بلیک واٹر کیسے معرض وجود میں آئی اور اس کا بانی کون تھا؟

0
1080

بلیک واٹر کے نام سے ایک سکیورٹی کمپنی جسے عراق میں سکیورٹی کا کنٹریکٹ ملا تھا
وی او اے کے مطابق اس کمپنی کے مالک ایرک پرنس افغانستان میں امریکی جنگ کا ٹھیکہ لینے کے لیے بھی میڈیا مہم میں تیزی لا رہا ہے۔

پرنس نے اپنے اس منصوبے کی وضاحت انگریزی اور دیگر زبانوں کی ویڈیوز پر مشتمل اپنی میڈیا مہم میں کی ہے جس میں امریکی صدر کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ افغان جنگ کسی پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی کے سپرد کرنے سے امریکی فوج پر دباؤ کم ہو جائے گا اور حکومت کو بھی اخراجات میں بڑے پیمانے پر بچت ہو گی۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکہ اس وقت أفغانستان میں ہر سال تقریباً 45 ارب ڈالر صرف کر رہا ہے ۔( voa) کے مطابق ایرک پرنس کا دعویٰ ہے کہ ان کی کمپنی یہ کام 10 ارب ڈالر سے بھی کم میں کر سکتی ہے۔پرنس کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی افغان فوج کی تربیت کی ذمہ داری سنبھال سکتی ہے ۔
بلیک واٹر کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا ۔ جس کے بعد پرنس نے بلیک واٹر کمپنی بیچ کر ایک نئی سکیورٹی کمپنی قائم کر لی۔

پرنس نے افغان جنگ نجی شعبے کو دینے کا اپنا منصوبہ پچھلے سال پہلی بار پیش کیا تھا ۔ رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے پچھلے سال افغان حکمت عملی کے جائزے کے دوران اس تجویز پر غور کیا تھا تاہم یہ منصوبہ واشنگٹن اور کابل کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہا لیکن اب صدر ٹرمپ اس کو خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ اگر ایرک پرنس افغان جنگ کا ٹھیکہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہزاروں امریکی فوجی اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے اور ان کی جگہ نسبتاً کم تعداد میں پرائیویٹ سکیورٹی اہل کار لے لیں گے جنہیں 90 طیاروں پر مشتمل ایک پرائیویٹ ایئر فورس کی مدد حاصل ہو گی۔

پرنس کا کہنا ہے کہ ان کی پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی امریکہ کی افغان حکمت عملی کو آگے بڑھائے گی اور پرنس کے بقول ان کی کمپنی افغانستان میں امریکہ کے ایک وائسرائے کے طور پر کام کرے گی

(جن قارئین کے لیے ایرک پرنس کا نام نیا ہے ان کے لیے میں یہاں ایرک پرنس پہ جنوری میں لکھے گئے اپنے قسط وار ارٹیکلز کو دوبارہ پوسٹ کررہی ہوں)

دنیا کے تمام ممالک آفیشل آرمی کے علاوہ ایک پرائیویٹ آرمی بھی رکھتے ہیں جن کو وہ اپنا نام نہیں دیتے ان کی قتل و غارت گری کو اون نہیں کرتے ایسی ہی ایک دنیا کی پہلے نمبر پر خطرناک ترین تنظیم بلیک واٹر ہے
میں آج سے بلیک واٹر کے متعلق ایک سلسلے وار تحقیقی مواد پوسٹ کرنے جارہی ہوں کہ بلیک واٹر کیسے وجود میں آئی۔

