اینالسز، مشاورت، سٹریٹجی، میکنگ، مثبت اپروچ، نافع جدوجہد، تعمیری کام”
زیادہ تر تنقیدی کام بھی دراصل اسی بھیڑ چال کا پیش خیمہ ہے، مسئلہ یہ ہے کہ دشمن کے مقابلے میں ہم آٹے میں نمک کے برابر ہیں، اگر ہم بھی تعمیری کام چھوڑ کر تنقید در تنقید میں پڑ جائیں گے تو اپنے سے کئی گنا دشمن کا مقابلہ ممکنات میں سے نہیں لگتا بلکہ بعض مواقع پر ہم نادان دوست ثابت ہوں گے۔ میں ان دونوں اصطلاحات( بھیڑچال، تنقیدی کام ) کی تفصیل میں پڑھنے کے بجائے ڈائریکٹ مثال پر آتا ہوں جس سے آٹو میٹیکلی بات کلیئر ہو جائے گی۔۔

طریقہ کار اور اس کے اثرات  👇👇
بعض اوقات کچھ جعلی پیر اور عالم یا عامل کی ویڈیوز منظر عام پر آجاتی ہیں، یا کچھ ایسے اصل علماء بھی جو حقیقی تعلیمات کے بجائے خرافات کو پروموٹ کرتے ہیں تو ان کو لے کر سوشل میڈیا پر جگت بازی، یا پورے کے پورے مسلک پر تنقید حتیٰ کے مغلظات تک شروع کر دی جاتی ہیں۔ 

01 تربیتی سیشن قسط

اس کی واضح مثالیں، دلہن والی سرکار، مدرسے میں بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والا مولوی، اور شعیہ ذاکر ضمیر نقوی ہے ان سب کو لے کر ایک طوفان بد تمیزی برپا کیا گیا سوشل میڈیا پر ضمیری نقوی کو جگتیں، دلہن والی سرکار سے اہل سنت کو ٹارگٹ، اور اس مولوی کی وجہ سے مولوی اور مدرسے کو بدنام کیا گیا۔

اس سب سے ذرا بھی رتی بھر بھی کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کسی کو بھی ہاں نقصان ضرور ہوا کہ بین المسالک نفرت بڑھی آج ہماری اس طرح کی حرکات خاص طور پر فرقہ واریت اور کسی بھی دو جماعتوں کے درمیان حد درجہ نفرت کا باعث بنی ہوئی ہیں یعنی کہ ان سب سے فائدہ تو رتی بھر نہیں مگر نقصان اچھا خاصہ ہورہا ملک میں نفرت، فرقہ واریت کی آگ بھڑک رہی متشددانہ رویہ ظاہر ہو رہا پوری دنیا ہمیں شدت پسند اور پتہ نہیں کن کن القابات سے یاد کر رہی ہے۔۔۔

••تنقیدی کام اور بھیڑ چال کا نقصان  👇👇
طریقہ کار کی وضاحت کے لیئے میں شعیہ ذاکر کو موضوع بناتا ہوں۔۔
شعیہ کا وہ ذاکر ہمارے لیئے جو بھی ہے مگر اہل تشیع حضرات کے نزدیک یقیناً قابل احترام ہوگا، ایسے ہی جیسے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے علماء بہت عزیز اور قابل احترام ہیں۔۔اور محرم کے مہینے میں جو کہ ہم سب کا ہے مگر خاص طور پر اہل تشیع حضرات کی اس ماہ کافی جذباتی رسومات ہوتی ہیں، اور ان دنوں شعیہ سنی فسادات کا خطرہ بھی موجود ہوتا۔ اس مہینے میں ان کے عالم/ذاکر کو ایک طرح سے ذلیل کرنا سوشل میڈیا پر۔ اس چیز کا اثر کیا ہوگا کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ طریقہ کار اہل تشیع حضرات کے دل میں باقی مسالک کے لیئے انتہائی نفرت/بغض اور شاید بدلے تک کی آگ نہ بھر دے گا۔ کیا اس سے وطن عزیز میں شیعہ سنی فسادات کے منڈلاتے خطرات خطرناک حد بڑھ نہیں جائیں گے۔ اختلاف تو ہوتا ہے ہر کسی کو ہوتا ہے مگر اختلاف کا طریقہ کار اور وقت کی نزاکت کو دیکھ کر بات کرنا ہی ایک ایک حقیقی سوشل ایکٹویسٹ کا وطیرہ ہوتا ہے۔ اچھا کرنا کیا چاہیئے تھا

