بے بصیرت ملا ۔۔۔۔۔۔

0
1236

بے بصیرت ملا ۔۔۔۔۔۔ !

کل بابا کوڈا کی ایک پوسٹ پڑھی مفتی عدنان کاکاخیل کے بارے میں۔ باباکوڈا کی بہت سی باتوں سے اختلاف سہی لیکن دور جدید کے ان ملاوؤں کو وہ خوب پہچانتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر ایسی کون سی قیامت آپڑی تھی کہ ان ملاؤوں کو ڈاکٹر روتھ پافو کے جہنمی ہونے کا فتوی صادر کرنا پڑا؟
وہ روتھ پافو جس نے اپنی زندگی کئی عشرے اور اپنی ساری جوانی مسلمانوں کی خدمت میں صرف کر دی تھی ۔۔ !

بلکل یہی کام ان ملاوؤں نے ایدھی صاحب کے وفات ہونے پر بھی کیا تھا۔ مفتی زرولی نے تو انتہائی نفرت انگیز لہجے میں ایدھی مرحوم پر لعنت بھیجتے ہوئے فرمایا تھا کہ ” وہ حرامی بچوں کو پالتا تھا ” ۔۔ !

بھلا حلالی بچے پیدا کرنے کی ترغیب کس نے دینی تھی قوم کو ؟؟

ان حالات میں جبکہ ملحدین اور سیکولرز اسلام کو انسانوں کا دشمن مذہب قرار دینے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اس قسم کے جاہل، بے بصیرت اور کینہ پرور علماء ان کا کام آسان کر رہے ہیں۔

کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا اگر انکی خدمات کا اعتراف کر لیا جاتا اور آخرت کے حوالے سے خاموشی اختیار کی جاتی؟

اور ایک اور بات کیا ان علماء میں سےکوئی گیا تھا روتھ پافو کو اسلام کی دعوت دینے؟؟

کچھ دن پہلے پاک فوج کے ایک ہندو سپاہی نے 20 کروڑ مسلمانوں والی اس ریاست کے لیے اپنی جان دے دی انہوں نے فوراً نعرہ لگایا کہ ” جہنم واصل ہوگیا ” ۔۔ اب پتہ نہیں پاک فوج کے باقی غیر مسلم سپاہیوں کو یہ کیا پیغام دینا چاہتے تھے۔
اگر اسکی قربانی پر داد نہیں دے سکتے تو کم از کم اپنے یہ زہریلے منہ ہی بند رکھ لیتے۔۔۔ !

طارق جمیل صاحب کسی دور میں دوزخ بہت بیان کرتے تھے تو حاجی عبدالوہاب صاحب نے ان کو ڈانٹ دیا تھا کہ ” کیا تم ہر وقت مخلوق ( دورزخ ) بیان کرتے ہو۔ خالق بیان کرو جو اصل ہے۔ وہ بے نیاز ہے اگر دوزخ کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لے تو اس سے کون پوچھ سکتا ہے” ۔۔۔

غیر مسلموں کے ساتھ کچھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو نہایت دلچسپ ہیں ۔۔۔۔ مثلاً

نیک مسلمانوں کی طرح بہت سارے غیر مسلموں کے بھی ایسے جسم ملے ہیں جو کئی سو سال گزر جانے کے بعد بھی خراب نہیں ہوئے تھے۔ انکی نرمی بھی برقرار تھی اور لوگوں نے ان کے آس پاس ایک ناقابل فہم سی خوشبو بھی محسوس کی۔

“عارضی موت” کا تجربہ کرنے والے غیر مسلم مختلف تجربات بیان کرتے ہیں۔ کچھ کو لوگ کسی آگ کی طرف لے جاتے ہیں تو کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں ” ہمیںٰ کوئی اپنی طرف بلا رہا تھا اور وہاں ایک ایسا سکون تھا جسکو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے”۔۔ وہ مزہ حاصل کرنے کے لیے ایسے لوگ خودکشیوں کی کوششیں بھی کرچکے ہیں۔

اللہ ظالم اور بے انصاف نہیں ۔۔۔ دو نبیوں کے درمیان اور ان لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا جن کو اسلام کی باقاعدہ دعوت نہیں ملی ؟؟ ۔۔

سنا ہے اللہ قیامت والے دن علم کی بنیاد پر فیصلہ کرینگے۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ بہت سے سوالات کے جوابات دے دیتا ہے!

میرے خیال میں اللہ کے معاملات اللہ پر چھوڑ دینے چاہئیں۔

گمان ہے کہ اللہ قیامت کے دن ہم سے مرنے والے کسی غیر مسلم کے بارے میں سوال نہیں کرینگے کہ ” تم نے اس کے جہنمی ہونے کا گمان رکھا یا نہیں” ۔۔۔ بلکہ ہماری اپنے کرتوت تولے جائنگے۔۔۔۔ !

اللہ جانتے ہیں کہ روتھ پافو کے ساتھ وہ کیا معاملہ فرمائیں گے لیکن ایک بات کا مجھے یقین ہے۔۔۔ ان کا حشر ان علماء سے بہتر ہی ہوگا جن کو حضورﷺ نے زمین کی بدترین مخلوق قرار دیا تھا اور جنہوں نے اج تہلکہ مچا رکھا ہے!

جہاں تک عدنان کاکا خیل کی بات ہے تو جن دہشت گردوں کو للکانے کا طعنہ اس نے مشرف کو دیا تھا آج پورا بلوچستان ان دہشت گردوں پر لعنت بھیج رہا ہے اور انڈیا انکی سرپرستی تسلیم کر چکا ہے۔ کیا عدنان کاکا خیل میں اتنا ظرف یا ایمان ہے کہ وہ اپنی اس کوتاہ اندیشی اور کم عقلی کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستانیوں سے معافی مانگ لے؟؟

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here