تب ان کے اندر جنم لینے والی محرومی خود بخود ختم ہوجائیگی اور یہ پرسکون ہوجائیںگے۔

0
464

آزادیوں کے جدید تصورات معاشروں کو بلاآخر تباہ و برباد کردینگے۔

لفظ ” آزادی” ایک عجیب و غریب دھوکہ اور فریب ہے۔ یہ عوام کے ہر طبقے کو ہر قسم کی طاقت و جبر اور اتھارٹی کے خلاف اکساتا رہتا ہے حتی کہ خدا کی ذات اور قوانین فطرت کے خلاف بھی ابھارتا ہے ۔۔۔۔۔۔!!!

چالاک اور فسادی قسم کے لیڈر اپنے مخصوص مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اس کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور عوام کو بغاوت پر آمادہ کر کے خون کے پیاسے درندے بنا دیتے ہیں۔

اس کا نتیجہ اکثر تباہی اور انتشار کی صورت میں نکلتا ہے۔

میں ایک ایسی طاقت کا شدت سے منتظر ہوں جو اس بدمست بیل کو سینگوں سے پکڑ سکے۔ یعنی ” غوا لا دا مخے نا کیدل” ۔۔۔۔۔

اگر مجھ جیسے بندے کو اختیار ملے تو میں عوام کو آزادی کی جگہ ذمہ داری اور حق کی جگہ فرض کا سبق پڑھاؤنگا۔ تب ان کے اندر جنم لینے والی محرومی خود بخود ختم ہوجائیگی اور یہ پرسکون ہوجائیںگے۔

آزادی کو بے ضرر کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ عوام کا خدا کی ذات پر غیرمتزلزل یقین قائم کر دیا جائے اور آخرت کو ہی انکا مطلوب ومقصود بنا دیا جائے۔ تب ان کو جو کچھ میسر ہے اسی پر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ تب بھی انہیں قرار آجاتا ہے۔

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here