بہادری، جرات، ایثار اور قربانی کی ایسی مثال پیش کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ اللہ پاک اس جنتی پھول کہ لواحقین کو صبر عطا فرماۓ

0
567

یہ 12 سالہ صائم شفقاعت ہے۔

دریائے نیلم کنارے ، جنت نظیر نیلم ویلی کے علاقے کنڈل شاھی کے قریب ایک گاوں میں جنم لینے والا معصوم ۔ جس نے غربت کی آغوش میں آنکھ کھولی۔ صائم کا والد شفقاعت سردیوں میں محنت مزدوری کرتا، اور گرمیوں جاگراں نالے کے پاس ایک سیاحتی مقام پر پکوڑے بیچا کرتا۔

گرمیوں کے آغاز کے ساتھ جب نیلم ویلی میں سیاحوں کی آمد شروع ہوتی صائم کے والد کے پکوڑوں کی فروخت میں اضافہ ہو جاتا۔ جس سے اضافی آمدن تو بھی ملتی لیکن کام کا بوجھ بھی زیادہ ہوجاتا۔ انہی ایام میں والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے ننھا صائم بھی متحرک رہتا۔ دور دور پتھروں اور نالے کے کنارے پیٹھے ہوئے سیاحوں کو دوڑ دوڑ کر گرما گرم پکوڑے پہچانے میں اسے خاص لطف آتا۔

وہ 13 مئی کا روشن دن تھا، دھوپ چمک رہی تھی۔ اس روز جاگراں نالے کے پاس سیاحوں کی بھیڑ تھی۔ صائم کے والد کے پکوڑے خوب بک رہے تھے، اکثر سیاح جاگراں نالے کو پیدل عبول کرنے والے پل پر کھڑے ہو کر تصاویر بنوانے کے شائق تھے۔ 40 سے زیادہ لوگ جب یک بار پُل پر جمع ہوئے تو وہ اُن کا بوجھ برداشت نہ کر سکا۔ یوں آن واحد میں پُل نالے میں جا گرا۔ اور سیاح جن میں اکثریت نواجوانوں کی تھی، نالے کے یخ بستہ پانی اور تیز بھاو کی نذر ہو گئے۔ وہ چیخ رہے تھے، مدد کے لیے پکار رہے تھے۔

ننھا صائم اُس وقے دریا کے کنارے بیٹھے ایک گروپ کو پکوڑوں کی پلیٹیں دے کر پلٹا ہی تھا۔ کہ اُس نے پُل گرنے اور سیاحوں کی مدد کے لیے فریادیں سُنی۔ اگرچہ وہ ایک کمزور 12 سالہ بچہ تھا، لیکن پہاڑی اور نالے کے قریب کا باسی ہونے کی وجہ سے زبردست تیراک تھا۔ اُس نے موجوں میں بہتے سیاحوں کو بچانے کے لیے تیز رفتار نالے میں چھلانگ لگا دی۔ ایک سیاح کو وہ فورا ہی پانی سے باہر کھینچ لایا۔ دوسرے سیاح کو نکالتے ہوئے وہ خاصا تھک چکا تھا۔ لیکن کنارے پر پہنچنے کے بعد اُس نے دیکھا کہ ابھی کئی لوگ پانی کے اندر ڈوپ رہے ہیں۔ اُس نے ایک بار پھر چھلانگ لگادی۔

لیکن پھر وہ خود باہر نہ نکل سکا۔ ناتواں بدن کا تھکا ہارا ننھا فرشتہ اُنہیں بچاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا جنہیں وہ جانتا تک نہ تھا۔

بہادری، جرات، ایثار اور قربانی کی ایسی مثال پیش کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ اللہ پاک اس جنتی پھول کہ لواحقین کو صبر عطا فرماۓ آمین
منقول

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here