بلاشبہ مولانا فضل الرحمن اور اس کے پیروکار لاکھوں علماء ” صاحب بصیرت ” ہیں۔ لیکن ایسی بصیرت جو ” بصارت ” سے محروم ہے۔

0
1185

بصارت سے محروم بصیرت ۔۔۔۔ ؟

مولانا فضل الرحمن صاحب سے نواز شریف کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ” اسکا فیصلہ عدالت کرے گی میں کون ہوتا ہوں رائے دینے والا ” ۔۔۔ 

لیکن جب عمران خان کے بارے میں سوال کیا گیا تو تڑ سے جواب دیا کہ ۔۔ ” وہ تو یہودی ایجنٹ ہے” ۔۔ 

ثبوت طلب کیا تو ارشاد ہوا کہ ۔۔ ” یہ میں اپنے تجربے اور بصیرت کی بنا پر کہہ رہا ہوں ” ۔۔۔۔۔۔۔

یہ بصیرت ہے کیا چیز؟ ۔۔۔
اس کو سمجھنے کے لیے ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔

نواز شریف کو ہی دیکھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملک میں سودی نظام کو مستحکم کرنا اور سود پر پابندی کے خلاف عدالت جانا۔

گستاخان رسول کی پشت پناہی

ممتازقادری کی پھانسی پر اچانک عمل درآمد لیکن گستاخان رسول کی پھانسیوں کو روکنا۔

قبول اسلام پر پابندی عائد کرنا

ختم نبوت پر حملہ

لبرل پاکستان بنانے کا اعلان

غداری کے الزمات

اسرائیل کے ساتھ کاروبار

انڈیا کے ساتھ کاروبار

پاکستانی ہونے کے باؤجود سارا خاندان، کاروبار، غمی خوشی حتی کہ علاج بھی لندن میں

پارلیمنٹ کے فلور پر اور تقریروں میں جھوٹ اور وعدہ خلافی

مال مسروقہ کی موجودگی کا اعتراف لیکن صحت جرم سے انکار

کرپشن سے متعلق پورے خاندان کی تضاد بیانی

50 ہزار پاکستانیوں کے قتل اجیت ڈاؤول کی اپنے گھر میں دعوت

میڈیا پر بے حیائی کا طوفان

تبلیغی جماعت کی تعلیمی اداروں میں داخلے پر پابندی

نصاب تعلیم سے اسلامی مضامین کو ہٹانا

اب یہ سب دیکھ کر ہم جیسے کوتاہ اندیش فوراً نواز شریف کو غدار، ملک دشمن اور انڈیا یا اسرائیل کا ایجنٹ کہیں گے۔ یہ ہوتی ہے بصارت۔

لیکن جب اسی نوازشریف بلکہ اسکی بیٹی کے جھنڈے تلے مولانا فضل الرحمن کھڑے ہوکر اعلان کریں کہ ” نواز شریف کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکتا اور نواز شریف پاکستان کے لیے ضروری ہے ” ۔۔۔ تو یہ بصیرت کہلائے گی۔

اس طرح عمران خان کی بات کی جائے تو ۔۔۔۔۔۔

کے پی کے میں مقامی سطح پر سود پر پابندی

ڈورے مون نامی بے حیاکارٹون اور انڈین چینلز پر پابندی

مدارس کی فنڈنگ

ملاوؤں کے لیے وظائف مقرر کرنا

نصاب میں اسلامی مضامین کی شمولیت

سکولوں میں قرآن لازم

نیٹو سپلائی روکنا

ڈرون حملوں کے خلاف وزیرستان جاکر احتجاج کرنا

کرپشن کے خلاف پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اور کامیاب جنگ

یہودی عورت کو مسلمان کر کے اس سے شادی کرنا اور پاکستان میں رہنے پر مجبور کرنا۔

ہم جیسی سطحی نظر رکھنے والوں کو لگے گا کہ یہ تو اسلام کی بڑی خدمت کر رہا ہے۔ لیکن مولانا فضل الرحمن صاحب سے پوچھیں تو ” عمران خان پکا یہودی ایجنٹ ہے” ۔۔ یہی بصیرت ہے۔۔۔۔

اسی بصیرت کے تحت انہوں نے ۔۔۔۔۔۔

قیام پاکستان کی مخالف کی
ایوب اور ضیاء کی مخالفت کی
بھٹو، بے نظیر، زرداری اور نواز شریف کی حمایت کی
کالاباغ ڈیم کی مخالفت کی
دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کی
افغان مہاجرین کی واپسی کی مخالف کر رہے ہیں
ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کی مخالفت کر رہے ہیں
اور فاٹا کے ” کے پی کے” میں انضمام کی مخالفت فرما رہے ہیں

بلاشبہ مولانا فضل الرحمن اور اس کے پیروکار لاکھوں علماء ” صاحب بصیرت ” ہیں۔ لیکن ایسی بصیرت جو ” بصارت ” سے محروم ہے۔

تحریر شاہد خان

نوٹ ۔۔۔ اگر آپ کو اچھے اور معلوماتی مضامین پڑھنے کا شوق ہے تو کمنٹ میں موجود لنک پر کلک کیجیے اور ایپ انسٹال کیجیے!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here