“بغیر کسی سابقہ مثال کے کل کائنات کی ایجاد کرنے والا

0
486
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 🌷اللہ عز وجل کے نام اور ان کے معانی🌷

Next Name –      –  Previous Name

7-8: {الخالق، الخلاق}:

معنی
“بغیر کسی سابقہ مثال کے کل کائنات کی ایجاد کرنے والا، بغیر کسی نقل ونمونہ کے تمام انفس وآفاق کا بنانے والا، بغیر کسی معاون ومددگار کے ساری مخلوقات کا پیدا کرنے والا، ہر چیز کو وجود بخشنے والا، تمام موجودات کا اندازہ (مقرر) کرنے والا۔۔۔”

نوٹ
 “خالق” اسم فاعل کا صیغہ ہے اور “خلاق” اسم مبالغہ کا اور یہ دونوں لفظ “خلق” سے مشتق ہیں۔
 اور “خلق” کے دو معنی ہوتے ہیں : 1- کسی چیز کو بغیر کسی سابقہ مثال کے ایجاد کرنا۔
درج ذیل آیتوں میں لفظ “خلق” اسی معنی میں استعمال ہوا ہے:

{إنا كل شئ خلقناه بقدر}
[سورة القمر:49]
“بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔”
{وخلق كل شئ فقدره تقديرا}[سورة الفرقان:2]
“اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کا پورا پورا اندازہ (مقرر) کیا۔”

لفظ “خلق” کا استعمال اس معنی میں اللہ رب العالمین کے لئے خاص ہے، اس کے سوا کسی اور کے لئے جائز وروا نہیں جیساکہ اللہ عز وجل کا فرمان ہے:
{هل من خالق غير الله…} [سورة فاطر:3]
“کیا کوئی اور خالق ہے اللہ کے سوا۔۔۔؟”  2- اندازہ کرنا، گھڑنا۔
لفظ “خلق” کا استعمال اس معنی میں درج ذیل آیتوں میں کیا گیا ہے:
{…وتخلقون إفكا} [سورة العنكبوت:17]
“۔۔۔اور تم جھوٹا اندازہ کرتے ہو یا جھوٹ گھڑتے ہو۔”
{…فتبارك الله أحسن الخالقين}
[سورة المؤمنون:14]
“با برکت ہے اللہ جو سب سے بہتر بنانے والا ہے۔”
 اللہ کے سوا کسی اور پر لفظ “خالق” کا اطلاق بلا کسی قید کے جائز نہیں ہے۔
 صفت “خلق” اللہ تبارک وتعالی کی “فعلی صفت” ہے۔
 اللہ عز وجل اپنی اس صفت (خلق) کی بنیاد پر اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{يا أيها الناس اعبدوا ربكم الذي خلقكم والذين من قبلكم لعلكم تتقون……فلا تجعلوا لله أندادا وأنتم تعلمون} [سورة البقرة:21-22]
“اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم بچ جائو۔۔۔۔۔۔پس جاننے کے باوجود اللہ کے شریک مقرر نہ کرو۔”
 جو لوگ اللہ تعالی کو خالق نہیں مانتے وہ کافر ہیں اور جو اس کو خالق تو مانتے ہیں لیکن معبود نہیں مانتے وہ بھی کافر ہیں اور جو اس کے سوا کسی اور کو بھی خالق یا معبود (برحق) مانتے ہیں وہ مشرک ہیں اور ہر مشرک کافر ہوتا ہے۔
 قرآن مجید کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب اور مکہ کے بیشتر لوگ اللہ تعالی کو خالق وغیرہ تو مانتے تھے مگر معبود برحق نہیں مانتے تھے اور اسی بنیاد پر وہ کفار ومشرکین ٹھہرے۔ (دیکھئے: سورہ عنکبوت، آیت:61،63، سورہ مومنون، آیت:48-89)
 قرآن مجید میں اللہ عز وجل کا نام “الخالق” (8) بار اور “الخلاق” (2) بار وارد ہوا ہے۔
#مثال:
{هو الله الخالق البارئ المصور له الأسماء الحسنى} [سورة الحشر:24)
“وہی اللہ ہے پیدا کرنے والا وجود بخشنے والا صورت بنانے والا، اسی کے لئے ہیں نہایت اچھے اچھے نام۔”
{إن ربك هو الخلاق العليم} [سورة الحجر:86]
“بے شک تیرا رب ہی ہے پیدا کرنے والا اور جاننے والا۔”

تحریر پاکستانی


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here