نیوکلئر دہشت گردی ۔۔۔۔۔۔۔۔ !

ڈیڑھ دو سال پہلے مغربی جرائد میں پاکستان میں کسی ممکنہ بلیک سوان کی خبریں چھپیں۔ شاہد مسعود اپنے کئی پراگرموں میں اس پر بات کر چکا ہے۔

بلیک سوان دہشت گردی کے ایک یا ایک سے زائد ایسے واقعات ہونگے جو پورے پاکستان کو غیر مستحکم کر دینگے۔ نتیجے میں اقوام عالم پاکستان سے متعلق کوئی بڑا فیصلہ کرینگی۔

پاکستان یا پاکستان کے پڑوس میں کسی نیوکلئر دہشت گردی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جس میں دہشت گرد ایک ڈرٹی بم ( خام سے ایٹم بم) کے ذریعے کئی کلو میٹر تک کا علاقہ تباہ کر دینگے۔
پاکستان میں گوادر، اسلام آباد یا کسی بڑے شہر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جسکو پاک فوج کے لیے سنبھالنا مشکل ہوجائے۔

یا پھر ۔۔۔۔۔۔

اڑوس پڑوس میں اس وقت دو ایسے ممالک ہیں جہاں اس قسم کی کوئی وردات کر کے اسکا الزام پاکستان پر لگایا جا سکتا ہے۔ پہلا افغانستان اور دوسرا میانمار یا برما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

پچھلے ایک عشرے سے انڈیا میں یورینئم چوری ہونے کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں انڈیا سے چوری شدہ یورینئم کی اب تک سب سے بڑی مقدار کہاں پکڑی گئی ہے؟؟

میانمار یا برما کے قریب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 🙂

جبکہ دہشت گرد تنظیموں (داعش اور جماعت الحرار وغیرہ) پر انڈین اثرو رسوخ سے پوری دنیا واقف ہے۔

پاکستان کی ” منتخب جمہوری حکومت” نے دو اہم کام کیے ہیں جو اس معاملے مددگار ثابت ہونگے۔

پہلا کام ۔۔۔ نیشنل ایکشن پلان میں پاک فوج کسی بھی قسم کا تعاؤن نہ کر کے اسکو ناکام کردیا۔

نتیجے میں پاک فوج کی بے پناہ قربانیوں کے باؤجود دہشت گردوں کے سلیپرز سیلز پاکستان بھر میں موجود ہیں جن کو کسی بھی وقت متحرک کیا جا سکتا ہے۔

دوسرا کام ۔۔۔۔۔۔۔۔

نواز شریف نے جاتے جاتے خواجہ آصف جیسے غیر سنجیدہ اور پاک فوج سے بغض رکھنے والے شخص کو وزیرخارجہ بنادیا۔

موصوف نے چند دن پہلے بیان جاری فرمایا کہ ” عالمی برادری کی تشویش بجا ہے ہمیں اپنا گھر صاف کرنے کی ضرورت ہے”۔

اس سے پہلے موصوف امریکہ جاکر بیان دے آئے ہیں کہ ” حافظ سعید پاکستان اور پاکستان سے باہر دہشت گردی میں ملوث ہے”۔

مریم نواز ڈان لیکس کی مدد سے پہلے ہی پاک فوج یا دوسرے لفظوں میں پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام لگا چکی ہے۔

اب یہ خبریں بھی پھیلائی جا رہی ہیں کہ میانمار میں جہادی تنظمیں متحرک ہیں جو پاکستان سے گئی ہیں۔

اب اگر برما، افغانستان حتی کہ کشمیر میں بھی ایسا کچھ کیا گیا تو فوری طور پر عالمی برادری اسکا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دے گی۔

یہ خبر بھی دلچسپ ہے کہ نواز شریف نے لندن میں الطاف حسین سے خفیہ ملاقات کی ہے۔ خیال رہے الطاف حسین پاکستان کو دہشت گردانہ کارائیوں کی مدد سے تباہ کرنے کا اعلان کرچکا ہے اور کچھ دن پہلے پکڑی جانے والی ” انصار الشریعہ” نامی تنظیم کے ڈانڈے بھی الطاف حسین سے مل رہے ہیں۔

یہاں پاکستان کے خلاف ملا اور ملحد کا اتحاد ایک بار پھر دیکھا جا سکتا ہے ۔۔۔ 🙂

انڈیا سے نیوکلئر مواد کی چوری پر پچھلے دس سال سے پاکستان کی منتخب جمہوری حکومتیں مسلسل خاموش ہیں۔ لیکن مزید خاموشی اب مہلک ہوگی۔ پاکستان کے سفارتی حلقے ایسی کسی ممکنہ چال سے عالمی برادر کو خبردار کریں۔

انڈیا کو پیغام دیا جائے کہ ایسی کوئی دہشت گردی پاکستان کے اندر ہوئی تو اسے انڈیا کا پاکستان پر نیوکلئر حملہ سمجھا جائیگا جسکے جواب میں انڈیا پر پوری قوت سے ایٹمی حملہ کیا جائیگا!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here