بی بی سی کے اس دو سال پرانے مضمون میں پی ٹی ایم کے بہت سے سوالوں کے جواب

0
11


بی بی سی کے اس دو سال پرانے مضمون میں پی ٹی ایم کے بہت سے سوالوں کے جواب ہیں۔
نیز پی ٹی ایم بتائے کہ اس وقت بی بی سی نے یہ سب جھوٹ لکھا تھا یا آج منظور جھوٹ بول رہا ہے ؟؟؟
نیز اس دور میں پی ٹی ایم اور منظور کیوں گنگ تھے
؟؟؟

———————

شمالی وزیرستان: دہشتگردوں کی شکست کے بعد
بی بی سی مارچ 2017ء

کم از کم دس سال تک شمالی وزیرستان دہشگردوں کا گڑھ رہا۔ مختلف دہشت گرد گروہ یہاں سے پاکستان بھر میں خودکش بمبار بھیجتے تھے، لوگ اغواء کر کے یہاں رکھتے تھے، بم بناتے تھے، ہتھیار ذخیرہ کرتے تھے اور دہشت گردوں کی تربیت کرتے تھے۔

آج دہشت گرد غائب ہیں اور تقریباً پورے شمالی وزیرستان پر پاک فوج کا کنٹرول ہے۔

پاک فوج کو یقین ہے کہ دہشت گردوں کی یہ شکست تاریخ میں دہشت گردوں کے خلاف چند بڑی فتوحات میں سے ایک ہے۔ صرف دو سالوں میں پاک فوج کے 872 لوگوں نے اپنی جانیں دیں اور تقریباً 2000 کے قریب دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔

آپریشن سے پہلے شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑھ تھا۔ صرف شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے 30 ہزار جوانوں نے جنگ لڑی۔

دہشت گردوں کی اکثریت افغانستان بھاگ گئی۔ اب وہ افغانستان میں بیٹھ کر وہاں سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔

افغانستان بھاگنے والے ہشت گردوں کی بڑی تعداد نے داعش کے زیرکنٹرول علاقوں میں پناہ لی ہوئی ہے۔

دہشت گرد تو بھاگ گئے لیکن ان کے ہمدرد اور اثاثے اب بھی وزیرستان میں موجود ہیں جنہوں نے ان کی تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

پاک فوج کے جوان ایک گاؤں جو دہشت گردوں کا کافی بڑا مرکز تھا کو ” دہشت گردوں کا پنٹاگان” کہتے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں پاک فوج کو بہت سے مغوی، ایک مسجد کے نیچے دہشت گردوں کا میڈیا سنٹر، بم پروف ٹنلز اور سڑک کے کنارے بم بنانے کی ایک بہت بڑی فیکٹری بھی ملی۔

سینکٹروں تھیلے یوریا کے اور بےشمار بڑے بڑے ڈرم جو کیمیکلز سے بھرے ہوئے تھے ملے۔ یہاں روزانہ ہزاروں بم بنتے تھے جو پاکستان بھر میں استعمال ہوتے تھے۔

آپریشن کے بعد ان فیکٹریوں کی بندش سے بہت بڑا فرق پڑا ہے۔ اس سال پاکستان میں 441 حملے ہوئے ہیں جو افغانستان سے دہشت گرد کروا رہے ہیں۔ جب کہ 2009 میں 2586 حملے ہوئے تھے۔

صرف شمالی وزیرستان میں پاک فوج کو 310 ٹن بارود ملا اور 20 لاکھ گولیاں۔

افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے بعد پاک فوج نے پہلی بار افغان بارڈر کو کنٹرول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابتدائی طور پر افغان سرحد کے ساتھ ساتھ تقریباً 1000 کے قریب چھوٹے قلعے تعمیر کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی امریکی ساختہ جدید ترین ریڈار جگہ جگہ نصب کیے جارہے ہیں۔

مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان اس کو ایک بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتا ہے لیکن افغانستان ایسا نہیں سمجھتا۔ اس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے اور بارڈر کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

شمالی وزیرستان کی اس جنگ میں صرف فوجیوں کی جانیں نہیں گئی ہیں بلکہ بہت سے گھر بھی تباہ ہوئے ہیں کیونکہ دہشت گردوں کی اکثریت انہی گھروں میں چھپ رہی تھی۔ کئی گاؤں ایسے ہیں جہاں کسی گھر کی چھت سلامت نہیں۔

تاہم مقامی لوگ گھروں کو واپس جانے کے لیے بے چین ہیں۔

دہشتگردوں کو شکست دینے کے ساتھ ہی پاک فوج نے وزیرستان میں تعمیر نو کے کام شروع کر دئے ہیں۔ نئ نئی سڑکیں بن رہی ہیں۔ ایسے ایسے سکول بن رہے ہیں جن کی نظیر پورے پاکستان میں کہیں نہیں ملتی۔ نئی نئی مارکیٹیں بن رہی ہیں۔

میران شاہ کے قریب بننے والے ایسے ہی ایک جدید سکول میں 1000 بچوں کی پڑھنے کی گنجائش ہے۔

جہاد پاکستان میں ختم نہیں ہوا۔ سندھ میں ایک صوفی کے مزار پر ہونے والے حالیہ حملے میں 80 لوگوں کی اموات ہوئیں ہیں۔ اس حملے کی ڈانڈے بھی افغانستان سے ملتے ہیں۔

لیکن پاکستان میں دہشتگردوں کے سب سے مضبوط گڑھ شمالی وزیرستان سے دہشتگردوں کو نکال دیا گیا ہے اور قبائیلی لوگ بتدریج واپس جانا شروع ہوگئے ہیں۔

ترجمہ شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here