بھارت محتاط رہے جنرل قمر جاوید باجوہ بہت قابل آفیسر ہیں ۔ بکرم سنگھ

0
292
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجو نے جب آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تو سابقہ بھارتی آرمی چیف بکرم سنگھ نے واقعی سچ کہا تھا ” کہ بھارت کو پاکستان کے نئے آرمی چیف سے محتاط رہنا ہوگا کیونکہ وہ انتہائی پروفیشنل آفیسر ہیں” اور واقعی میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے پروفیشنل ازم کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کی وہ انوسٹمنٹ تقریبا ضائع کردی ہے جو کہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے، مافیاز کو مضبوط کرنے، اور دوسرے اینٹی پاکستان ہتھکنڈوں پر کی گئی تھی۔

بھارت کے پیدا کردہ دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا آغاز پاکستان کے سابقہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کیا تھا، راحیل شریف انتہائی دلیر آرمی چیف ثابت ہوئے، وہ جارحانہ اقدام اٹھانے کے قائل تھے، نیشنل ایکشن پلان انھی کا تیارکردہ تھا، اگر اس نیشنل ایکشن پلان پر انہی کے دور میں جنگی بنیادوں پر عمل درآمد شروع ہو جاتا تو ہر وہ شخص اپنے انجام کو پہنچ چکا ہوتا جو پاکستان کے خلاف کام کررہا ہے، اور بھارت اور دوسرے دشمنوں کے ایجنڈوں پر کام کر رہا ہے۔

پچھلی حکومت کی سست روی کی وجہ سے نیشنل ایکشن پلان ادھورا رہا اور جنرل راحیل شریف کو اپنے وقت پر ریٹائر ہونا پڑا، اس وقت پوری قوم کی یہ خواہش تھی کہ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں اضافہ کر دینا چاہیئے۔ قوم کی اس خواہش کے باوجود دو نشان حیدر رکھنے والے خاندان کے اس سپوت نے ایکسٹینشن لینے سے انکار کر دیا۔ اور نئے آنے والے آرمی چیف کو اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع دیا۔

مجھے یاد ہے جب راحیل شریف کہ جانے کا وقت آن پہنچا تو پوری قوم پریشان ہوچکی تھی کہ نہ جانے نیا آرمی چیف کیسا ہوگا اور کیا وہ جنرل راحیل شریف کی طرح ہی ‏کارکردگی دکھا پائے گا یا نہیں۔ کیا دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی اس جنگ کو جیت سکے گا یا پھر جنرل کیانی کی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھ لے گا۔ اور اپنی عوام کو مرنے کے لیے چھوڑ دے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔

خدا نے شاید یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ اب پاکستان کو دشمنوں سے پاک کرنا ہے، نئے آرمی چیف کے عہدہ سنبھالتے ہی بھارت کو جہاں اس بات کا ڈر تھا کہ جنرل راحیل شریف ضرور بھارت سے جنگ لڑیں گے مگر راحیل شریف کی ریٹائر ہونے پر پاکستانی سیاستدانوں اور بھارت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی وہاں بھارت کو یہ تشویش بھی تھی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نا جانے بھارت کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔

لہذا جیسے ہیں جنرل قمر جاوید باجوا نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تو بھارتی میڈیا سابقہ بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کے پاس جا پہنچا اور دریافت کیا کہ افریقہ میں امن مشن کے دوران جنرل باجوہ اور آپ نے اکٹھے کام کر رکھا ہے، لہذا آپ ان کے بارے میں کیا جانتے ہیں، بھارتی میڈیا کے سوال پر جنرل بکرم سنگھ نے کہا کہ بھارت کو اب پہلے سے بھی زیادہ محتاط رہنا ہوگا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایک انتہائی پروفیشنل آفیسر ہیں۔

جنرل بکرم سنگھ کی یہ بات واقعی میں سچ ثابت ہوئی اور آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہر اس شخص کے خلاف عدالتی کاروائی شروع ہوچکی ہے جس نے اس ملک کو نقصان پہنچایا، پاکستان میں ڈیم بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں، ایک وقت تھا جب کوئی ڈیم بنانے پر بات ہی نہیں کرتا تھا، کیوں کہ بھارت نے سیاستدانوں کو بھاری پیسہ دے کر ان کاموں کو شروع کرنے سے روک رکھا تھا جس سے پاکستان کی اگلی نسلوں کو فائدہ پہنچتا۔

لیکن اب پاکستان کے حقیقی مسائل پر نہ صرف بات ہورہی ہے بلکہ ان کا حل بھی نکالا جارہا ہے۔ پاکستان میں جوڈیشری کے نظام کو فعال کرنے کے لئے فوج نے بہت اہم کردار ادا کیا۔

قمر جاوید باجوا نہ صرف دشمنوں کے لیے کہر ثابت ہوسکتے ہیں بلکہ وہ ایک جمہوری سوچ رکھنے والے فوجی سربراہ ہیں، ان کی سوچ اور کام کرنے کے طریقہ کار کو پاکستان کا ہر باشعور انسان سراہتا ہے۔ انہوں نے نئے منتخب وزیراعظم کو جی ایچ کیو میں جو عزت بخشی قوم ہمیشہ اس عظیم آرمی چیف کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھے گی۔


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here