قسط :1
دنیا بھر میں دہشت پھیلا کر دہشت گردی کرنے والی امریکی مسلح تنظیم بلیک واٹر بارے پوری دنیا ششدر و حیران ہے کہ اس کی چھپی اور کھلے عام دہشت گردی پر امریکہ خصوصاً جبکہ دیگر ممالک عموماً آنکھیں بند رکھے ہوئے ہیں. اس تنظیم نے مسلمان ممالک میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے اور شہر کے شہر اجاڑ دیئے. یہ پاکستان میں بھی چوری چھپے امریکی سفارت کاروں کی سیکورٹی کے نام پر 2013 تک دندناتے پھرتے رہے لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے پوش علاقوں میں بڑی بڑی رہائش گاہوں میں رہائش پذیر تھے اور اپنی دہشت سے بھر پور کاروائیاں سرانجام دیتے رہے۔

آئے روز پولیس ناکوں پر اور سیکورٹی فورسز سے بدتمیزی کے واقعات عام سننے میں آتے تھے اور پاکستانی قوانین کی خلاف ورزیاں بلیک واٹر کا پسندیدہ مشغلہ بنا رہا ہماری حکومتیں ان سے نالاں تو تھیں مگر کاروائی سے بھی ہمیشہ گریزاں رہیں. ان کے ایجنٹ سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں پکڑے جاتے تو امریکی سفارتی استثناء کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دندناتے نکل جاتے ان کی بدمعاشی کا یہ عالم تھا کہ کنٹونمنٹ کے ایریا میں بھی بدمعاشی کرتے جیکنگ تو درکنار اپنی گاڑیوں کے شیشے تک نیچے نہ کرتے اسلحہ سے بھری گاڑیوں میں پھرتے اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھتے.

ان کے خلاف چند سال قبل اقدامات کئے گئے تو وزارت داخلہ کے ہوش اڑ گئے جب پتہ چلا کہ وہ پوش شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور اپنا نیٹ ورک چلا رہے ہیں. پی پی پی کے دور میں بلیک واٹر کے 200 افراد کو ویزے دئیے گے اب وثوق سے تو نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کس تعداد میں اور کہاں کہاں پاکستان میں موجود ہیں مگر یہ اٹل ہے کہ وہ امریکیوں کی سیکورٹی کے حوالے سے امریکی سفارت خانوں میں اب بھی تعینات ہیں.

بلیک واٹر کیسے معرض وجود میں آئی اور اس کا بانی کون تھا؟

ریاست مشی گن کے شہر ہالینڈ کی جنوبی ساحلی شاہراہ پر واقع حویلی نمبر1057 فلوجہ سے اتنی ہی دور ہے جتنا اپ تصور کر سکتے ہیں یہ گھر جس میں ایرک پرنس پیدا ہوااور پلا بڑھا امریکہ کے وسطی مغرب میں واقع جھیل مشی گن کی ایک تنگ کھاڑی جھیل مکاوتا کے پرسکون کنارے پر واقع ہے گرمیوں کے دنوں میں درخت شاہراہ کے کنارے جھومتے ہیں اور جھیل کے پار سورج اپ و تاب سے چمک رہا ہوتا ہے کبھی کبھار کسی کار کے گزرنے یا موٹر بوٹ کے اسٹارٹ ہونے کا ہلکا سا شور ہوتا ہے ورنہ عام طور پر یہ علاقہ بالکل خاموش اور پرسکون رہتا ہے۔

خوشحال امریکی معاشرے کی وہ تصاویر جو اپ عموماً پوسٹ کارڈ پر چھپی دیکھتے ہیں دو ادھیڑ عمر عورتیں تیزی سے گاس کاٹنے والی مشین چلاتے ایک شخص کے پاس سے گزرتی ہیں ان کے علاوہ پوری گلی میں اور کوئی نظر نہیں آ رہا تھا ایک خاتون دوسری خاتون کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھتی ہے کیا پرنس خاندان اب بھی اس حویلی کا مالک ہے یہ حویلی بہت مشہور ہےاور اس سے ذیادہ اس کے باسی ہالینڈ مشی گن میں پرنس خاندان شاہی خانوادہ سمجھا جاتا ہے؛اور ایرک کا باپ ایڈگر پرنس تو بادشاہ کے طور پر جانا جاتا تھا۔

