بلکہ 1994 میں حافظ سعید امریکہ میں اسلام پر لیچکر دیا کرتا تھا۔ امریکہ نے انڈیا کے دباؤ پر 2012ء میں حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دیا

انڈیا کا دعوی ہے کہ پارلیمنٹ پر حملے، سمجھوتہ ایکسپریس اور بمبئی حملوں میں حافظ سعید ملوث ہے۔ جسکی بنیاد پر انڈیا نے اسکو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ جبکہ ان تینوں دہشت گردانہ کاروائیوں میں انڈیا کی اپنی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے شواہد پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔ جو حافظ سعید پر لگائے جانے والے الزامات سے زیادہ مضبوط ہیں۔

0
1233

حافظ سعید کے خلاف پاکستان کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ 

حافظ سعید کے خلاف انڈیا کے پاس بھی کوئی ثبوت موجود نہیں اور پچھلے 17 سال میں پاکستان کے مسلسل اصرار پر بھی انڈیا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ 

حافظ سعید پر امریکہ کے خلاف یا افغان جہاد کو سپورٹ کرنے کا بھی کوئی الزام نہیں ہے۔ بلکہ 1994 میں حافظ سعید امریکہ میں اسلام پر لیچکر دیا کرتا تھا۔ امریکہ نے انڈیا کے دباؤ پر 2012ء میں حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دیا۔

کشمیر جہاد کے حوالے سے حافظ سعید کا بیان آن ریکارڈ ہے کہ ” جہاد کا حق صرف ریاست کو ہے اور پاک فوج اور پاکستان کی ریاست کشمیریوں کے لیے جو کچھ کر رہی ہے یہی جہاد ہے” ۔۔

حافظ سعید القاعدہ کے چند دہشت گردوں کو پکڑنے میں پاکستان کی مدد بھی کر چکا ہے۔

حافظ سعید کئی عالمی دہشت گرد تنظیموں کی ہٹ لسٹ پر ہے۔

انڈیا کا دعوی ہے کہ پارلیمنٹ پر حملے، سمجھوتہ ایکسپریس اور بمبئی حملوں میں حافظ سعید ملوث ہے۔ جسکی بنیاد پر انڈیا نے اسکو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ جبکہ ان تینوں دہشت گردانہ کاروائیوں میں انڈیا کی اپنی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے شواہد پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔ جو حافظ سعید پر لگائے جانے والے الزامات سے زیادہ مضبوط ہیں۔

حافظ سعید کے خلاف اگر کوئی چیز ثابت شدہ ہے تو وہ اس کے ریلیف آپریشنز ہیں جو قدرتی آفات یا حادثات کے موقع پر نظر آتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان کے مسخرے وزیر خارجہ نے کس بنیاد پر اقوام عالم کے سامنے حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دیا ؟؟؟

میں پھر دہراتا ہوں کہ حافظ سعید سے اصل شکایت صرف اور صرف انڈیا کو ہے تو اس معاملے میں ہمارے جگت باز وزیر خارجہ نے کس کے کہنے پر انڈیا کو خوش کیا؟؟

یقیناً کسی انتہائی ” نااہل ” شخص کی فرمائش ہوگی!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here