بھارتی فوج پلوامہ حملے کے بعد اپنے زخم چاٹ رہی ہے،کشمیری ماؤں کو ڈرایا جانے لگا،بھارت میں زیر تعلیم کشمیریوں کو زبردستی نکال دیا گیا

۔ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو واصل جہنم ہونے کے واقعے پر بھارت سٹھیا گیا، بھارتی فوج اپنے زخم چاٹ رہی ہے، فوج کی گیڈر بھبکیوں کے ذریعے کشمیری ماؤں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے

“بھارتی لیفٹیننٹ جنرل ڈھلوں نے کانفرنس کرتے ہوئے کشمیری ماؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ’ بھارت کے خلاف مسلح ہو جانے والے‘ بیٹوں سے کہیں کہ وہ ہتھیار ڈال دیں ورنہ انھیں مار دیا جائے گا”

ڈرے اور سہمے بھارتی جنرل کا کہنا تھا کہ ’میں کشمیری ماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو سرینڈر کروائیں ورنہ انھیں مار دیا جائے گا۔ بچوں کے پرورش میں ماں کا ایک اہم کردار ہتا ہے۔ آپ اپنے بیٹوں کو بتا دیں کہ وہ واپس آ جائیں ورنہ مارے جائیں گے۔

پلوامہ حملے کے بارے میں جنرل ڈھلوں کا کہنا تھا کہ ’14 فروری جیسا حملہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس کی تحقیقات جاری ہیں اور ایسی بہت سی معلومات ہیں جو شیئر نہیں کی جا سکتیں۔‘

ادھر پلوامہ حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کی جانب سے پرتشدد واقعات کے بعد نافذ کیا جانے والا کرفیو پانچویں دن بھی جاری ہے۔ پلوامہ حملے کے اگلے دن جموں میں مسلم آبادی والے علاقوں میں مشتعل ہندوؤں نے حملے کر کے املاک اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔اور کرفیو کے باوجود مسلمانوں کی املاک کو ہندوؤں کی جانب سے شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے،اور رپورٹس کے مطابق کرفیو کااطلاق صرف کشمیری مسلمانوں پر کیا جا رہا ہے

مقبوضہ جموں کے علاوہ انڈیا کے دیگر علاقوں میں بھی پاکستان مخالف مظاہرے ہوئے تھے جبکہ متعدد شہروں میں کالجوں اور دیگر تعلیمی و تربیتی اداروں میں کشمیری طلبا کو بھی ہراساں کیا گیا ہے۔
بھارتی مددگار فورس کے مطابق بھارت میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے جانے والے سینکڑوں کشمیریوں کو بھارتی تعلیمی اداروں سے نکال کر واپس مقبوضہ کشمیر بھجوایا گیا ہے کیونکہ ہندو بلوائیوں سے ان کشمیریوں کی جان کو شدید خطرات ہیں اور اب یہ طالب علم تعلیم بھی حاصل نہیں کر سکیں گے
جبکہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی دھمکیوں کے جواب میں تقریر سے بھارتی فوج پر سکتہ طاری ہو گیا ہے
#تمیمی آویئر انٹرنیشنل

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here