جس طرح بلیک واٹر کامویوک نارتھ کیرولینا میں واقع سات ہزار ایکڑ دلدلی علاقے میں محیط کمپاؤنڈ جہاں ہمہ وقت مشین گن کی آوازیں گونجتی ہیں، ایرک پرنس کی زاتی جائیداد ہے اس طرح ہالینڈ کا یہ ولندیزی (Dutch ) گاوں اس کے باپ کی جاگیر تھا ایڈگر پرنس ایک خود ساختہ صنعت کار تھا اور شہر کی ایک چوتھائی آبادی اس کی ملازم تھی اس نے اس شہر کے ادارے بنائے اس اس کے تجارتی علاقے کی منصوبہ بندی کی اور رقوم فراہم کی اور شہر کے دونوں کالجوں کا وہ سب سے بڑا مربی تھا۔

1995 میں اس کی اچانک موت کے دس سال بعد اس کا ورثہ اس کی یاد دلاتا رہتا ہے شہر کے تجارتی علاقے کی دو معروف ترین سڑکوں کے سنگم پر ایڈگر پرنس کی یادگار موجود ہے کانسی کی سات سیڑھیاں ایک چبوترے تک جاتی ہیں جس پر تین موسیقاروں کے قد آور مجسمے نصب ہیں ایڈگر پرنس عیسائی مزہب کا پیروکار، سیاست اور تجارت کی اونچی نیچ کے رازوں سے واقف تھا اور اپنی اولاد کو بھی اس کا سبق دیا. اگرچہ آج کل ہالینڈ پرنس خاندان کی یادگاروں سے بھرا پڑا ہے. ایڈگر اس شہر کا پہلا بادشاہ نہیں تھا اپنی آبادکاری کی شروعات سے ہی ہالینڈ عیسائی سرداروں کے زیر تسلط رہا ہے. 1846میں البرٹس دان راتلے ستاون دیگر ولندیزی پناہ گزینوں کے ہمراہ سمندری راستے سےمشی گن کے مغربی ساحل پر پہنچا تھا.

اور ملک چھوڑنے پر مجبور ہوا تھا.وان راتلے ڈچ ریفارم چرچ کے ایک فرقے کا رکن تھا جسے وہاں کا شاہی خاندان اچھا نہیں سمجھتا تھا اپنے جہاز ساؤتھرنر پر امریکا پہنچ کر وہ اپنے ساتھیوں کو جھیل مشی گن کے کنارے لے گیا جہاں اس کا خیال تھا کہ وہ اپنے مزہبی عقائد کے مطابق ذندگی گزار سکتے ہیں کچھ تلاش کے بعد اسے ایک موزوں مقام مل گیا یہ مشی گن کی جھیل سے منسلک ایک چھوٹی جھیل کا کنارہ تھا
9 فروری 1847 کو وان راتلے نے اس بستی کی بنیاد رکھی جہاں ایرک پرنس نے اپنا بچپن گزارنا تھا. تاہم وارن راتلے کا خواب شرمندہ تعبیر نا ہو سکا. ہوپ کالج جس نے قائم کیا تھا اور جسے اس کے خاندان نے کروڑوں ڈالر کے عطیات دئیے تھے۔

وان راتلے ایک عیسائی بستی بسانا چاہتا تھا جہاں عیسائی عقائد کی حکمرانی ہو مگر 1850 میں اسے قدرے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ہالینڈ ٹاون شپ کو مقامی حکومت کا درجہ مل گیا اور اس وجہ سے عسائیت کا مکمل کنٹرول ممکن نا رہا اب وان راتلے نے ہالینڈ میں اپنی خیالی جنت بسانے کے لیے متبادل زرائع کی تلاش شروع کر دی سیاست میں سرگرم ہونے اور وسیع قطعات اراضی کا مالک ہونے کی وجہ سے اسے اثررسوخ حاصل تھا اگرچہ مکمل عیسائی بستی کے لیے درکار بہت سے وسائل اب میسر نہ رہے تھے وان راتلے وہاں کے اکلوتے کلسیا کا اب بھی سربراہ تھا ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ کا رکن تھا سب سے بڑا زمیندار تھا اور کاروباری حیثیت سے وسیع جائیداد بنا چکا تھا یہی بات ایڈگر پرنس اور اب ایرک کے بارے میں بھی کہی جا سکتی تھی جو وان راتلے کی موت کے قریباً سو سال بعد پیدا ہوا تھا۔

