برطانیہ کا مشرق وسطی میں تیل کے زخائر کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کا انکشاف

0
233

برطانیہ کی حکومتی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح برطانوی حکومت نے خفیہ طریقے سے مشرق وسطی کے تیل کے ذخائر کو غلط ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے ایٹمی ہتھیاروں سے تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔1949 میں برطانوی صدر ہیری ٹرومین نے نیشنل سیکورٹی کونسل پالیسی این ایس سی 26/2 پر دستخط کیے.

جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح مشرق وسطی کے سوویت حملوں کے دوران ریڈ آرمی کے پہنچنے سے پہلے وسائل اور سہولیات کو تباہ کیا جائے گا۔ ڈینائل اپروچ کے زریعے تیل کی کمپنیوں کے ملازمین کو واشنگٹن کی طرف سے حکم ملنے پر اپنی ہی سہولیات کو تباہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

امریکی حکمت عملی وائٹ ہال این ایس سی 26/2 کے تحت برطانوی حکمت عملی پر تعاون کرنے کے لیے تیل کمپنیوں کے ملازمین کی مدد ائیرفورس اور فوج کے جوانوں کے زریعے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی مگراس کے باوجود برطانیہ کو منصوبے کی عمل درآمد میں دشواریوں کا سامنا تھا۔

دستاویزات کے تحت مشرق وسطی میں برطانوی سلطنت کا اثرورسوخ اور طاقت کمزور پڑ رہی تھی چونکہ برطانوی حکومت عراق اور ایران جیسے ممالک میں پہلے کی طرح تیل کی پیداوار پر اجارہ داری بھی نہیں رکھتے تھے۔ سابقہ حالات میں برطانیہ کی عراق میں سب بڑی پٹرولیم منصوعات پرقبضہ تھا جبکہ حکومت کے بغداد بصرہ اور الند میں زخائر تھے مگر اس کے بعد کی حکومتیں برطانیہ کی ہاتھوں سے نکل رہیں تھیں۔

برطانیہ کے حکام کو خوف تھا کہ ملازمین کو ریاستی تنظیموں میں کام کرنے کی اجازت دینے کا مطلب برطانیہ کے منصوبے کی سب کو آگاہی تھا جس سے کسی بھی ملک کی حکومت کا متفق ہونا ناممکن تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here