••سوچ سمجھ کر اور تعمیری کام کا فائدہ 👇👇
اگر تو نشانہ صرف وہ نیپال والی بات یا اس طرح کی ایک دو اور باتیں تھی جو عقلی طور پر سمجھ میں آنے والی نہیں تھی یا خرافات نظر آ رہی تھیں تو اس صورت میں کرنا یہ تھا کہ اہل تشیع کے کچھ اور باقی مسالک کے بھی کچھ معتبر علماء کے سامنے اس مسئلے کو رکھ کر ان سے اس بابت معلوم کیا جاتا اور تردید ہو جانے پر اس تردید کو عوام کے سامنے رکھ دیا جاتا کہ یہ دیکھیں یہ بندہ جھوٹ کہہ رہا یہ حقیقی اسلام نہیں ہے، اسی طرح سے باقی تمام بندوں کا بھی جو جو خرافات پھیلاتا اس کا بتائیں کہ یہ حقیقی اسلام نہیں یہ خرافات ہیں

اور اگر بطور مسلک ٹارگٹ کیا جا رہا تھا ( اہل تشیع پر میرا کچھ خاص مطالعہ بھی نہیں اور یہ موضوع بھی نہیں پوسٹ کی طوالت کو مدنظر رکھتے ہوئے بات سمیٹوں گا ) تو  اہل تشیع کا وہ طبقہ جو عقائد کے اعتبار سے درست نہیں، جو حضور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں بکواسات کرتے ہیں یا معاذ اللہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کو کم درجے میں رکھنے کی جسارت کرتے یا اور بھی ایسے معاملات بشمول صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ کی گستاخی وہ صریح کافر ہیں ، ان کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جگت بازی یا تنقید در تنقید یا مغلظات کا طوفان برپا کر کے فساد فی الارض کا باعث بنیں۔بلکہ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ان کی کتب ان کے عقائد ان کے قول و فعل سب کو اکٹھا کر کے معتبر علماء، وزارت مذہبی امور، عدالت اور تمام تر متعلقہ شعبہ جات کے سامنے پیش کر کے آئین پاکستان میں انہیں کافر قرار دیا جائے۔

بالکل اسی طرح سے جس طرح 1974 میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا تھا ۔   

01 تربیتی سیشن قسط

تو یہ ایک تعمیری کام ہوگا جس کا کچھ حاصل بھی ہوگا۔ جس سے دنیا کے سامنے بھی ہم ان کے باطل عقائد کو رد کرتے ہوئے انہیں دائرہ اسلام سے خارج ثابت کر سکتے ہیں۔ اور دین حق سے ان کے باطل عقائد کی چھاپ کو مٹا سکتے ہیں۔ صرف سوشل میڈیا پر کافر کافر کھیلنا اور ایک دوسرے کے علماء کو ذلیل کرنا ایک لاحاصل، غیر معیاری اور نقصان دہ عمل ہے۔۔۔

