بھارت افغانستان میں کیوں

0
416

بھارت افغانستان میں کیوں! 
دسمبر 1979میں روس نے افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دیں اور افغان مہاجرین جو وہاں سرداردائود کے قتل کے بعد، ترکئی اور حفیظ اللہ امین کی غیر مستحکم اور غیر منتخب حکومتوں کے دوران بھی پاکستان آ رہے تھے لاکھوں کی تعداد میں پاکستان پہنچے اور ساتھ ہی کلاشنکوف کلچر اور بم دھماکے بھی پاکستانی عوام کا مقدر ہوئے۔معیشت نے جو بوجھ اٹھایا ،پاکستان جیسے غریب ملک کے لیے اسے برداشت کرنا نا ممکن تھا لیکن پاکستانی عوام نے اپنے ان مجبور مسلمان بھائیوں کی مدد کو دینی فریضہ سمجھ کر ادا کیا۔ 1989میں روس افغانستان چھوڑ گیااور خود بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گیالیکن2001میں امریکہ وہی شوق ملک گیری لے کر افغانستان آیا جس کا مظاہرہ روس کر چکا تھا۔ اس کا بہانہ اُسامہ تھا لیکن مقصد کچھ اور،اور اس بار پھر پاکستان کو پہلے سے بھی برے حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
یہ مختصر سا تذکرہ اور جائزہ تھا ان اثرات اور مشکلات جن کا سامنا پاکستان صرف افغانیوں کی مدد کی پاداش میں کرتا رہا ہے لیکن اب جبکہ امریکہ نے سمجھ لیا ہے کہ پاکستانی مزید اس کا دبائو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تو اُس نے پاکستان کے بجائے بھارت کو افغانستان میں حد سے زیادہ اہمیت دینا شروع کر دی جو کہ انتہائی غیر قدرتی ہے اس اہمیت کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ پاکستان کو یہ بتائے کہ وہ اس کے بغیر بھی افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے اور دوسری طرف بھارت افغانستان کی طرف سے بھی پاکستان کو نقصان پہچانے کی پوزیشن میں آ جائے کیونکہ پاک افغان سرحدی علاقوں اور قبائلی علاقہ جات میں جو دہشت گرد تنظیمیں پل رہی ہیں اور پاکستان کے ہر شہر اور ہر علاقے کو تہہ وبالا کر رہی ہیں وہ غیر ملکی امداد کے بغیر خود کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ ظاہر ہے بھارت کے درجن بھر قونصل خانے کسی خاص مقصد ہی کے لیے تو بنائے گئے ہیں ۔ یہ سب کچھ وہ یقینا افغانستان کی ہمدردی میں نہیں کر رہا بلکہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہی سرگرمِ عمل ہے اور مفادات کے حصول کے بعد وہ اپنی پالیسی تبدیل کرنے میں دیر نہیں لگائے گا ۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
ہیلری کلنٹن کے مطابق بھارت اور امریکہ کے مفادات ایک ہیں لیکن ہیلری کلنٹن یاد رکھے جس وقت ان مفادات میں ٹکرائو پیدا ہوگا توبھارت اپنا اتحادی تبدیل کر دے گا ۔ ہاں وہ اپنے واحد مستقل مقصد کے حصول سے کسی طرح دستبردار ہونے کو تیار نہیں اور وہ ہے پاکستان کو نقصان پہچانا ۔اسی افغانستان کے راستے وہ بڑی آسانی سے بلوچستان میں دراندازی کر رہا ہے اور وہاں موجود پاکستان مخالف قوتوں کو اسلحہ اورمالی امداد فراہم کر رہا ہے جس کے مستند شواہد موجود ہیں پاکستان کو اس بات پر اعترض نہیں کہ وہ افغانستان میں کیوں ترقیاتی کام کر رہا ہے لیکن اس بات پر تشویش ضرور ہے کہ آخر امریکہ نواز افغان حکومت بھارت کو اتنی اہمیت کیوں دے رہا ہے اور پھر بھارت اسی افغانستان کے غم میں کیوں مبتلائ ہو گیا ہے جس پر روسی قبضے کی وہ حمایت کرتا رہا ہے ۔وہ یقینا صورت حال کا فائدہ اٹھا رہا ہے اور بھارت نواز کرزئی دور حکومت میں افغانستان میں اپنے پنجے گاڑہ رہا ہے کہ پاکستان کے خلاف اس کو اس کی مغربی سرحد پر ایک مضبوط بیس اسٹیشن میسر آجائے ۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
بھارت جس نیت سے افغانستان آیا ہے اُس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں جس سے بچنے کے لیے یہاں اس کے غیر فطری کردار کو محدود کرنا ہے 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here