بھلا یہ معجزہ وہ کیسے دکھائے گا جبکہ ان چار سالوں میں بجلی کا کوئی ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا؟

0
662

اگر آپ کا ناخلف بیٹا بل کے پیسے عیاشی میں اڑا دے اور بجلی کٹ جانے پر دکان سے ادھار تیل لے کے آئے کہ جنریٹر چلا کر گزارا کرو تو آپ کو کیسا لگے گا؟؟؟

کہتے ہیں نواز شریف عین الیکشن سے پہلے لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر دے گا۔

بھلا یہ معجزہ وہ کیسے دکھائے گا جبکہ ان چار سالوں میں بجلی کا کوئی ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا؟

پاکستان میں تیل سے 22700 میگاواٹ بجلی بنانے کی صلاحیت ہے اور پاکستان کی کل ضرور تقریباً 17000 میگاواٹ ہے۔ یعنی اگر تیل فراہم کیا جائے تو پورے ملک کی لوڈ شیڈنگ فوراً ختم ہوسکتی ہے۔

اہم کرکٹ میچز کے دوران یہی چمتکار دکھایا جاتا ہے جب پاکستان بھر میں ایک دن کے لیے اچانک لوڈ شیڈنگ ختم کر دی جاتی ہے۔

لیکن تیل سے مستقل بجلی بنانا انتہائی مہنگا ہے۔ امریکہ، چائنا اور انڈیا جیسے ممالک بھی اسکی استطاعت نہیں رکھتے۔ زیادہ تر دوسرے ذرائع سے اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں۔

فرق ملاحظہ کیجیے ۔۔۔۔

پن بجلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1 روپے 50 پیسے فی یونٹ
کوئلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 4 روپے 29 پیسے فی یونٹ
گیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 4 روپے 63 پیسے فی یونٹ
ایل این جی ۔۔۔۔ 7 روپے 87 پیسے فی یونٹ

جبکہ تیل سے 14 روپے فی یونٹ تیار کی جارہی ہے۔ خیر پاکستان میں تیل سے بجلی بنانے کی لاگت بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

یہ مہنگی بجلی نہ صرف صارفین پر بم بن کر گرتی ہے بلکہ اس بجلی سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی پیدواری لاگت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ عالمی منڈی میں دوسرے ممالک کی اشیاء کا مقابلہ نہیں کر پاتیں۔ نتیجے میں ملکی انڈسٹریاں بند ہونے لگتی ہیں۔ جس کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔

برآمدات میں کمی
خسارے میں اضافہ
بے روزگاری میں اضافہ
مہنگائی میں اضافہ۔

آج ان سب کا مشاہدہ آپ بخوبی کر رہے ہیں۔

پاکستانی اب بھی اپنی ضرورت کا 75 فیصد تیل خریدتا ہے وہ بھی قرض پر۔

اس وقت ان آئی پی پیز ( تیل سے بجلی بنانے والی کمپنیوں ) کا پاکستان پر 800 ارب روپے قرضہ ہو چکا ہے۔ یہ 800 ارب روپے صرف ان چار سالوں کا تحفہ ہے۔
اس سے پہلے ان کمپنیوں کا پاکستان پر 20 سال 480 ارب روپے قرضہ چڑھا تھا جو نواز شریف نے 2013ء میں اقتدار میں آتے ہی نہایت خطرناک انداز میں ادا کر دیا تھا جبکہ خزانہ تقریباً خالی تھا۔ شائد اس وقت قومی خزانے میں کل 500 روپے تھے۔

اس نے ایسا کیوں کیا ؟؟؟؟

کیونکہ تیل سے بجلی بنانے والی کمپناں میاں منشاء کی ہیں جسکو نواز شریف کا فرنٹ مین کہا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان آئی پی پیز کا اصل مالک نواز شریف خود ہے۔

اس کو ذہن میں رکھیں تو آپ کو باآسانی سارے سوالوں کے جواب مل جائنگے کہ فرنس آئل میں جھونکےجانے والے ان 1200 ارب روپوں میں ڈیم کیوں نہیں بنائے گئے؟ نیلم جہلم کیوں لٹکا ہوا ہے؟ نندی پور اور قائداعظم سولر پارک کیوں ناکام ہوگئے؟ تھر کول سے بجلی کیوں نہیں بنائی جا رہی؟ اور پاکستان میں فرنس آئل کی بجلی دنیا میں سب سے مہنگی کیوں ہے؟ ۔۔۔ 🙂

اگر کسی دوسرے ذریعے سے بجلی بنائی گئی تو نواز شریف کا دھندہ بند ہوجائیگا!

پاکستان اس وقت جنریٹر پر چل رہا ہے جسکا تیل ادھار آرہا ہے۔ جیسے ہی تیل آنا بند ہوگا پاکستان یکلخت اندھیروں میں ڈوب جائیگا!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here