قدامت پرست ڈچ ریفارم چرچ جس سے وان راتلے اور اس کا خاندان مذہبی رہنمائی حاصیل کرتے تھے کے عقائد ساتویں صدی عیسوی کے ایک پادری جان کیلون کی تعلیمات پر مبنی تھے اس فرقے کا اہم عقیدہ یہ تھا کہ خدا نے ہدایت یافتہ اور گمراہ لوگوں کا تعین پہلے سے کیا ہوا ہے یہ لوگ خدائی معاملات میں انسانی مداخلت کے قائل نہیں تھے ان کے عقائد میں یہ بھی شامل تھا کہ احکامات خدا وندی پر سختی سے عمل کرو اور محنت کش بنو کیونکہ خدا اپنے بندوں کی راہنمائی تو کرتا ہے مگر اپنے حصے کا کام کرنے کا خود زمے دار ہے یہ فرقہ ان اخلاقی اقدار پر ہمیشہ فخر کرتا تھا ہالینڈ کے اس قصبے کا دعوی ہے کہ اس کے باسیوں نے اپنے ہاتھوں سے جھیل مشی گن تک نہر کھودی جو کاروباری سرگرمیوں میں معاون ثابت ہو ئی اور کھدائی کے بعد نہر پر پل تعمیر کیا گیا

قسط: 2
اس جفاکشی کی مثال ایرک پرنس کا دادا پیٹر پرنس ہے جو ٹیولپ سٹی پرڈیوس کمپنی کا مالک تھا اس کی موت ایک ٹرک پر ہوئی جس پر سوار ہو کر وہ 21 مئی 1943 کی صبح وہاں سے تیس میل دور واقع گرینڈ ریپیڈز میں ایک کاروباری میٹنگ میں شریک ہونے جا رہا تھا. دوران سفر اسے دل کا دورہ پڑا جس سے وہ جانبر نا ہو سکا اس کا بیٹا ایڈگر اس وقت گیارہ برس کا تھا دس سال بعد ایڈگر پرنس مشی گن یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری لے کر فارغ ہوا تو اس کی ملاقات ایلسا وائپ (Elsa Zwiep) نامی ایک لڑکی سے ہوئی جس کے والدین اس شہر میں زوائیپ سیڈ اسٹور چلاتے تھے ایلسا حال ہی میں کیلون کالج سے شعبہ تعلیم اور عمرانیات میں فارغ التحصیل ہویی تھی ان دونوں نے شادی کر لی اور ایڈگر نے خاندانی دستور کے مطابق امریکی ائیرفورس میں شمولیت اختیار کرلی ایڈگر کی تعیناتی کبھی ساؤتھ کیرولینا اور کبھی کولوریڈو میں ہونے کی وجہ سے یہ جوڑا مشرق اور مغرب کے سفر اختیار کرتا۔

پیٹر پرنس پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے درمیانی وقفے میں لازمی فوجی خدمت کی عمر کو پہنچا تاہم یہ واضع نہیں کہ اس نے کسی جنگ میں عملاً شرکت کی تھی یا نہیں. اس کی وفات کے وقت اس کے پانچ میں سے چار بھائی فوج میں خدمات سرانجام دے رہے تھے اگرچہ کالج اور ائیر فورس کے زمانے میں ایڈگر پرنس دور دور تک گھوما پھرا اس کے آبائی قصبے ہالینڈ نے اسے اور اس کی بیوی کو دوبارہ اپنی طرف کھینچ لیا تاکہ وہ اپنے خاندان کی کٹر مزہبی اور ثقافتی روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

