بمباری کے باعث عمارت کے ملبے سے زندہ بچنے والی اسلام کی باحجاب بیٹی جب باہر آئی تو جو الفاظ اسنے کہے وہ اسلام کی ساری بیٹیوں کے لئے ایک پیغام ہیں

0
59
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حلب!۔ 
بمباری کے باعث عمارت کے ملبے سے زندہ بچنے والی اسلام کی باحجاب بیٹی جب باہر آئی تو جو الفاظ اسنے کہے وہ اسلام کی ساری بیٹیوں کے لئے ایک پیغام ہیں
“مجھے ہاتھ مت لگانا میں بالکل ٹھیک ھوں”✌
۔
اسلام کی بیٹیو!۔ 
تم شاید غلط دور میں غلط لوگوں کے ہاں پیدا ہو گئی ہو ! تمہیں کسی محمد بن قاسم کے زمانے میں ہونا چاہئیے تھا۔ کاش تمہیں کوئی حجاج جیسا با حمیت ظالم ہی ملا ہوتا تم نے کن بے حیا و شرم و غیرت سے محروم بشاروں، ایت اللہ، شریفوں، سعودی شاہوں، کےدور میں جنم لیا ہیں جن کے غیرت کے پیمانے سنگ دلی سے بنے ہیں جو ڈالروں کے عوض عافیائیں بیچ دیتے ہیں
حمیت نام تھا جس کا
گئی تیمور کے گھر سے
تم میرے نبی کے دور میں ہوتیں تو نازک آبگینوں کی مانند رکھی جاتیں تم عمر فاروق کا دور پاتیں تو خلیفہ وقت تمہاری ضرورت کا سامان اپنی پیٹھ پر لاد کر خود پہنچتا
مگر ہاں !۔ 
اللہ نے تمہیں اس آزمائش کے دور میں پیدا کیا ہے توتمہیں یہ حوصلہ بھی عطا کیا ہے
تم پر بم برسے!۔ 
طوفانوں سے بچانے والی چھتیں تم ہی پر الٹا دی گئیں
تمہارے بچے تم سے چھین لئے گئے
تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے شوہر کو کچلا اور باپ کو مسلا گیا مگر تم حیا و حجاب کا پیکر بنی رہیں تمہارا گرد الود عبایا بتا رہا ہے کہ چوٹ تمہیں بھی آئی ہے مگر حیا تمہاری شناخت ہے
میری عزیز بہنو
غم نہ کرنا مگر دھوکا بھی نہ کھانا یہاں تمہارے اردگرد کوئی تمہارا محافظ نہیں !۔
نہ وہ جو بمباری کر رہے ہیں اور نہ وہ جن کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور نہ ہی وہ جنہوں نے امت کو تر نوالہ بنانے کے لئے اسے سعودی اور ایرانی گیمپوں میں بانٹ دیا ہےاور تم جیسی معصوم بیٹیوں کی تصویریں ٹشو پیپرز کی طرح اپنی اپنی پرسیپشن منیجمنٹ کے لئے استعمال کرنے میں لگے ہوئے ہیں
عزیز بہنو!۔ 
تمہارا مسیحا آئے کا، مخلص سچا ُسچا اور اصل مسیحا ! مگر اب شاید زمین والے بانجھ ہو چکے ہیں اب وہ مسیحا آسمان سے اترے گا ان شا اللہ جلد اترے گا ،اسٹیج تیار ہے ،حالات سازگار ہیں، اسمان والے کو تم جیسے زمین والوں پر رحم آتا ہے
ہاں بس ! اپنے عبایا سنبھالے رکھنا !۔ 
ان پر مظلومیت کی گرد پڑے تو پڑے زمانے کی گرد پڑنے نہ دینا
بس اب قریب ہےوہ
بس اب آنے کو ہے !۔ 
اے صبح کے غم خوارو
اس رات سے مت ڈرنا !۔ 

خود کلامی۔۔۔زبیر منصوری


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here