بے نظیر بھٹو نے کے الیکٹرک کی نجکاری کا آغاز کیا اور مشرف دور میں اس کے 76 فیصد شیرز 1600 ارب روپے میں ایک عرب کمپنی کو بیچ دئیے

0
149
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی کی بجلی کہاں گئی؟

بے نظیر بھٹو نے کے الیکٹرک کی نجکاری کا آغاز کیا اور مشرف دور میں اس کے 76 فیصد شیرز 1600 ارب روپے میں ایک عرب کمپنی کو بیچ دئیے۔

اس کے بعد ” ایک زداری سب پہ بھاری” آیا ۔ اس نے 2009 میں اس کمپنی کو 1300 ارب روپے واپس کر دئیے۔ یوں ان کو پورا کے الیکٹرک صرف 300 ارب میں پڑا۔
( ان 1300 ارب میں زرداری کو کیا ملا ہوگا اس کا اندازہ خود لگائیے )

اس کے بعد مذکورہ کمپنی نے فوری طور پر کے الیکٹرک کے 1200 کلومیٹر لمبے اور لاکھوں ٹن وزنی تانبے کے تار ہٹا کر ان کی جگہ ایلومینیم کے سسستے تار لگا دئیے ۔
تانبے کے ہٹائے جانے والے تاروں کی مالیت تقریباً 750 ارب روپے بتائی جارہی ہے ۔

اب خبر ہے کہ 750 ارب روپے مالیت کے وہ تانبے کے تار غائب ہیں۔ یہ تانبا مبینہ طور پر زرداری، فریال تالپور اور مذکورہ کمپنی نے ملکر بیچ دیا ہے خیر سے۔

تار بیچنے کے بعد عرب کمپنی کو کے الیکٹرک بلکل مفت میں پڑا ہے۔ سنا ہے زرداری اینڈ کمپنی کو اس کے بدلے متحدہ عرب امارات اور دبئی میں سینکڑوں ایکڑ زمینیں بھی دی گئی ہیں جو کمیشن کے علاوہ ہیں۔

ایلومینیم کے تار لگانے کا کیا نقصان ہوا ہے؟

ایلومینیم کے تاروں کی وجہ سے چار سے پانچ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ضروری ہے خاص کر گرمیوں میں ورنہ ان تاروں کے پگھلنے کا خطرہ ہے ۔

یہ تار مسلسل ٹرپ ہوتے رہتے ہیں۔ ان میں بجلی کے لیے مزاحمت کی وجہ سے یہ ہر دو تین منٹ بعد میٹر کو تگنی رفتار سے گھما دیتے ہیں جسکی وجہ سے کمر توڑ بجلی کے بل آتے ہیں۔ ( کے الیکٹرک کے شیر ہولڈر چودھری مظہر کے مطابق کے الیکٹرک حیران کن طور پر بہت زیادہ منافع کما رہی ہے مثلاً 2016 میں 16 ارب روپے کمائے )

تانبا ایلومینیم سے 3 گنا مہنگا ہے اور وہی تانبا اب اگر دوبارہ خریدنا پڑگیا تو 1500 ارب روپے میں پڑے گا۔

کون خریدے گا اب کہاں سے آئینگے پیسے؟؟

برسبیل تذکرہ 1300 ارب اور 750 ارب ملا کر کوئی 2000 ارب روپے بنتے ہیں۔ اور 500 ارب میں کالاباغ جیسا ڈیم بن سکتا ہے جو کراچی جیسے تین شہروں کو 24 گھنٹے سستی ترین بجلی دینے کے لیے کافی ہے۔

بہرحال اس سارے معاملے کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس داخل کیا گیا لیکن آفرین ہے سپریم کورٹ پر جو اس کیس کو سننے کے لیے تیار ہی نہیں پچھلے کئی سال سے۔ البتہ نیپرا نے اس گھپلے کے خلاف ایکشن لیا تو ہماری اس بے مثل عدلیہ نے ملوث لوگوں کو سٹے آرڈر دے کر نیپرا کو بھی بے بس کر دیا۔

انہی وجوہات کی بنا پر کراچی میں تباہ کن لوڈ شیڈنگ ہے اور لوڈ شیڈنگ ہی کی وجہ سے پانی بھی نایاب ہے اور پنکھے بھی نہیں چل رہے جس کی وجہ سے کراچی جیسے شہر میں لوگ ہر سال مر رہے ہیں۔

اس پر آپ پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو کی تقاریر اور سپریم کورٹ کے ججوں کے ڈرامے ملاحظہ کیجیے۔

یعنی ڈھٹائی دیکھیں ان بدبختوں کی کہ اپنے ہی پیدا کردہ ان مسائل کو حل کرنے لیے لیے ووٹ بھی مانگ رہے ہیں اور ساتھ ساتھ عوام کو یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ” پاکستان میں تم لوگوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے” یوں ریاست کے خلاف عوام میں نفرت بھی پھیلا رہے ہیں ۔۔ PPP

کس قدر ظالم اور منافق ہیں یہ مردود لوگ۔ پھر کہتے ہیں لوگ پتھر کیوں مار رہے ہیں ۔۔۔ 

نوٹ ۔۔ ویسے کیا کسی ایک سیاسی پارٹی یا لیڈر کے الیکشن ایجنڈے پر کوئی ڈیم ہے ؟؟؟

تحریر شاہدخان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here