بیکن ہاوس کے زریعے ہمارے دین ، ملک اور کلچر پر کئ بار حملہ کیا گیا

0
459

پاکستان میں لبرلزم جب بھی نیا وار کرتی ہے ہے ان کے دئیے گئے پرانے درد پھر سے جاگ اٹھتے ہیں جنھیں ہم اپنی لاچاری کے ہاتھوں تھپک تھپک کر سُلا چکے ہوتے ہیں
پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے کشمیر پہ پاکستان بھارت کی جنگیں اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ ہماری وہ شہ رگ ہے جس پہ کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہمارے نقشے میں اس کی حثیت اتنی ہی مسلمہ ہے جتنی کہ پنجاب سمیت دوسرے صوبوں کی ایسا پاکستان میں ہی کیوں ہوتا ہے کہ ریاست مخالف قوتیں اپنا کھیل کھل کے کھیلتی ہیں اور ہم چپ چاپ تماشائی بنے رہتے کیو‍ں ان کا گریبان چاک نہیں کرتے کیوں وہ ہاتھ توڑ نہیں دیتے وہ زبان گدی سے کھینچ نہیں لیتے
کیا ہم صرف غداری اور عیاری کے نوحے ہی لکھتے رہ جائیں گے
وہ آسیہ اندرابی جو لاشوں پہ کھڑی ہو کر بھی پاکستان ذندہ باد کے نعرے لگاتی ہے کیا وہ جانتی ہے کہ پاکستانی کتب میں تو ان کے لیے پاکستان میں جگہ ہی نہیں
کشمیری جو اپنے لاشے بھی پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفناتے ہیں ان کو نا خبر ہونے پائے کے پاکستان کے نقشے میں ان کو پاکستان سے جدا کر دیا گیا
ان کشمیری ماؤں تک میرے یہ الفاظ کبھی نا پہنچیں جنھوں نے اپنے نوجوان لال جن کی ابھی مسیں بھی نہیں بھیگی تھی انھیں پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر اپنی گود سے گور کے حوالے کر دیا

میرا نوحہ میرے ان مجاہدین بھائیوں تک نا پہنچے جو ذخم ذخم وجود کے ساتھ کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگا رہے ہیں

پاکستان میں رہ کر بیرونی مفادات کا تحفظ کرنے والے کیا جانیں کہ پاکستان کا ہر بچہ ماں کی کوکھ سے ہی کشمیر سے محبت اور بھارت سے نفرت لیکر پیدا ہوتا ہے اور یہ نفرت بلاجواز نہیں اس میں پاکستانیوں کا 70 سال سے بہایا گیا خون ان کے ملک کے دو ٹکڑے اور کشمیر پہ ناجائز تسلط شامل ہے

قصوری فیملی پاکستان میں ایک انتہائی مہنگی ایجوکیشن چین چلاتی ہے ان کے بے شمار تعلیمی پراجیکٹ ہیں جن کو بیرونی این جی اوز فنڈنگ کرتی ہیں ان مہنگے ترین سکولز میں تعلیمی نظام بیرونی این جی اوز کا مروج کردہ ہوتا ہے
بھارت اسرائیل یا CIA جب بھی پاکستان کا نقشہ کہیں ظاہر کریں اس میں کشمیر گلگت بلتستان کو انڈیا کا حصہ دکھایا جاتا ہے
یہی کام اب پاکستان میں یہ قصوری سکول چین کرتی ہے بیکن ہاؤس کے پراجیکٹ دی ایجوکیٹرز کی مالکن خورشید قصوری کی وائف نسرین قصوری ہے دی ایجوکیٹرز کے فورتھ اور ففتھ کلاس کی سوشل سٹڈیز میں میں کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا
شائد کہ ہمیں علم ہی نا ہوتا کہ ہمارے بچے کیا پڑھتے ہیں ان کو کیا پڑھایا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں ارمغان حلیم جیسے استاد موجود ہیں جنھوں نے سکول انتظامیہ کے سامنے اجتجاج کیا جس نے اپنی جاب کی پروا نہیں کی اور قوم کو بتایا کہ جاگ جاؤ تمھارے ساتھ ہاتھ ہو گیا
پاکستانی اس پہ سراپا احتجاج ہیں لیکن حکومت خاموش ہے
حکومت کیوں خاموش ہے کیونکہ ہمارے حکمران بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے خود یہی کر رہے ہیں اس کی تفصیل پھر کسی مضمون میں