ہالینڈ واپسی پر ایڈگر نے کمر کسی اور وہاں ایک ادارے بس مشین ورکس لے ڈائی کاسٹنگ کے شعبے میں کام شروع کر دیا جہاں ترقی پاکر وہ چیف انجینئر بن گیا. مگر اس کے ارادے ذیادہ بلند تھے اس لیے جلد ہی اس نے یہ ادارہ چھوڑ دیا 1965 میں پرنس اور اس کے دو ساتھی کارکنوں نے گاڑیوں کی صنعت کے لیے ڈائی کاسٹنگ مشینیں بنانے والی اپنی کمپنی قائم کر لی۔

1969ء میں اس نے سولہ ہزار ٹن وزنی مشین تیار کی جو ہر دو منٹ میں ایک ایلومینیم ٹرانسمیشن کیس تیار کرتی تھی 1973ء تک پرنس کی کارپوریشن خوب ترقی کر چکی تھی اور اس کے مختلف شعبہ جات میں سینکڑوں افراد کام کر رہے تھے اسی سال اس کمپنی نے ایک ایسی پراڈکٹ ایجاد کی جو بالآخر کمپنی کی پہچان بن گئی اور جس کا استعمال دنیا کی تقریباً ہر کار میں ہونے لگا اس پراڈکٹ نے ایڈگر پرنس کے ارب پتی بننے کا راستہ ہموار کیا یہ پراڈکٹ تھی گاڑیوں میں ڈرائیور کو دھوپ سے بچانے کے لیے لگایا جانے والا(Sun visor)۔

اب جبکہ پرنس خاندان میں دولت کی بہتات ہو چکی تھی سولہ تا اٹھارہ گھنٹے روزانہ کام کرنا ایڈگر پر اپنے اثرات مرتب کر رہا تھا اور 1970ء کے شروع میں اسے بھی اپنے باپ کی طرح دل کے دورے کا سامنا کرنا پڑا یہ وہ وقت تھا جب ہسپتال کے بستر پر لیٹے ہوئے اس نے سوچا کہ اس کی محنت شاقہ نے اس کے لیے کیا نتائج پیدا کیے ہیں اسی وقت اس نے یسوع مسیح سے تجدید عہدوفا کیا اور اسی لمحے اپنا بزنس کا مستقبل خدا کے حوالے کر دیا ایڈگر پرنس اس دورہ قلب سے بچ گیا اور اپنی کمپنی کو حیرت انگیز اونچائی پہ لے گیا, پرنس ایڈگر کی کمپنی اب دوسری مصنوعات بھی تیار کرنے لگ گئی جیسا کہ لیمپ گیراج کے دروازے چھجے وغیرہ 1980ء میں پرنس خاندان کی متعدد فیکٹریاں تھیں جس میں 550 سے زائد افراد کام کرتے تھے.

ایڈ گر پرنس کی کمپنی نے کاروں کے لیے ڈیجیٹل کمپاس اور تھرمامیٹر تیار کیا گیراج کا گیٹ کھولنے کا ایک ایسا آلہ بنایا جس سے مقررہ وقت پر گیٹ خود بخود کھل جاتا ایڈگر پرنس ترقی کی اونچائیوں کو چھوتا ہوا وہاں تک جا پہنچا کہ اس نے ہزاروں گرجا گھر بنائے یسوع مسیح کے پیروکاروں کے لیے MFF قائم کی 1990 میں اس کے پس پردہ تحریک شروع کر دی چرچ سے تعلق رکھنے والوں پر مشتمل ایک ہزار سے زائد کمیٹیاں بنائیں جن کا مقصد عوامی نظروں سے اوجھل رہ کر دائیں بازو کے مقاصد کو فروغ دینا تھا اور اس کے راستے میں آنے والوں کو تباہ کرنا تھا ان کی سرگرمیاں سیاسی نظروں سے پوشیدہ رہتی تھیں MFF نے مشی گن دعائیہ گروپ بھی تشکیل دیا جو دعائیہ جنگجوؤں پر مشتمل تھا اسے ریاست کے تقریباً سارے ہی قانون سازوں کے پیچھے لگا دیا اپنی بٹوے کا منہ دائیں بازو کے عیسائیوں کے لیے کھولنے کے بعد ایڈگر پرنس ہالینڈ کے تمام لوگوں کا مربی بن گیا.