اسی طرح افواج کے متعلق بعض اوقات جب کوئی بات سامنے آتی ہے تو ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ سوشل میڈیا پر افواج مخالف پراپیگنڈہ سیل بھی موجود ہیں، بغیر سوچے سمجھے اس میں کود پڑتے ہیں، تنقید در تنقید گالیاں الزامات وغیرہ وغیرہ ۔۔۔جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اگر تو بات سچ ہو تو بھی حاصل تو کچھ نہیں ہوتا لیکن اگر جھوٹ ہو تو ہم افواج پاک کے خلاف کیئے گئے پراپیگنڈے کا حصہ بن کر ملکی دفاع کو کمزور کرنے میں بطور آلہ کار استعمال ہو جاتے ہیں۔ جس کی تازہ مثال ڈی جی صاحب کی عاصم سعید کے ساتھ پکچر کا ایشو بھی ہے۔ طریقہ کار کرنا یہ چاہیئے کہ جب بھی کوئی ایشو بنے مسئلہ بنے تو شور مچانے کے بجائے احسن انداز میں افواج پاک کی آفیشل سائٹس ان کی میلز انباکسز، لیٹرز کے ذریعے سےان سے وضاحت مانگی جائے یا جو لوگ افواج سے منسلک ہیں یا جو اس بابت علم رکھتے ہوں ان سے پوچھا جائے اور کنفرم ہونے پر اوپر بتائے گئے تمام ذرائع استعمال کر کے آپ اپنا مطالبہ فیکٹس اینڈ فگرز کے ساتھ احسن انداز میں آفیشلز تک پہنچائیں کہ سر یہ غلط ہے اور ہمارا(عوام) کا مطالبہ یہ ہے۔ اس سے یہ ہوگا کہ تو اس مطالبہ مان لیا جائے گا، یا اس کی وضاحت کر دی جائے گی اور اگر جھوٹا ہوا تو تردید کر دی جائے گی سبھی صورتوں میں آپ کی گئی کوشش نافع ثابت ہو گی۔۔۔۔۔۔

اس وقت میرے ذہن میں سب سے واضح مثال گزشتہ دنوں گیرٹ ویلڈرز ملعون کے معاملے میں ہماری کی گئی کوشش ہے۔ جس میں ہماری کی گئی میکسیمم اپروچز کا مثبت رسپانس آیا۔ جس میں یونائیٹڈ نیشن کو کی گئی اپروچ اور ان کا ریپلائی کے ہم نے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو کیس فارورڈ کر دیا، حکومت پاکستان، وزاورت خارجہ کو اپروچ جس پر وزارتِ خارجہ نے ڈچ سفیر کو طلب کیا، صحافیوں کو اپروچ جس میں حامد میر، عامر لیاقت، انصار عباسی سمیت متعدد کا مثبت رسپانس آیا، شہیر سیالوی بھائی کو اپروچ جنہوں نے جا کے قرارداد جمع کروائی، سیاست دانوں، سلیبرٹیز، سماجی جماعتوں کو اپروچ جن کی تفصیلات میری وال اور بلاگ پر موجود ہیں، حافظ عبدالسلام فیصل بھائی کی باکمال گراؤنڈ ورکنگ جنہوں نے پاکستان کے ہر دوسرے شہر میں بچے بچے تک یہ معاملہ پہنچایا، تحریک لبیک کا مطالبہ، متعدد پلیٹ فارمز سے ان کی تائید یہ سب چیزیں اور آپ تمام بھائیوں کی مخلص کاوش سے آخر کار گستاخانہ مقابلہ منسوخ کر دیا گیا۔

لیکن اگر ہم اس سب کے بجائے فیسبک پر گیرٹ ویلڈر کوصرف گالیاں اور لعنتیں ڈالنا شروع کر دیتے، صرف مارنے کاٹنے کے دعوے ہی کرتے رہتے، تو اس کا کیا فائدہ ہوتا ؟؟؟ الٹا ہماری اس چیز کو ٹارگٹ کر کے ہمیں ایکسٹریمسٹ اور دہشتگردی کا ایک اور تمغہ تھما دیا جاتا (کوئی شک نہیں کہ اس معاملے میں ہم ایکسٹریمسٹ ہیں مگر اس نیریٹیو کے آفٹر افیکٹس بھی مدنظر رکھے جائیں ) اور اس حوالے سے ہمارے احتجاج کو لے کر اس ملعون نے کچھ ٹویٹس کی بھی تھیں۔ وہ لعنتوں کا حق دار تھا ہے اور رہے گا ہم ڈالتے رہیں گے مگر ساتھ ساتھ کام بھی جس سے ہم اپنا مقصد حاصل کر سکیں۔۔۔۔