بیکن ہاوس کے زریعے ہمارے دین ، ملک اور کلچر پر کئ بار حملہ کیا گیا بیکن ہاوس نے مذہب اور اخلاقیات کی حدود سے آزاد کئ چیزیں متعارف کروانے کی کوشش کی جس میں
حیض یعنی پیریڈز یا مینسٹرویشن کا موضوع
اور ہم جنس پرستی کا موضوع شامل ہے
بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کی طالبات نے پیریڈز کےلئے استعمال ہونے والے پیڈز کو دیوار پر سجایا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ علامتی طور پر اپنے لباس بھی داغدار کئے اورہر پیڈ پر مختلف قسم کے پیغامات اور سوالات لکھے گئے جس میں ایک سوال تھا کہ ۔”اگر مرد کھلے عام کنڈوم خرید سکتا ہےہے تو میں پیڈ کیوں نہیں خرید سکتی؟

اب یہ سوال ایک سٹوڈنٹ لائف گزارنے والی بچی کے منہ سے سن کر ایک عام عورت تو کیا مرد بھی شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے کیونکہ شرم مشرق کا حسن ہے اور عورت کا زیور اور ہمارے مذہبی حدود قیود کا مظہر ایسے میں بیکن ہاوس کی طرف سے لڑکے اور لڑکیوں میں سیکس کے مسائل اور سیکس آرگنز کو موضوع بحث بنا دینا کونسی تعلیم ہے لیکن قصوری فیملی کے لیے یہ اس لیے معیوب نہیں کیونکہ وہ پاکستان میں امریکی گیزاینڈلیبیئنس ان فارن افیئرز ایجنسیز (جی ایل آئی ایف اے اے) کے سرکردہ رکن ہیں