اس کی بیٹی اور ایرک کی ہمشیرہ ڈیووس 1996 سے 2000ء تک اور دوبار 2003 سے 2005 تک ری پبلکن پارٹی کی مشی گن میں سربراہ رہی اور اس نے امریکن سینیٹ کا الیکشن لنے کی بھی کوشش کی وہ جارج ڈبلیو بش کی انتخابی مہم میں چندہ جمع کرنے والوں میں شامل رہی 12 مارچ 1995 ء کو دوپہر ایک بجے ایڈگر پرنس کارپوریشن کے صدر جاہن اسپوئیل سے ملاقات کی انھوں نے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا اور پرنس اپنی کمپنی کے ہیڈکوارٹر کی لفٹ میں داخل ہو گیا لفٹ میں ہی اسے دل کا دورہ پڑا اور 15 منٹ بعد اسے فرش پر گرا ہوا پایا گیا ایک گھنٹے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کر دی گئی.

ہالینڈ کا جھنڈا سرنگوں کر دیا گیا جیسا کہ سربراہان مملکت اور اکابرین کی موت پر ہوتا ہے ایک ہزار سے زائد افراد کرائیسٹ میموریل ریفائیڈ چرچ میں انجیلی فرقے کے لیڈروں جیمز ڈابسن اور گیری بوویر کو سننے کے لیے جمع ہوئے جنہوں نے ایڈگر کو اپنا گرو قرار دیا اور مرد عیسائی کا لقب دیا جس کلیسا میں یہ سب کچھ ہوا اسی کلیسیا کے سربراہ نے پانچ سال بعد ایڈگر کی بیوہ سے شادی رچا لی.

(پچھلی اقساط میں آپ لوگ ایرک پرنس کا تعارف پڑھ چکے ہیں اب آپ پڑھیں گے کہ بلیک واٹر کی شروعات کس طرح ہوئی) 
بلیک واٹر امریکی افواج کی پانچویں شاخ ہے
مگر ابتدا میں صورت حال یہ تھی کہ بلیک واٹر بہت چھوٹے پیمانے پر شروع ہوئی اور اس کی اولین صورت گری بھی پرنس نے خود نہیں کی تھی. وہ تو ایک ATM مشین کی طرح ملنے والی ہدایات پر عمل کر رہا تھا. جبکہ اس نئی کمپنی کے لیے جگہ کا تعین اسکی منصوبہ بندی اور تقریباً ساری ہی تفصیلات بحریہ کے شعبے Seal میں اسکے استاد الکلارک AL Clark نے طے کی تھی.

جو گزشتہ گیارہ برس سے خصوصی مہارت والے اس یونٹ میں آتشیں اسلحے کی تربیت دینے والا بہترین تربیت کار تھا. 1993 میں پرنس نے اپنا ملٹری کیریئر شروع کیا تو کلارک پہلے ہی بلیک واٹر کے خاکے اور نقشے بنا چکا تھا، اسے یہ خیال آتشیں اسلحے کی تربیت دینے کے تجربے سے سوجھا. اس نے دیکھا کہ امریکی فوجی نظام کے اس اہم ترین شعبے میں تربیت کے لیے دستیاب بنیادی ڈھانچہ ناکافی ہے. امریکی بحریہ کے پاس نشانہ بازی کے لیے میدان تک نہیں تھے اسے میرین کوریا یا ارمی کے میدان استعمال کرنا پڑتے درکار سہولیات متفرق طور پر نجی شعبے سے دستیاب تھیں مگر سب کی سب کسی ایک جگہ سے نہیں مل پاتی تھیں.

