بیکن ہاؤس: ایک بار پھر بیہودگی کا بازار گرم

0
9


ہم نے ابھی حال ہی میں پاکستان کا جشن آزادی منایا. بیکن ہاؤس اسکول کے ذیلی ادارے نے بھی جشن آزادی منایا مگر کافی مختلف طریقے سے.

اس موقع پر بجاے قائد اعظم اور علامہ اقبال کے بارے میں بتانے کے حسب معمول اور حسب توقع اس اسکول نے بچوں کو بے سروپا ناچ گانے میں لگا دیا. بچوں کو اس کے ذریے غالباً یہ بتایا گیا کہ آج ناچنے گانے کا دن ہے.

کس طرح ہماری نئی نسل کو ہمارے قومی تشخص سے دور کیا جا رہے ہے اور اگست 14 کو بھی صرف ناچ اور گانے تک محدود کر دیا گیا ہے. نہ ہماری تاریخ بتائی گی، نہ ہمارے قائد اور ان کے ارشادات کے بارے میں کچھ بتایا جاتا ہے.

یہ بیکن ہاؤس نہ ہو گیا کوٹھا ہو گیا جہاں چھوٹی چھوٹی بچیوں کو ناچنے اور گانے کی تربیت دی جا رہی ہے جیسے زندگی میں ان کے یہ ہی کام آے گا.

یہ اسکول ہے جس کی انتظامیہ کو یہ بھی نہیں معلوم کے قوم کے مستقبل کے معماروں کی تربیت کس طرح کرنی ہے. یا پھر غالباً یہ بھی ہمارے بچوں کو اپنی اقدار سے دور کرنے کی ہی ایک سازش تھی؟

یہ جو بھی تھا بہرحال اس کو بند ہونا چاہیے اور فوری بند ہونا چاہیے. مگر کرے گا کون؟ وزیر تعلیم شفقت محمود تو اپنی بیوی سے خوف زدہ ہے جو بیکن ہاؤس کی پرنسپل ہے.

ہم وزیر اعظم عمران خان سے توقع رکھ سکتے ہیں مگر یہ سارے کام کرنے کے لئے ان کو وزارت تعلیم اپنے ہاتھ میں لینا پڑے گی تب شاید کچھ ہو سکے

(عبدل متین)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here