کیمرون منٹر قصوری فیملی کے فیملی فرینڈ ہیں اور اقراری ہم جنس پرست بھی ان کے پاکستان میں سفیر مقرر ہونے کے بعد
امریکی سفارت خانے نے پاکستان میں پہلی بار وفاقی دارالحکومت میں ہم جنس پرستوں کے جشن کی تقریب منعقد کی جس میں شرکاء کو پاکستان میں بھی امریکہ کی جانب سے اس مقصد کیلئے حمایت جاری رکھنے کا یقین دلایا گیا۔ امریکی سفارت خانے کی جانب سے 26 جون 2011کو جاری پریس ریلیز میری ان تمام باتوں کا ثبوت ہے جس میں کہا گیا کہ ( ناظم الامور رچرڈ ہوگلینڈ اور گیزاینڈلیبیئنس ان فارن افیئرز ایجنسیز (جی ایل آئی ایف اے اے) کے ارکان نے امریکی سفارت خانے میں پہلے ہم جنس پرستوں کے جشن کی تقریب گذشتہ 26 جون کو منعقد کی ہے کہ پاکستان میں ایک ایسے وقت جب انتہا پسند عناصر پورے معاشرے کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں، ایسے میں اس اجتماع میں انسانی حقوق اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کیلئے امریکی سفارت خانے کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے )
اس تقریب میں مشن آفیسرز، امریکی فوجی نمائندوں، غیرملکی سفارتکار اور پاکستان میں گے، لیسبین، ہائی سیکسوڈل اینڈ ٹرانس جینڈر (جی ایل بی ٹی) ایڈووکیسی گروپ کے نمائندوں سمیت 75 افراد نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر اپنے رسمی ریمارکس میں ناظم الامور نے امریکی صدر باراک اوباما کے 31 مئی 2011 کے قابل فخر اعلان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنسی و صنفی شناخت سے ماوراء تمام کیلئے مساوی حقوق کی جدوجہد خود کو ازسرنو وقف کرتے ہیں۔ پاکستانی ہم جنس پرستوں کو مخاطب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور نے کہا گو کہ ان کی جدوجہد ابتدائی مراحل میں ہے لیکن انہوں نے واضح کیا کہ امریکی سفارت خانہ ان کا حامی ہے اس تقریب
میں عظیم تر انسانی حقوق کو بنیاد بنا کر ہم جنس پرستی کو قبول کرنے کیلئے مہذب امریکی معاشرے کے ساتھ ان مسلم ممالک کی مثالیں دی گئیں، جہاں ہم جنس پرستی کو قانونی طور پر جائز قرار دیا جا چکا ہے۔
امریکی سفیر کیمرون منٹر اور خورشید قصوری خاندان کی دوستی کافی گہری رہی ہے سو امریکی سفارت خانے کے زیرسایہ اس کانفرنس میں خورشید محمود قصوری کی بہن فوزیہ قصوری شریک ہوئی بلکہ اس فتنہ پرور اجتماع کی روح رواں رہیں۔ اگر کسی کو فوزیہ قصوری کی ہم جنس پرست خواتین کے ساتھ پریس کانفرنس یاد نہیں تو میں ان کی یادداشت واپس لانے کے لیے کالم کے ساتھ پک بھی دے رہی ہوں امریکہ کی طرف سے اسلام آباد میں اس ہم جنس پرست کانفرنس کے انعقاد کی مخالفت میں کافی شور اٹھا تو فوزیہ قصوری نے عزت بچانے کیلئے خاموشی اختیار کر لی۔
لیکن درپردہ انھوں نے اس تحریک میں کمی نا آنے دی
اور نا ہم جنس پرستوں کیلئے ان کی ہمدردی اور پذیرائی کی بات کہیں رکی بلکہ اس شیطانی اجتماع سے اگلے برس 16 جولائی 2012 میں اسی فوزیہ قصوری نے اپنے آقا حکام اور امريکي سفارتخانے کے شیطانی نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے تعلیمی ادارے بیکن ہائوس سکول کی اسلام آباد مین برانچ نے ہم جنس پرستوں کا اجتماع کروا کر اپنی جرات مند بے شرمی پر پوری قوم کو حیران کر دیا جس میں امریکی سفیر بھی شریک ہوئے
فوزیہ قصوری کی طرف سے منعقد کئے گیے اس قابل اعتراض شیطانی مباحثے کیخلاف آواز اٹھانے کیلئے دی ایجوکیٹر اور بیکن ہاؤس سکول کے مضطرب والدین نے جب قومی اسمبلی کے اراکین سے رجوع کیا تھا تو کئی میڈیا اینکرز بھی گواہی دینے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے رووبرو پیش ہونے پہنچ گیے تھے۔ یہ کوئی من گھڑت الف لیلوی داستان نہیں بلکہ اس سلسلے میں ساری تحقیقات کا ریکارڈ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اور پریس اینڈ میڈیا کے ناقابل تبدیل و تردید ریکارڈ پر موجود ہے۔
