بلوچستان۔. عالمی طاقتوں کا ایجنڈا کیا ہے

0
435

بزرگ بلوچ رہنما سردار عطاء اللہ مینگل نے چند سال پہلے بلوچ نوجوانوں سے ملاقات کے دوران ایک پتے کی بات کی تھی۔ کہا ’’آزادی حاصل کرنا آسان ہے لیکن ان پڑوسیوں اور عالمی طاقتوں کے عزائم کے مقابلے میں اسے سنبھال کر رکھنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے‘‘۔ دنیا بھر کے بلوچوں میں سے ساٹھ فیصد بلوچ جو پاکستان میں رہتے ہیں ان کی اکثریت اس حقیقت سے واقف ہے کہ اس مملکت پاکستان کے باہر جو بلوچ ایران اور افغانستان میں آباد ہیں وہ کس قدر بدترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور اگر وہ ایک دن لڑ کے پاکستان سے علیحدہ ہو بھی گئے تو یہ پڑوسی ممالک گِدھوں کی طرح منڈلاتے آئیں گے اور بھیڑیوں کی طرح ان کی سرزمین پر قابض ہو جائیں گے۔ سردار عطاء اللہ مینگل کا یہ بیان نواب اکبر بگٹی کے سانحے کے تھوڑی دیر بعد کا ہے۔ اس زمانے میں بھارت نے افغانستان اور ایران میں ابھی اپنی نئی حکمت عملی کے حساب سے کام شروع کیا ہی تھا۔افغانستان میں قونصل خانے کھل رہے تھے اور ایران میں زاہدان کے بھارتی قونصل خانے کی سرگرمیاں چاہ بہار کی بندرگاہ تک پھیل گئی تھیں۔ یہ وہی بندرگاہ ہے جہاں بھارتی ’’را‘‘ کا حاضر سروس جاسوس کلبھوشن یادیو تعینات تھا۔ چاہ بہار سے سمندر کے ساتھ ساتھ ریتلے ٹیلوں کے درمیان آپ سڑک پر چند کلو میٹر سفر کریں تو پاکستان کی سرحد آ جاتی ہے۔ یہ علاقہ بے آباد بھی ہے اور بے آب و گیاہ بھی۔ یہی صورت حال پورے مکران کی ہے جس کا ایک طویل بارڈر ایران کے ساتھ منسلک ہے۔ اس کے بعد یہ سرحد خاران اور چاغی کے اضلاع کے ساتھ چلی جاتی ہے۔ دونوں طرف بلوچ قبائل آباد ہیں۔ قبیلہ پاکستان میں ہے تو سردار ایران میں، سردار پاکستان میں تو قبیلہ ایران میں۔ یہ تقسیم انگریز کی آمد سے پہلے نہ تھی۔وہ بیس لاکھ بلوچ جو آجکل ایران میں آباد ہیں، ان کے علاقے 21 جنوری 1929ء کو ایرانی بادشاہ رضا شاہ پہلوی کے دور میں ایران کا حصہ بنے۔ میر دوست محمد باراک زئی اس وقت ایرانی شہر، چاہ بہار، نک شہر، سرباز، زاہدان اور کاش پر مشتمل مغربی بلوچستان کی آزاد ریاست کا سربراہ تھا۔ یہ علاقہ میر بہرام خان باراک زئی کے زیر حکومت ایک خود مختار علاقہ تھا جس پر1915ء میں انگریزوں نے حملہ کیا اور شکست کھائی۔ بہرام خان کے مرنے کے بعد جب دوست محمد سربراہ بنا تو اس سے پہلے خطے میں ایک تبدیلی آ چکی تھی۔ انگریزوں کی مدد سے ایران میں رضاشاہ پہلوی نے قاچار خاندان کا تختہ الٹ کر پہلوی حکومت قائم کر لی تھی۔ انگریز نے رضا شاہ پہلوی کو بلوچ علاقے پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا اور اس نے یکم اگست 1928ء کو حملہ کر کے چھ ماہ کی جنگ کے بعد اس علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اس دن سے لے کر آج تک ان علاقوں میں بلوچوں کی حیثیت بالادست نہیں ہوسکی۔اس ایرانی بلوچستان میں جہاں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ہیں اور سونے اور تانبے کی کانیں موجود ہیں، وہاں کی فی کس آمدنی ایران میں سب سے کم ہے اور عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ تعلیم زیادہ نہیں ہے۔ وہ کھیتی باڑی اور ماہی گیری پر گزارا کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ پاکستان سے کپڑا، ماچسیں اور اونٹ وغیرہ اسمگل کرتے ہیں۔ سرکاری نوکریوں میں نہ ہونے کے برابر ہیں اور سیاسی نمائندگی تو ان کی بالکل صفر ہے۔پاکستان میں رہنے والے وہ بلوچ جو جیوانی، مند، ماشخیل، گرک، گراوک، تالاب، تفتان اور رباط جیسے سرحدی علاقوں میں رہتے ہیں، انھیں سرحد پار اپنے ہم قبیلہ بلوچوں کی حالت کا بخوبی علم ہے۔ انھیں معلوم ہے سیستان بلوچستان کا گورنر جسے استندار کہتے ہیں، ہمیشہ ایرانی النسل ہو گا، فرمان دار جو کمشنر کی سطح کا افسر ہے اور میر زبان جو ڈپٹی کمشنر کے سطح کا افسر ہے ، یہ بھی گزشتہ نوے سالوں سے ایرانی النسل ہی مقرر ہوتے چلے آئے ہیں۔ کسی بلوچ کو شاید یہ خواب بھی دکھائی نہیں دیتے کہ وہ ’’گرمک‘‘ یعنی کسٹم کا ایک معمولی سپاہی ہی بن سکتا ہے۔چاہ بہار کی بندر گاہ جو بھارتی سرمایہ سے بنائی گئی اور وہاں سے جانے والی وہ سڑک جو دلآرام اور زرنج تک جاتی ہے، وہاں بلوچ مزدور تو ہو سکتے ہیں، عہدیدار نہیں۔ غربت سے تنگ آئے لوگوں نے اپنے پاکستانی ہم قبیلہ افراد سے مل کر اسمگلنگ کا پیشہ اختیار کیا۔ ایرانی بارڈر کے ساتھ ساتھ پٹرول پمپ قائم ہیں۔ بیچارا بلوچ ایک گدھا گاڑی پر چھوٹی سی ٹینکی رکھ کر اس میں پٹرول ڈلواتا ہے، پھر اسے یا تو کسی پاکستانی بھائی کو تھوڑے منافع پر بیچ آتا ہے یا پھر اگر اس کا ٹینکر والوں سے رابطہ ہے تو انھیں فروخت کر دیتا ہے۔ اسمگلنگ جب بڑے پیمانے پر شروع ہو جائے تو منشیات تک جا پہنچتی ہے۔ چاغی، خاران، پنجگور اور کیچ کے سرحدی اضلاع سے ایرانی بلوچستان کی ان غیر معروف شاہراہوں کے راستے منشیات کی اسمگلنگ کا دھندا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں بھی منشیات کا استعمال بڑھتا چلا جا رہا ہے۔اس وقت اس آٹھ کروڑ کی آبادی کے ملک ایران میں بائیس لاکھ منشیات کے عادی ہیں جن میں تیرہ لاکھ تو باقاعدہ اسپتالوں میں علاج کرا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران ہر سال 140 میٹرک ٹن منشیات پکڑتا ہے، مگر کہا جاتا ہے کہ یہ سمگل ہونے والی منشیات کا صرف 23 فیصد ہے۔ افغانستان کی سرحد سے ایران ترکی سرحد تک پہنچتے پہنچتے منشیات کی قیمت میں اسقدر اضافہ ہو جاتا ہے کہ ہر سال اس سرحد پر سمگلر ساٹھ کروڑ ڈالر کماتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ کاروبار ایرانی اہلکاروں کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں۔ آپ سیستان بلوچستان میں گھومیں، آپ کو ایک عام شخص بھی یہ کہے گا، سمگلنگ کا دھندہ تو بڑے بڑے ایرانی بھی کرتے ہیں لیکن سخت ترین سزائیں غریبوں کو دی جاتی ہیں۔ 2005ء سے 2015ء تک 73 کم سن لڑکوں کو منشیات سمگلنگ کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔بلوچ کسی محفل، سرکاری دفتر یا تقریب میں اپنی زبان نہیں بولتے۔ گور گیج قبیلے کا سربراہ ایران میں ہوتا ہے۔ ایک سرکاری ضیافت میں چاغی سے اس کے قبیلے کا رکن تحصیلدار عمر اس سے ملنے گیا۔ اس نے سردار سے بلوچی میں حال پوچھا، اس نے فارسی میں جواب دیا، دوسری دفعہ پوچھا، اس نے پھر فارسی میں جواب دیا، اس نے کہا تم کیسے بلوچ ہو کہ بلوچی میں جواب نہیں دے رہے، سردار نے کہا کہ اگر میں نے یہاں بلوچی بولنا شروع کی تو یہ لوگ مجھے محفل سے اٹھا دیں گے۔ ایرانی النسل ہونے کی برتری اور بلوچوں کی حالت زار کا پاکستان کے ان تمام بلوچوں کو بخوبی علم ہے جو روزانہ ان سے ملتے ہیں۔ یہی کیفیت افغانستان کے ہلمند صوبے میں بسنے والے بلوچ قبیلوں کی بھی ہے۔ان کے لیے بھی وہاں کے رنگ میں رنگنے کے بغیر زندہ رہنا مشکل ہے۔ پشتون معاشرے کا حصہ بننا پڑتا ہے۔ اب ذرا ایک نظر پاکستان کے مختلف صوبوں میں آباد بلوچوں کی حالت ملاحظہ فرمائیں۔ بلوچ جو بلوچستان سے نکل کر سندھ اور پنجاب کے علاقوں میں آ کر آباد ہوئے، وہ وہاں کی سیاسی، انتظامی، معاشرتی اور معاشی زندگی میں مقامی لوگوں سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔ آصف زرداری سے لے کر جمشید دستی اور لیاقت بلوچ تک ایسے لوگوں کی ایک طویل فہرست ہے جو پاکستانی سیاست میں سرگرم عمل ہیں۔ دنیا بھر میں بلوچ آبادی کو جس طرح تقسیم کیا گیا، ایسی مثالیں جنگ عظیم اول کے بعد بننے والی سیکولر قومی ریاستوں میں بے شمار قوموں کے بارے میں ملتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو قوم دو یا تین ملکوں میں تقسیم ہوتی ہے وہ آزادی کے خواب دیکھنے سے پہلے بار بار سوچتی ہے کہ اس وقت اس کی حالت کیسی ہے اور آزادی کے بعد کہیں اس کا حال اس کبوتر کی طرح تو نہیں ہو جائے گا جو ایک پنجرے سے نکلتا ہے تو تاک میں بیٹھا ہوا بِلّا اسے جھپٹ لیتا ہے۔
————–
بلوچستان میں بسنے والے بلوچ عوام تو اپنے جغرافیائی محل و قوع کی وجہ سے بہت خوش قسمت واقع ہوئے ہیں۔ ایک طویل ساحل جس پر گوادر جیسی اہم ترین گہرے پانیوں کی بندرگاہ واقع ہے۔ ریکوڈک اور سنیدک کی طرح کے سونے اور تانبے کے ذخائر، تیل و گیس کے علاوہ معدنیات کا ایک وسیع خزانہ ان کے علاقے میں موجود ہے۔ سندھ اور پنجاب سے ملانے والی تمام شاہراہیں بلوچ علاقوں سے ہو کر گزرتی ہیں۔بلوچستان میں میں بسنے والے کسی بھی پشتون نے اگر کراچی جانا ہو تو اسے کوئٹہ سے لک پاس کے راستے مستونگ، قلات، خضدار کے بروہی علاقے اور لس بیلہ کے بلوچ علاقے سے گزرنا ہو گا۔ اسی طرح سندھ اور پنجاب جانے کے لیے سبی، جعفر آباد اور نصیر آباد کی جانب سے ایک راستہ، ڈیرہ بگٹی اور کشمور کی طرف سے دوسرا، لورالائی اور بارکھان کی طرف سے تیسرا راستہ ہے اور یہ سب راستے بلوچ قبائل کی سرزمین سے ہو کر گزرتے ہیں۔ بلوچستان کا وہ حصہ جہاں پشتون آباد ہیں اس میں سے چند بلوچ علاقے مثلاً ڈیرہ بگٹی، کوہلو، بارکھان وغیرہ نکال کر باقی سب برٹش بلوچستان تھا۔ یہاں پر انگریز کی براہ راست حکومت قائم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ریلوے کے نظام سے لے کر آب پاشی تک تمام نظام ہائے کارتک انگریز نے یہاں پر ہی قائم کیے۔ کوئٹہ اس کا صدر مقام اور ہیڈکوارٹر تھا۔یہ پشتون علاقہ پاکستان میں بھی ویسے ہی دیگر علاقوں میں گھرا ہوا ہے جیسے افغانستان دیگر ملکوں میں گھرا ہوا ہے اور اسے سمندر تک کوئی راستہ میسر نہیں ہے۔ پشتونوں کے علاقے سے واحد راستہ ژہوب کی جانب سے نکلتا ہے جو انھیں خیبرپختونخوا سے ملاتا ہے۔ بلوچستان میں آباد پشتون قبائل میں انگریز کے تقریباً ایک سو سالہ دور حکومت کی وجہ سے قبائلی نظام خاصا کمزور ہو چکا ہے اور سرداری نام کی تو کوئی چیز اس معاشرے میں باقی ہی نہیں رہ گئی۔ ایک نواب سے جو کاکڑوں کے جوگیزئی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی حیثیت بھی ایک علامت کے طور پر باقی ہے۔ پشتون جو پاکستان میں سرحد کی اس جانب بستے ہیں اور جو سرحد کی دوسری جانب ان کے درمیان مستقل خاندانی، کاروباری اور معاشی رشتے موجود ہیں۔ سرحد کے قریب علاقوں میں افغانستان سے آج بھی لوگ آ کر چھ ماہ کے لیے آباد ہوتے ہیں۔ کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔انھیں یہاں کی زبان میں ’’ششماہی‘‘ کہتے ہیں۔ اسمگلنگ چونکہ بنیادی ذریعہ کاروبار ہے اس لیے اس کاروبار سے منسلک افراد کا ایک بھائی قندھار میں بیٹھا ہو گا تو دوسرا چمن میں، تیسرا کوئٹہ تو چوتھا جاپان یا سنگاپور وغیرہ میں۔ ان کا ایک نیٹ ورک ہے جو دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان کے ساحلوں سے جو سامان افغانستان کے لیے ٹرین یا ٹریک پر روانہ ہوتا ہے اس میں سے کثیر تعداد صرف سرحد پار کرنے کی زحمت کرتی ہے اور پھر واپس پاکستان کی مارکیٹوں میں آ جاتی ہے اور اس سے اس ملک کے ہر شہر کی مارکیٹیں بھری ہوئی ہیں۔ اس سب کے باوجود بلوچستان کا پشتون، افغانستان کے پشتون قبائل سے بالکل مختلف ثقافتی اور انتظامی سانچے کا عادی ہو چکا ہے۔اسے یہاں کورٹ کچہری اور پٹواری تحصیلدار کی عادت ہو چکی ہے اور وہ افغانستان سے آنے والے پشتونوں کو آج بھی جدید تہذیب سے دور کوئی آبادی تصور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چمن کے سرحدی شہر میں جب سردیوں میں افغانستان سے لوگ مزدوری کرنے کے لیے آتے ہیں تو لوگ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ ’’احتیاط کیا کرو، قندھاری لوگ آئے ہوئے ہیں۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے آنے والا افغان مہاجر پاکستان کے نسبتاً جدید ماحول میں تو رچ بس جاتا ہے لیکن پاکستان کا کوئی پشتون وہاں جا کر آباد نہ ہو سکا۔ پاکستان میں لاگو قانون اور افغانستان میں صدیوں سے بادشاہ کی مرضی ہی قانون کا بہت فرق ہے۔ اسی لیے شروع شروع میں جب افغان مہاجر یہاں آئے تو وہ جیل کے نام سے بہت ڈرتے تھے۔ان کے نزدیک جیل جانے کا مطلب یہ تھا کہ اب یہ ساری عمر وہیں گزارے گا۔ ہاں اگر حاکم کو اس پر رحم آ جائے یا پھر حاکم بدل جائے اور وہ قیدیوں کی رہائی کا حکم دے دے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کا پشتون بھی اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اس کا پاکستان کے بغیر گزارہ نہیں ہے۔ زیارت، پشین، لورالائی، ژہوب اور ہرنائی کے پھل اسی ملک کی شاہراہوں کے ذریعے دنیا بھر میں فروخت کیے جا سکتے ہیں۔ ویسے بھی اب تو پاکستان کا کوئی بھی بڑا شہر ایسا نہیں جس میں پشتونوں کی ایک کثیر تعداد موجود نہ ہو۔ لاہور شہر کے قدیمی اندرون لاہور میں تقریباً چالیس فیصد پشتون آباد ہیں کیونکہ بادامی باغ کے بس اور ٹرک اڈے سے ان کا کاروبار وابستہ ہے۔ کراچی، فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان جیسے شہروں میں ان کی موجودگی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سے تین دہائیاں قبل پشتونستان کا جو نعرہ زور و شور سے لگایا جاتا تھا اب دم توڑ چکا ہے۔ خیبرپختونخوا جو اس کا مرکز تھا اس میں بھی اب اس نعرے کی گونج تک سنائی نہیں دیتی۔بلوچستان کے پشتون اور بلوچ قبائل پاکستان کی دیگر اقوام پنجابی یا سندھیوں سے کہیں بہتر طور پر یہ حقیقت جانتے ہیں کہ وہ اپنے پڑوس افغانستان اور ایران سے کس قدر بہتر اور باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں قوم پرست نعرے بھی حکومتی الیکشن کے لیے لگتے ہیں۔ ایک الیکشن میں قوم پرست جیتتے ہیں اور دوسرے الیکشن میں ان کا صفایا ہو جاتا ہے۔دوسری جانب گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے اسٹیبلشمنٹ نے بلوچستان کے علاقے کو ایک صوبہ نہیں بلکہ ایک سرحدی اور خصوصی اہمیت کا حامل ”Strategic” علاقہ سمجھا ہے۔ اسی لیے انگریز سے لے کر آج تک ان کی خواہش یہ رہی ہے کہ چونکہ اس علاقے سے ہم نے اپنے دفاع کو مضبوط بنانا ہے اس لیے یہاں پر حکومت ہمارے وفادار لوگوں کی ہونا چاہیے۔ انگریز نے وفاداری کی شرطیں اتنی سخت اور کڑی نہیں رکھی تھیں جتنی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے رکھ دی ہیں۔ وہاں قبائل کی آزادی اور نیم خود مختاری موجود تھی لیکن یہاں تو مکمل تابعداری کی شرط رکھ دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ قبائل کے اندر جو ذاتی دشمنیاں ہوتی ہیں، اسٹیبلشمنٹ ان میں اپنے وفادار ڈھونڈتی ہے۔انھیں پالتی ہے اور جو بھی ذرا سر اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اسے اسی کے مخالفین سے زیر کراتی ہے۔ وہ اپنی قبائل دشمنی میں الجھ کر رہ جاتا ہے اور یوں آپ اپنی مرضی کے شخص کو یہاں کے سیاہ سفید کا مالک بنا دیتے ہیں۔ یہ بیک وقت ایک گروہ کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ سب سے خفیہ آشنائیاں رکھی ہوتی ہیں۔ اسی لیے لوگ اس ’’چالباز حسینہ‘‘ جسے اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں کے پرفریب جال میں آتے رہتے ہیں۔ نواب اکبر بگٹی کا سانحہ انھیں پالیسیوں کی واضح مثال ہے۔ ان کے بعد وہ قبیلہ جو ایک نواب کے زیر سایہ متحد تھا، آج مکمل طور پر بٹ چکا ہے۔ ان کی موت کے بعد ’’مسوری‘‘ اور ’’کلپر‘‘ قبیلوں کے بگٹی سرکاری اقتدار پر بھی براجمان ہیں اور قبائلی اقتدار کی راہداریوں میں بھی جلوہ گر۔
——————-بلوچستان کے انتظام و انصرام کو انگزیز دور سے ہی برصغیر کے باقی خطوں سے بالکل علیحدہ طرز پر استوار کیا گیا تھا۔ ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر اور پولیٹیکل ایجنٹ رابرٹ سنڈیمن نے اس وقت اپنی مشہور ’’فاروڈ پالیسی‘‘ پر حکومت برطانیہ سے منظوری کے بعد عمل درآمد کا آغاز کیا جب انگریز اس خطے کے بلوچ قبائل سے جنگ میں بری طرح شکست کھا رہا تھا۔ سندھ اور پنجاب فتح ہو چکے تھے لیکن زار روس کے مقابلے میں خود کو مستحکم کرنے کے لیے انگریز کو بلوچستان کا خطہ بھی درکار تھا۔ یہاں کے سنگلاخ پہاڑ ایک فصیل کا کام دے سکتے تھے۔اسی لیے اس نے سبی کے اردگرد شروع ہونے والے پہاڑی سلسلوں میں آباد بلوچ قبائل سے جنگ شروع کر دی۔ آغاز میں شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تو سنڈیمن نے ایک تجویز پیش کی کہ اس علاقے کے بلوچ اور پشتوئی قبائل کو ان کے قدیم رواج کے مطابق زندگی گزارنے دی جائے‘ ان کی قبائلی خود مختاری کا احترام کیا جائے‘ یہاں کے قبائلی دستور کو انگزیزی قانون کا حصہ بنا دیا جا ئے اور علاقے میں امن عام اور انصاف کی ذمے داری سرداروں کو دے دی جائے۔ اس کے بدلے میں سرداروں کو تاج برطانیہ کا وفادار ہونے پر قائل کر لیا جائے۔اسی کی کوکھ سے لیویز سسٹم نے جنم لیا۔ انگریز قبیلے کے سردار کو لیویز کے سپاہی رکھنے کے لیے ڈپٹی کمشنر یا پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے رقم فراہم کرتا اور وہ بدلے میں انگریز کو ایک پرامن خطہ عطا کرتے۔ یہاں حالات پرامن چاہیے تھے کہ سرحدی علاقہ تھا اور سردار وفادار چاہیے تھے کیونکہ یہاں ذرا سا بھی اختلاف یا احتجاج برداشت نہیں ہو سکتا تھا۔ قبیلے کی قوت نافذہ نے انگریز کو یہاں سو سال تک بے خوف و خطر حکمران رکھا۔ خان آف قلات ہو یا کوئی اور نواب یا سردار سب انگریز سے ’’خانہ نشینی‘‘ الاؤنس وصول کرتے تھے جس کا مطلب ہے کہ تم گھر میں بیٹھے رہو اور وظیفہ کھاؤ۔البتہ انگریز ان سرداروں کے علاوہ بھی لوگوں میں اپنے اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے کے لیے دوستیاں پالتا اور ایجنٹ بناتا۔ لیکن اس نے قبیلے کی روایات کے مقابلے میں کسی غیر سردار کو سردار بنانے کی کوشش نہیں کی۔ ایک دو ناکام کوششوں کے بعد اس نے یہ سب بھی ترک کر دیا۔ البتہ اس نے ان سرداروں کے ذریعے افغانستان میں خفیہ طور پر اپنے ایجنٹ پھلائے ہوئے تھے جو بارڈر کے اس پار واقع روس کے افغانوں کی خبر دیتے رہتے تھے۔پاکستان نے اس انتظام کو ورثے میں لیا تھا۔ جہاں قبائل سرداری نظام اور انتظامیہ کا گٹھ جوڑ انگریز کا تحفہ ہے وہیں افغانستان سے مسلسل دشمنی بھی انگریز ہی کا تحفہ ہے۔ تمام سرحدی تنازعات اسی دور کی پیداوار ہیں۔ بلوچستان اپنے علاقائی اور سرحدی اہمیت کی وجہ سے ہر دور میں عالمی طاقتوں کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل خطہ رہاہے۔ 1917ء میں جب روس میں کمیونسٹ انقلاب آیا تو اسے دنیا بھر میں پھیلانے کے لیے 1920ء میں آذربائیجان جو اس وقت سوویت یونین کا حصہ تھا‘ اس کے شہر باکو میں کمیونسٹ تنظیموں کا عالمی اجلاس منعقد ہوا۔اس میں بلوچستان کے قوم پرست رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ اس کانفرنس میں یہ طے ہوا تھا سوویت یونین ہندوستان میں قومیتوں کے حقوق کا نعرہ بلند کر کے کمیونسٹ انقلاب کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک سب سے زیادہ انقلابی جدوجہد کی داستانیں اس خطے میں رقم ہوئیں۔ افغانستان روس کا ہمیشہ سے حلیف رہا ہے‘ اور پاکستان امریکا کا حواری۔ 1979ء میں جب روسی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو بلوچستان کی سرزمین بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکی۔ اس خطے میں وہ سب کھیل کھیلا گیا جس نے روس کو شکست سے دوچار کیا اور گوادر جس کے خواب کبھی روسی رہنما دیکھا کرتے تھے کریملین کی گلیوں میں ناکام و نامراد لوٹ گئے۔افغانستان پہلے مجاہدین اور پھر طالبان کے زیر اثر رہا۔ پہلے 8 سال قتل و غارت اور اگلے پانچ سال مثالی امن و امان۔ اسی ادھیڑ بن میں امریکا دہشتگردی ختم کرتے وہاں آ گھسا۔ پاکستان اس جنگ میں اس کا حلیف تھا لیکن امریکا نے ایک بے وفا معشوق کی طرح دوستیاں اور آشنائیاں ہمارے دشمنوں سے رکھیں۔ بھارت امریکی سائے میں افغانستان میں مستحکم ہوا اور اس کے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے دلآرام اور زرنج تک ایک سڑک بنا ڈالی۔ اس سب کا مقصد صرف اور صرف ایک تھا کہ بلوچستان کے اہم ترین خطے کا متبادل پیش کر کے اس خطے کو پسماندگی‘ جہالت اور خونریزی کے سمندر میں دھکیل دینا۔ جس دن سے گوادر کے ساحل پر بندگاہ تعمیر کرنے کی مشینری پہنچی کم از کم سات ایسے ممالک تھے جنہوں نے بلوچستان کی بدامنی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کا بنیادی مقصد چین کو اس بندرگاہ کی دسترس رکھنے سے روکنا تھا بلکہ ایسا کرنے سے وہ چین کی معیشت کو الٹا گھومنے پر مجبور کر سکتے تھے۔ اور ان سب کا سرپرست ا مریکہ جس کے اشاروں پر یہ سب ناچتے ہیں۔اس لیے گوادر کے راستے چین کی تجارت ان تمام بڑے بڑے تجارتی مراکز کی موت ہے جو اس خطے میں تیزی سے بلند و بالا عمارتوں کا جنگل بنے ہیں۔ بھارت‘ امریکا اور ایران گٹھ جوڑ اس خطے میں بالادستی بھی چاہتا ہے اور چین کی معاشی ناکہ بندی بھی۔ دوسری جانب چین کے لیے یہ زندگی موت کا مسئلہ ہے۔ اگر یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوتا تو چین کی معیشت کا بلبلہ ایسے پھٹے گا کہ رہے نام اللہ کا۔ عالمی طاقتوں نے اس معاشی راہداری کو روکنے کے لیے اس کے دونوں جانب فتنوں اور شرارتوں کا جال پھیلایا ہے۔ کشمیریوں کی پاکستان سے الحاق کی جدوجہد کو ایک آزاد اور خودمختار کشمیر کی طرف اس کار خ موڑا جا رہا ہے۔حیران کن بات ہے کہ بھارت اور پاکستان کی تمام این جی اوز اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو بھی اچانک کشمیر کی یاد آ گئی ہے۔ وہ اسی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں کہ اگر کشمیر کو اقوام متحدہ کے کنٹرول کے لیے دس سال کا وقت دے دیا جائے تو ظاہر ہے یہ امریکا کے کنٹرول میں ہو گا۔ یوں گلگت بلتستان سے جموں تک ہر جگہ خود بخود امریکیوں کو رسائی مل جائے گی اور چین کا گھیرا تنگ۔ ایسا ہوا تو بلوچستان چاہے جو کچھ کرے معاشی راہداری نہیں بن سکے گی۔ اور اگر کشمیری پاکستان سے ملنے پر ڈٹے رہے تو آزاد بلوچستان اور پھر گوادر کو اگلے کئی سالوں تک کھنڈر بنانا۔ اس کے لیے آزاد بلوچستان ضروری ہے لیکن یہ آزاد بلوچستان بلوچوں کے لیے نہیں ہو گا‘ امریکا اور اس کے حواریوں کے لیے ہو گا۔حالات کی خرابی دخل اندازی کا موقع دے گی اور پھر رہے نام اللہ کا۔ مگر اس سے پہلے کہ بلوچ اور پشتون پاکستان سے علیحدہ ہوئے تو ان کا حشر یقینا اسے پرندے جیسا ہو گا جس کی تاک میں بلے‘ بھیڑیئے اور کتے ہوتے ہیں کہ پرندہ گھونسلے سے گرے اور وہ اسے دبوچ لیں۔ ایجنڈا صرف ایک ہے بلوچستان کو انگولا کی طرح پسماندہ اور خون خرابے میں گم رکھا جائے تا کہ یہاں پسماندگی بڑھے‘ تحریکیں چلیں اور ایک دن یہ پرندہ ان کے ہاتھ لگ جائے۔ یہ ایجنڈا خوب ہے لیکن اس کی کوکھ سے یہ خطہ ایسی جنگ کی طرف نکل جائے گا جس کے نتیجے میں بہت سے نقشے بدلیں اور بہت سی لکیریں مٹ جائیں گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here