کلارک نے تمام منصوبہ بنا لیا تھا، صرف ایک چیز کی کمی تھی یعنی اس کے پاس مطلوبہ رقم نہیں تھی. اسے بالکل معلوم نہیں تھا کہ چند سال بعد امریکی فوج میں کام کرنے والے امیرترین افراد میں سے ایک خود اس کا اپنا شاگرد ہو گا 1996 میں کلارک کا تبادلہ seal کی ٹیم نمبر 8 میں ہوا لیفٹیننٹ ایرک پرنس اس پہلی پلاٹون میں شامل تھا جسے کلارک نے وہاں تربیت دی کلارک کہتا ہے کہ مجھے بالکل معلوم نہیں تھا کہ وہ بے حساب دولت کا مالک ہے، پرنس، کلارک کے زیر تربیت رہا مگر ان دونوں کے درمیان کسی کاروباری شراکت کی بابت کبھی بات نہیں ہوئی آخر کار پرنس seal کی ٹیم نمبر 8 کے ساتھ رخصت ہو گیا۔

الکلارک کو سات ماہ بعد علم ہوا کے اس کا شاگرد نا صرف دولت سے مالا مال ہے بلکہ وہ دونوں نجی فوجی تربیت کی تیزی سے فروغ پاتی مانگ کے بارے یکساں سوچ رکھتے ہیں
پرنس کے لیے یہ خوشی اور غمی کا ملا جلا دور تھا والد کے انتقال کے بعد اپنی پہلی بیوی کی بگڑتی ہوئی صحت جس کی وجہ کینسر تھی اور اوپر سے چار بچوں کو سنبھالنے کی زمے داری جیسے مسائل کی وجہ سے اس نے نیوی کو قبل از وقت چھوڑ دیا اور اپنے والد ایڈگر پرنس کا بزنس فروخت کر دیا 1996 کی اس بزنس ڈیل سے 1.35 بلین ڈالر نقد حاصل ہوئے اور اس طرح پرنس کو اپنی سلطنت کی تعمیر کا موقع مل گیا جس سے وہ اپنی مذہبی، سیاسی اور عسکری خوابوں کی تعبیر پا سکتا تھا 2006 میں ملٹری سے تعلق قائم رکھنے کے لیے ایک ایسا تربیتی مرکز قائم کیا جس میں امریکی اور دوست ممالک کی افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور دیگرحکومتی اور کاروباری ادارے عالمی معیار کی عسکری تربیت حاصل کر سکتے تھے۔

اس کے علم میں تھا کہ نیوی میں بہت سے اس کے دوست نجی تربیت گاہ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور جب اس نے بلیک واٹر قائم کی تو ان میں سے چند اس کے ساتھ شامل یو گئے فیملی بزنس کو فروخت کرنے کے بعد وہ اس پوزیشن میں تھا کہ اس نئے کاروبار کے لیے تمام رقم خرچ کر سکے بلیک واٹر کے قیام کا سہرا اپنے سر سجانے کی پرنس کی کوشش پر اس کے ابتدائی ساتھیوں نے سخت تنقید کی. بلیک واٹر کس کس نے مل کر تعمیر کی کبھی متنازعہ نہیں رہا تھا جب تک 2003 میں عراقی جنگ کے بعد بلیک واٹر کو شہرت نہیں ملی تھی.

شہرت ملنے کے بعد پرنس نے تاریخ پر نظرثانی کی ضرورت محسوس کی کمپنی کی ویب سائٹ دعوی کرتی ہے کہ، ہمارا بانی امریکی بحریہ کا سابقہ افیسر ہے. اس نے بلیک واٹر اس مقصد کے لیے قائم کی کہ ہماری افواج اور قانون نافز کرنے والے ادارے سے منسلک بہادر خواتین و حضرات کو مادر وطن کی حفاظت کے لئے جو اضافی تربیت درکار ہے وہ انھیں فراہم کی جا سکے، پرنس دعوے دار ہے کہ بلیک واٹر کا خیال اسے Seal کی ٹیم نمبر 8 میں کام کرنے کے دوران آیا۔

