بغیر کسی قطعی دلیل کے یزید کو معصوم قرار دینے والوں کو اللہ سے ڈرنا چاہئے۔

ان کو بھی اللہ سے ڈرنا چاہئے جو اس سانحے کو جواز بنا کر صحابہ کرام پر تبرا کرتے ہیں۔ خاص کر حضرت امیر معاویہ (ر) پر۔

0
1155

ایک چتکبرے کتے(شمر) کے ہاتھوں نواسہ رسولﷺ کا قتل ایک ایسا ساںحہ تھا جس کے وقوع پزیر ہونے سے پہلے حضورﷺ اس پر روئے تھے۔ 

اس پر کون غمزدہ نہ ہوگا۔۔۔۔۔۔ !

بغیر کسی قطعی دلیل کے یزید کو معصوم قرار دینے والوں کو اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ 
اس معاملے میں ضعیف روایات کا جواز پیش کرنے والوں میں سے اکثریت انہی کی ہے جو ایسے ہی ضعیف روایات کی بنا پر خوارج کو حق قرار دیتے ہیں۔

ان کو بھی اللہ سے ڈرنا چاہئے جو اس سانحے کو جواز بنا کر صحابہ کرام پر تبرا کرتے ہیں۔ خاص کر حضرت امیر معاویہ (ر) پر۔

مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ اس واقعے پر ہونے والے مباحثوں کے نتیجے میں کون سی “خیر” مقصود ہوتی ہے؟
کیا واقعی یہ ممکن ہے کہ اس ” ہوچکے سانحے” کے حوالے کوئی ایک مکتبہ فکر کسی دوسرے کی رائے تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجائے؟

شائد نہیں ۔۔۔۔ !

بلفرض اگر کوئی دو گروہ یہ طے کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں کہ ” یوں نہیں یوں ہوا تھا” تو کیا حاصل ہوگا؟؟

اس سانحے نے اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جو یقیناً اس سانحے سے بھی بڑا سانحہ ہے۔ امت مستقل بنیادوں پر تقسیم ہوچکی ہے۔

اسلام کو نقصان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسلام جس کے لیے خود حضورﷺ کا خون بہا!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here