01 تربیتی سیشن قسط

اسی طرح آج کل کا جنرل بیہیویر اور بہت زیادہ ہونے والے تنقیدی کام میں یہ بھی ہے کہ آپ کسی ایکٹیوسٹ کے کسی لکھاری کے یا کسی بھی بندے کے کام سے موقف سے اختلاف کرتے ہیں، تو  مزکورہ فرد کی وال/پیج/گروپ میں جا کر ٹرولنگ، جگتیں، یا گالم گلوچ یا پھر اپنی ہی وال پر اس بندے کے سکرین شاٹ لگا کر الٹی سیدھی باتیں اس چیز کا فائدہ پہلے تو ہوتا نہیں اگر ہو تو بالکل معمولی اور نقصان اچھا خاصا یعنی فساد فی الارض کا باعث بن جاتا ہے اس سے سے مزکورہ فرد یا اس کے ساتھی آپکے خلاف محاذ آرائی کرتے ہیں، یا اگر وہ نظر انداز بھی کر دیں تو بھی آپکی پوسٹ ضائع ہی گئی آپ اپنا مقصد پورا نہیں کر پاتے وہ نیریٹیو جو مزکورہ فرد کی جانب سے بلڈ اپ کیا گیا تھا اسکا رد نہیں کر پاتے کیونکہ زیادہ تر دیکھنے والے آپ کی پوسٹ کو دیکھ کر اس کے مقصد کو متن کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے بطور چھترول پڑھتے ہیں اور اس میں بتائی گئی باتوں کو آپکا اس شخص سے بغض یا شخصی اختلاف سمجھ کر سکرول کر دیتے ہیں ۔۔۔۔طریقہ یہ ہے کہ۔۔۔

یا تو آپ اس کی وال پر مدلل ترین کمنٹ کر کے اس کا بیانیہ رد کر دیں بغیر ذرا سی بھی ٹرولنگ کے تاکہ وہ بندہ بھی اور پڑھنے والے بھی ذات پر حملہ سمجھنے کے بجائے آپکے موقف پر فوکس کریں، یا پھر اگر اپنی وال پر لکھنا تو جو نیریٹیو مزکورہ شخص نے بلڈ کیا اس کو رد کر کے آپ اپنا موقف پیش کر دیں یعنی “نیریٹیو کا رد نیریٹیو”بغیر سکرین شاٹ لگائے یا لگانا بھی ہے تو نام شو کیئے بغیر تاکہ پوسٹ تنقید کے بجائے اصلاح کا باعث بنے۔ اور پڑھنے والے احباب کا کنسیپٹ کلیئر ہو انہیں حقائق معلوم ہوں۔۔۔۔جس کا فائدہ ہو نقصان نہیں۔۔۔

غرض کے جذبات ہوں مگر جزباتیت نہیں، کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو اس کو دیکھیں ہر اینگل سے آبزرویشن کریں، سمجھیں اینالسز کریں، اس کے حل کے لیئے سوچ و بچار کریں تمام تر ممکنا حل سوچیں اور ان میں سے سب سے بیسٹ جس کے نقصانات نہ ہوں یا کم سے کم ہوں اور مقصد کو حاصل کرنے کے لیئے مفید ہو اسی کو اختیار کیا جائے، باقاعدہ سٹریٹیجی بنائی جائے باشعور لوگوں کی طرح پر مدلل اور احسن انداز اپنایا جائے جس میں سامنے والا آپکے طریقہ کار پر ہی آپ کے متعلق کوئی منفی رائے قائم کرنے کے بجائے، غیرجانبداری سے آپکا مسئلہ سن، سمجھ اور اسے حل کر سکے۔ ایک بات کہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے یا کسی بھی کام کو کرتے ہوئے اختیار کیئے گئے طریقہ کار کے اثرات کا دور اندیشی سے جائزہ لے لیا کریں، اگر کہیں پر سمجھ نہ بھی آئے تو سینیئرز سے یا متعقلہ فیلڈ کے کسی بندے سے مشورہ کر لیں۔

ان شاءاللہ تبارک و تعالیٰ آپ کی کاوشیں ضائع نہیں جائیں گیں اور نہ ہی نقصان کا باعث بنے گیں۔۔۔

01 تربیتی سیشن قسط

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here