جب اس کی تعیناتی ہیٹی، بوسنیا مشرقی وسطی اور بحراوقیانوس میں تھی پرنس کے عسکری تربیتی مرکز قائم کرنے کے بعد بلیک واٹر کی پیدائش اس وقت ہوئی جب ملٹری کی بڑے پیمانے پر نجکاری کا عمل جاری تھا جسے ڈک چینی نے بحیثیت ڈیفینس سیکرٹری اپنے دور میں1989 تا 1997 میں شروع کیا اس وقت جارج ایچ ڈبلیو بش امریکی صدر تھے. اپنے عہدے کے پہلے ہی سال میں ڈک چینی نے فوج کا خرچ 10 بلین ڈالر کم کر دیا اس نے کئ پیچیدہ اور مہنگے ہتھیاروں کے بنانے کا کام روک دیا تھا اور افواج کی تعداد 2.2 ملین سے کم کر کے 1.6 ملین کر دی تھی اس طرح عوامی دباو پر 1989 سے 1993 تک بجٹ ہر سال سکڑتا گیا۔

اب ضرورت اس امر کی تھی آرمی سویلین ٹھیکیداروں پر انحصار کرے امریکی فوج صرف فرنٹ پر نظر آئے باقی تمام کام سویلن ٹھیکیداروں سے لیے جائیں جب الکلارک ایرک پرنس اور مٹھی بھر دیگر افراد نے 1990 کے وسط میں بلیک واٹر کا کام شروع کیا تب امریکی فوج برسہا برس سے تعداد میں کٹوتی کا شکار تھی اور متعدد ٹریننگ سینٹر بھی بند کیے جا رہے تھے

base realignment and closure act کے تحت جو پراسس ریگن اور بش دور میں بچت کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

بل کلنٹن کے دور میں اس میں تیزی آئی سپیشل فورسز سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کے مطابق بچ جانے والی تربیت گاہیں تعداد میں ناکافی تھیں اس تخفیفی عمل کے باعث بلیک واٹر کو پیدا ہونے اور تیزی سے پروان چڑھنے کے عمل میں تیزی آ گئی بلیک واٹر کے پہلے صدر بل میسی انجیلو “Bill Masiangelo” تھے جو اج کل ایک بڑے ہوٹل “Cendant” میں افواج اور حکومت کو خدمات فراہم کرنے کا نگران ہے 90 کا دور امریکہ می ری پبلکن پارٹی اور دائیں بازو کے مذہب پسندوں کے لیے تاریخ کے تاریک ترین ادوار میں سے تھا 1992 میں بل کلنٹن کے ہاتھوں جارج ایچ ڈبلیو کو شکست سے قدامت پرستوں کا بارہ سالہ سنہرا دور ختم ہو گیا تھا جو ذیادہ تر رونالڈ ریگن کی پالیسیز پر مبنی رہا تھا۔

اگرچہ دائیں بازو کا سیاسی گروہ جس میں بلیک واٹر کے موجد پرنس کے باپ ایڈیگر پرنس کا کلیدی کردار تھا 1994 میں کسی حد تک ری پبلکن انقلاب لانے میں کامیاب ہو گیا،اور رینوٹ گنگرچ اسپیکر آف دی ہاوس بن گیا کلنٹن انتظامیہ تھیوکانز کی نظروں میں تب بھی انتہائی لبرل تھی جس کا ایجینڈا اسقاط حمل کی حمایت اور ہم جنس پرستی کا فروغ تھا پچھلی اقساط میں اپ نے پڑھا ہو گا کہ پرنس ایڈگر کس طرح چرچ اور عیسائیت کے لیے کام کرتا رہا اب اس کا بیٹا بلیک واٹر کے زریعے عیسائت کے لیے کام کرنے جا رہا تھا۔

یہ تھا وہ پس منظر جس میں بلیک واٹر کا قیام عمل میں آیا۔

تحریر و تحقیق: حجاب رندھاوا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here