بیکن ہاؤس کے طلبا و طالبات کے والدین اور ذمہ دار صحافیوں نے تمام واقعات اور معاملات کو ممبران قومی اسمبلی اور حکومتی نمائیندوں کے سامنے رکھتے ہوئے اپنے شدید تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔ ہم جنس پرستی مباحثوں کے اس انعقاد پر قصوری برانڈ بیکن ہاؤس سکول کے منتظمین کیخلاف زبردست مظاہرے ہوئے تھے۔
جن کے بعد منتظمین کیخلاف فوجداری کارروائی کیلیے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی کی سفارشات پر عمل درآمد کیلئے، وزارت تعلیم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رپورٹس بھجوا کر قانونی نوٹس بھی تیار کر لیے گئے تھے۔ مگرعین وقت پر مسز فوزیہ قصوری کے امریکی سرپرست انہیں بچانے کیلئے پوری طاقت سے میدان میں کود پڑے،
وزارت دباؤ میں آ گئی اور پھر قائمہ کمیٹی نے تین اگست 2012 کو اپنے غیر معمولی اجلاس میں حکومت کو ان سکولوں کی انتظامیہ کے خلاف فوجداری مقدمات کے اندراج اور رجسٹریشن کینسل کرنے پر نظر ثانی کی سفارش کر دی۔
اور یوں ہم جنس پرستی اور فحاشی کے علمبردار امرکی آقاؤں نے اپنی بغل بچی اور ان کے بیکن ہاؤس سکول کو پابندی سے بچا کر ہر اسلام دشمن، ننگِ انسانیت سے کلی مخلص ہونے کا ثبوت دیا۔ پاکستان میں فحاشی کی پیام بر میڈم فوزیہ قصوری ہمیشہ سے امریکن لابی کے لیے کام کرتی رہی ہیں
قصوری خاندان نے صرف کتب میں کشمیر گلگت بلتستان کے علاقے غائب نہیں کیے بلکہ اس نند بھاوج کے بہت سے کارنامے ہیں ، ہم جنس پرستی سیمینار کروانے سے قبل بھی بیگم فوزیہ قصوری مختلف نوعیت کے تنازعات میں کافی نام کما چکی تھیں ۔ اس کی ہونہار بیٹی بسمہ قصوری رمضان کے مقدس مہینے میں اسلام آباد کے سکولوں میں ولائتی میوزک شوز، فحاشی کو فروغ دینے والی مخلوط ڈانس پارٹیوں کے انعقاد کروا چکی ہیں یوٹیوب بیکن ہاوس کی ایسی لاتعداد ڈانس وڈیوز سے بھری پڑی ہے بسمہ قصوری نیم عریاں لباسوں میں ساحل سمند پر ہم جنس پرستوں کے ساتھ ہلہ گلہ کرنے جیسے انگنت انقلابی اقدامات سے کافی شہرت حاصل کر چکی ہیں
اسلام اباد بیکن ہاوس کے بچے بچیاں عمر 18 سے 19 سال اور ہم. جنس پرست پارٹیز کے باقاعدہ ممبر ہیں اس کام کے لیے باقاعدہ فارم ہاوسز ہیں
فوزیہ قصوری کے بھائی بھی اپنی حرکات و سکنات سے فوزیہ قصوری سے پیچھے نہیں بلکہ
کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں دو شخصیات ایسی ہیں جو اسرائیلی وزیر اعظم اور وزرا کے ساتھ انتہائی قریبی روابط کی وجہ سے براہ راست بات کرتی رہی ہیں۔ انھی دو ہستیوں نے اسرائیلی دہشت گردانہ حملے کا شکار ہونے والے بحری جہاز فریڈم فلوٹیلا میں سوار پاکستانی صحافی طلعت حسین کو اسرائیلی قید سے چھڑوانے میں اہم کردار ادا کیا ۔
وہ دو محترم حوارین یہود کوئی اور نہیں ایک تو پیشہ ور لوٹا خورشید محمود قصوری اور دوسرے ہلری کلنٹن کے ساتھ شراب و شباب کی محفلوں میں جام سے جام اور سر سے سر ٹکرانے والا ابن الوقت لوٹا جن کا میں یہاں نام نہیں لینا چاہتی ۔
یہ وہی خورشید محمود قصوری ہے جس نے ترکی میں اسرائیلی وزیر خارجہ سے مبینہ ملاقاتیں کیں ہیں تو اس کا متنازعہ و مشکوک کردار مزید کھل کر سامنے آیا تھا۔
یہی خورشید قصوری ”بھارت نواز“ کے طور پر بہت مشہور بھی رہا ۔ کانگریس کے رہنما مانی شنکر آئر سے ان کی دوستی کے بہت چرچے رہے ۔ پاک بھارت خراب تعلقات کے باوجود آئر کی ایک بیٹی کی شادی میں قصوری صاحب بہت اہتمام سے شریک ہوئے تھے۔آئر جب بھی پاکستان آئے تو قصوری صاحب ان کے میزبان رہے اس کے اعزاز میں بھرپور کھانوں کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔ جبکہ قصوری صاحب دہلی جائیں تو آئر نے ان کی ضیافت کا بندوبست کرتا ہے اور میزبانی کرتا پایا جاتا ہے
حاصل کلام یہی ہے کہ پاکستان میں بیکن ہاوس اور اس پراجیکٹ بین ہونے چاہیے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اپنا ملک اپنی شناخت اپنا کلچر بچا سکیں

تحریر و تحقیق
حجاب رندھاوا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here